سعودی صحافی جمال خاشقجی کی باقیات تلاش کرنے کیلئے ترکی میں دو گھروں کی تلاشی، ان میں سے ایک گھر کس سعودی کا ہے اور اس نے قتل میں ملوث ٹیم کے رکن سے فون پر کیا بات کی تھی؟ تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آ گیا

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی باقیات تلاش کرنے کیلئے ترکی میں دو گھروں کی ...
سعودی صحافی جمال خاشقجی کی باقیات تلاش کرنے کیلئے ترکی میں دو گھروں کی تلاشی، ان میں سے ایک گھر کس سعودی کا ہے اور اس نے قتل میں ملوث ٹیم کے رکن سے فون پر کیا بات کی تھی؟ تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آ گیا

  



انقرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں صحافی کی باقیات کی تلاش کیلئے ترک شہر یالووا میں دو گھروں کی تلاشی لی گئی۔

نجی ٹی وی جیو نیوز نے ترک خبر ایجنسی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جمال خاشقجی کی باقیات کی تلاش کیلئے ترک شہریالووا میں دو گھروں میں سے ایک سعودی تاجر محمد احمد الفوزان کی ملکیت ہے دو گھروں کی تلاشی لی گئی جن میں سے ایک گھر سعودی تاجر محمد احمد الفوزان کی ملکیت ہے ۔ تلاشی کے عمل میں جاسوس کتے اور ڈرونز کی مدد لی گئی۔

رپورٹ کے مطابق تاجر الفوزان نے قتل میں ملوث ٹیم کے ایک رکن سے یکم اکتوبر کو فون پر بات کی تھی اور گفتگو میں ممکنہ طور پر قتل کے بعد خاشقجی کی لاش ٹھکانے لگانے پر بات ہوئی۔ واضح رہے کہ سعودی صحافی کو 2 اکتوبر کو استنبول سعودی قونصلیٹ میں قتل کر کے لاش غائب کر دی گئی تھی ۔

مزید : بین الاقوامی /عرب دنیا