یاسر شاہ کے بعد انگلینڈ اور سری لنکن سپنرز کا ’جادو‘ بھی چل گیا، باہمی کوشش سے ایسا کارنامہ سرانجام دیدیا جو ٹیسٹ کرکٹ میں آج تک نہ ہوا تھا، جان کر آپ بھی حیرت زدہ رہ جائیں گے

یاسر شاہ کے بعد انگلینڈ اور سری لنکن سپنرز کا ’جادو‘ بھی چل گیا، باہمی کوشش ...
یاسر شاہ کے بعد انگلینڈ اور سری لنکن سپنرز کا ’جادو‘ بھی چل گیا، باہمی کوشش سے ایسا کارنامہ سرانجام دیدیا جو ٹیسٹ کرکٹ میں آج تک نہ ہوا تھا، جان کر آپ بھی حیرت زدہ رہ جائیں گے

  



کولمبو (ڈیلی پاکستان آن لائن) انگلینڈ اور سری لنکن سپنرز نے باہمی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں نئی تاریخ رقم کردی اور دونوں ٹیموں کے سپنرز نے سیریز میں مجموعی طور پر 100وکٹیں حاصل کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔

سری لنکا کی میزبانی میں کھیلی گئی تین میچوں کی سیریز میں دونوں ٹیموں کی مجموعی طور پر 111 وکٹیں گریں جن میں سے سپنرز نے 100وکٹیں حاصل کیں۔سیریز میں سری لنکن سپنرز نے 51 اور انگلینڈ کے سپنرز نے 49 وکٹیں حاصل کیں جو انگلش سپنرز کی جانب سے کسی بھی ٹیسٹ سیریز میں حاصل کی جانے والی وکٹوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

سیریز میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر بین فوکس کو مین آف دی سیریز کا ایوارڈ دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی وہ ڈیبیو ٹیسٹ سیریز میں یہ ایوارڈ جیتنے والے انگلینڈ کے پہلے اور مجموعی طور پر 11ویں کھلاڑی بن گئے۔فوکس نے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ میں میں ڈیبیو کیا تھا اور سیریز میں سپن باو¿لنگ کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو فتوحات دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے سیریز میں 18وکٹیں حاصل کیں اور ڈیبیو سیریز میں ہی مین آف دی سیریز کا ایوارڈ جیتنے والے پہلے انگلش کھلاڑی بن گئے۔ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں اس سے قبل ڈیبیو ٹیسٹ سیریز میں مین آف دی سیریز ایوارڈ جیتنے کا اعزاز سارو گنگولی، جیکس روڈلف، مائیکل کلارک، اجنتھا مینڈس، روی چندرن ایشوین، ورنون فلینڈر، جیمز پیٹنسن، روہت شرما، مہدی حسن میراز اور پرتھوی شاہ کو حاصل ہے۔

مزید : کھیل


loading...