کشمیر کاز آزادی کے حصول تک زندہ ہے

کشمیر کاز آزادی کے حصول تک زندہ ہے

  



مقبوضہ کشمیر کی جنت نظیر وادی میں کشمیریوں کی سانس کی نالی پر بھارت کو پاؤں دھرے آج 114واں دن ہے۔ وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔ ذرائع مواصلات پر پوری طرح سے قدغن ہے۔ اجتماع تو دور کی بات، تنہا بھی کوئی کھلے بازار میں نکل نہیں سکتا۔ گلیوں، محلوں میں سرپھرے نوجوان باہر نکلتے ہیں اور نعرہ بازی اور بھارتی فوجیوں پر سنگ باری کے شغل کے بعد دو ایک لاشیں چھوڑ کر واپس گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ بھارت کا یہ اقدام مکروہ حکمت عملی اور بدترین سازش کے تحت ہے تاہم با اثر اور ذمہ دار عالمی حکومتیں اپنے اپنے مفادات کے تحت چُپ ہیں اور اس ناٹک کو دیکھ رہی ہیں جو برصغیر کے شمال مغرب کی ایک ریاست میں پوری درندگی اور وحشت کے ساتھ رچایا جا رہا ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ بازاری جانوروں کی حادثاتی موت پر پورے مغرب میں واویلا مچ جاتا ہے لیکن کشمیر میں ناحق بہتے خون پر اُن کی جانب سے کوئی بھی ٹھوس ردعمل ظاہر نہیں ہو رہا۔ عالمی برادری کی سرد مہری اہل کشمیر کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی جنگ خود لڑیں۔ نہتے ہوں یا پتھر ہاتھوں میں لئے ہوں۔

سری نگر میں بڑی عید گاہ کے قرب میں موجود ایک وسیع و عریض قبرستان دھیرے دھیرے مزید پھیل رہا ہے جہاں کشمیری شہداء بغیر غسل اور کفن کے دفنائے جا رہے ہیں، اس خیال کے تحت کہ شہداء کو غسل دینے اور کفن پہنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کشمیر کی تاریخ خونچکاں لکھی جا رہی ہے۔ اس تاریخ میں نمایاں کردار کشمیری خواتین کا ہے جو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہونے کے ناطے ظلم سہہ رہی ہیں اور باپ، بھائی، بیٹیوں اور شوہروں کی لاشیں وصول کر رہی ہیں۔ یہی خواتین سروں پر چادریں اوڑھے، جرأت اور بے خوفی کے ساتھ، احتجاجی مظاہروں میں شریک ہو کر قربانیوں کی نئی داستانیں رقم کر رہی ہیں۔ یہ ایسے مناظر ہیں جنہیں دیکھ کر چشم فلک بھی یقیناً پتھرا جاتی ہو گی۔

بھارتی ا ٓئین کی شق 370 کے خاتمے سے لے کر اب تک بھارتی حکومت نے مسلسل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ شق 370 ایک عرصہ سے ہندو انتہا پسندوں کے اذہان میں کانٹے کی طرح چبھ رہی تھی۔ شق 370 اٹوٹ انگ کا راگ الاپنے والوں کے گلے کی کھچ کھچ تھی۔ کشمیر کے ایک سابق گورنر جگ موہن نے اپنی کتاب My frozen turbulence in Kashmir میں ایک پورا باب شق 370 کے خلاف اور اس کی منسوخی کی ضرورت کے بارے میں تحریر کیا تھا۔

مقبوضہ وادی میں شق کی منسوخی کے نتیجہ میں لاک ڈاؤن کو 114 ایام گزر چکے ہیں۔ ہمارے لئے یہ صورت حال گہرے فکر و تدبر، ٹھوس حکمت عملی اور مضبوط فعل و عمل کی متقاضی ہے۔ پاکستان کے نڈر وزیر اعظم عمران خان نے خود کو کشمیر کا سفیر قرار دیا ہے۔ یقیناً اس ضمن میں ان کی کاوشیں رائیگاں نہیں گئیں تاہم وزیر اعظم کو دیگر داخلی و خارجی امور نے الجھا دیا ہے اور بظاہر ایسا تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ کشمیر کاز کے لئے وزیر اعظم اور حکومت پاکستان کی سرگرمیاں دھیمی پڑ گئی ہیں جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان بخوبی جانتے ہیں کہ ضرب کیسے اور کب لگانی ہے۔

کشمیر کا مسئلہ برصغیر کا رستا ہوا ناسور ہے۔ بقول قائد اعظم کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہے۔ بغور دیکھا جائے تو یہ کوئی جذباتی فقرہ نہیں ہے بلکہ گہرے تدبر کا غماز ہے۔ وادی میں بسنے والے اپنے مذہب، ثقافت، تمدن اور تاریخ کی بنا پر پاکستان کا حصہ ہی نہیں ہے بلکہ وادی تو قدرتی اور جغرافیائی طور پر پاکستان سے پیوستہ ہے۔ افسوس 70 برس پہلے کی جانے والی عسکری مہم جوئی شخصیتوں کے ٹکراؤ، ہٹ دھرمیوں اور سازشوں کا شکار نہ ہوتی تو آج اہل کشمیر آزادی کی فضا میں سکھ کا سانس لے رہے ہوتے۔ اب وادی کے لوگ اپنے جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ اس جنگ میں وہ اکیلے ایک ایسی قوت کا سامنا کر رہے ہیں جو مکاری اور چالاکی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی اور جو اپنی روایتی بزدلی اور کمینگی کو ظلم و جبر کے نقاب کے پیچھے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

بھارتی حکومت اس وقت آر ایس ایس کے متعصب، تنگ نظر، بد دماغ اور بے رحم رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے۔ ہر وقت وہ اس اُدھیڑ بن میں رہتے ہیں کہ بالخصوص پاکستان اور بالعموم مسلمانوں کو ہر ممکن زک پہنائی جائے۔ مقبوضہ وادی کشمیر پر ان کا زور چلتا ہے اس لئے وہاں وحشت اور ظلم و جبر کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان ان با رسوخ ممالک پر زور دے جو انسانیت کے علمبردار ہیں کہ وہ بھارت کو مجبور کریں کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے عین مطابق حل کیا جائے۔ اقوام متحدہ بلا شبہ اس مسئلے کو بخوبی حل کر سکتی ہے اگر وہ سنجیدگی، نیک نیتی اور انصاف سے کام لے اور بنا کسی رغبت اور خوف کے اپنی قوت اور حکم منوانے کا بھرپور استعمال کرے۔

مزید : ایڈیشن 1