پنجاب حکومت اور کارکردگی

پنجاب حکومت اور کارکردگی
 پنجاب حکومت اور کارکردگی

  



میدان سیاست میں اٹھا پٹخ عرصہ سے جاری ہے، اس دنگل میں سیاسی فضا گرد سے اٹ جاتی اور کبھی دھند کی لپیٹ میں آتی رہی، مگر اس کے باوجود گرد اور دھند کے پیچھے بھی سیاسی داؤ پیچ آزمائے جاتے رہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اگرچہ موجودہ حکومت کے دور میں اب تک ہونے والی اٹھا پٹخ بے نتیجہ ثابت ہوئی اور مستقبل میں بھی نتیجہ خیز ہونے کا امکان نہیں۔ اس وقت سب سے زیادہ زور آزمائی پنجاب میں ہو رہی ہے، اپوزیشن ہی نہیں حکومتی ذمہ دار بھی اس زور آزمائی میں شریک ہیں، ویسے تو پنجاب حکومت کی کارکردگی پر پہلے روز سے ہی سوال اٹھ رہے ہیں، اس پر طرفہ تماشا کہ پنجاب کے تین بڑوں میں بھی پراسرار قسم کی کھینچا تانی جاری ہے۔ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، حکومتی اقتدار اور حکومتی جماعت کی کارکردگی میں بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پنجاب میں وزیر اعلیٰ تو عثمان بزدار ہیں اور عملی طور پر تمام اختیارات کے وہی مالک ہیں مگر ان کے علاوہ صوبے میں گورنر چودھری سرور اور سپیکر چودھری پرویز الہیٰ بھی اہم ہیں۔ عملی اقتدار کی اس ٹرائیکا کو اگرچہ وزیراعظم کی تائید و حمایت حاصل ہے، تاہم پارٹی کے اندرونی اختلافات اور گروہ بندی کے باعث گورنر چودھری غلام سرور، وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی یکسو نہیں ہیں، تینوں کا اپنا اپنا حلقہ احباب، حلقہ انتخاب اور دلچسپی کا دائرہ ہے، چودھری سرور برطانوی سیاست میں اہم مقام ضرور رکھتے ہیں، قومی سیاست میں بھی انہوں نے مختصر وقت میں اپنا مقام پیدا کیا ہے، پارٹی کے اندر بھی وہ اپنا ایک دھڑا رکھتے ہیں، تاہم وہ سیاسی طور پر مضبوط دھڑے کے مالک نہیں، سردار عثمان بزدار کو اگرچہ جہانگیر ترین کی سرپرستی حاصل ہے مگر ارکان صوبائی اسمبلی اور پارٹی میں مضبوط گروپ کی حمایت سے وہ بھی محروم ہیں خاص طور پر شمالی پنجاب سے ان کو حمائت حاصل نہیں البتہ چودھری پرویز الٰہی اگرچہ تحریک انصاف کے اتحادی ہیں، مگر اس کے باوجود تحریک انصاف میں حامیوں کا ایک مضبوط گروپ رکھتے ہیں، ن لیگ میں بھی ایک موثر گروہ ان کا حامی ہے، انہی وجوہات کی بناء پر ایوان اقتدار کی اس مثلث میں رسہ کشی جاری رہتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں وزیر اعلیٰ اور سپیکر پنجاب آپس میں کچھ قریب محسوس ہوتے ہیں۔

ق لیگ نے گورنر چودھری سرور پر کچھ عرصہ قبل الزام بھی لگایا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اپنے آئینی اختیارات آزادانہ طور پر استعمال کرنے نہیں دے رہے۔ ایک لیک ہونے والی ویڈیو کے اقتباس کے مطابق چودھری پرویز الٰہی اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ گفتگو کرتے ہوئے چودھری سرور کے رویئے کو نامناسب قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں جہانگیر ترین سے گورنر پنجاب کے رویہ کے بارے میں شکوہ کیا۔ ویڈیو کے مطابق طارق بشیر چیمہ نے کہا ”سر (ترین) سرور کو کنٹرول کریں“۔ پرویز الٰہی نے بھی طارق بشیر چیمہ کی درخواست کی تائید کی اور بولے ”جناب! ہاں سرور کو کنٹرول کریں۔

چیمہ نے مزید کہا کہ چودھری سرور آپ کے وزیراعلیٰ کو آزادانہ طور پر کام نہیں کرنے دیں گے۔ اس موقع پر پرویزالٰہی نے کہا کہ حمزہ شہباز صرف مجھے اور وزیراعظم عمران خان کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔ اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد چودھری پرویز الٰہی نے پریس کانفرنس کی اور چودھری سرور کیس اختلافات پر مبنی ویڈیو کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ چودھری سرور کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ طارق بشیر چیمہ نے صرف اپنے حلقے میں چودھری سرور کی مداخلت کا ذکر کیا تھا۔ طارق چیمہ کھل کر بات کرنے والے آدمی ہیں، وہ کوئی بات نہیں چھپاتے۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ اتحادیوں میں شکایات زیر بحث لانا معمول کی بات ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد بہتر طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اگر ارکان اسمبلی اپنے مسائل پر کھل کر بات نہ کریں تو اس کا نتیجہ سیکریٹ بیلٹ میں اچھا نہیں نکلتا۔ عثمان بزدار اور چودھری سرور دونوں کو تحریک انصاف نے نامزد کیا ہے۔ بزدار بہتر طریقے سے کام کر رہے ہیں، انہیں اتحادیوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ گزشتہ 10 سال کے دوران کوئی بھی رکن اسمبلی شہباز شریف کے خوف سے نہیں بولتا تھا، لیکن ہم تنقید اور شکایات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

چودھری سرور نے لیک ہونے والی ویڈیو بارے اپنے ردعمل میں کہا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدارہی پنجاب میں طاقت اور اختیار کا مرکز ہیں۔ بزدار کے معاملے میں پی ٹی آئی میں کوئی تنازع نہیں۔ پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ ”وہ پارٹی چیئرمین کے فیصلوں کو قبول کریں گے، لیکن وزارت اعلیٰ کے امیدوار کے لئے صحیح انتخاب نہیں کیا گیا۔ ارکان نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پارٹی چیئرمین وفادار کارکنوں کی قربانیوں کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ عثمان بزدار جہانگیر ترین کے بلاک سے تعلق رکھتے ہیں۔ پرویزالٰہی کی موجودگی میں وہ کمزور وزیراعلیٰ ہوں گے،،۔

اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ پنجاب میں حکومت کے پاس چودھری پرویز الہیٰ سے زیادہ تجربہ کار،معاملہ فہم،سیاسی رموز کو سمجھنے والا شاید ہی کوئی ہے۔ وہ اس صوبے کے کامیاب وزیر اعلیٰ بھی رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دنوں سیاسی بحران میں اپنی اہلیت کو ثابت بھی کیا۔گورنر سرور نے بھی بہتر رول پلے کیا مگر گورنر اپنا حلقہ انتخاب بنانے، وزیراعلیٰ اپنی وزارت اعلیٰ کو مضبوط و محفوظ کرنے میں مصروف ہیں، عوامی سیاست کوئی عوامی عہدہ نہ ہونے کے باوجود پرویزالٰہی کر رہے ہیں، اس بحر کی موجوں سے کیا نمودار ہوتا ہے اس کے لئے انتظار کرنا ہو گا، اپوزیشن، پنجاب کی ٹرائیکا میں جاری دکھائی نہ دینے والی چپقلش پر بغلیں بجا رہی ہے۔

آخر کار وزیراعظم عمران خان نے بھی پنجاب میں گڈ گورننس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بیوروکریسی میں تبادلوں کی ہدایت جاری کی ہے مگر جو بیوروکریسی خود خوف میں مبتلاہو وہ کیا کارکردگی دکھائے گی یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اور اس سے بھی اہم بات کہ پنجاب میں اچھے چیف سیکرٹری اور آئی جی موجود ہیں، ان کی موجودگی میں اگر مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے تو پھر اصل وجہ ڈھونڈیں۔ آپ سمجھ تو گئے ہی ہونگے۔

مزید : رائے /کالم