موبائل فون کمپنیوں کے لائسنس کی تجدید کیس میں حکم امتناع برقرار

موبائل فون کمپنیوں کے لائسنس کی تجدید کیس میں حکم امتناع برقرار

  



اسلام آباد(آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے موبائل فون کمپنیوں کے لائسنسز کی تجدید کے معاملہ میں حکم امتناع آئندہ سماعت تک برقراررکھتے ہوئے آدھی لائسنس فیس جمع کرانے کاحکم دیدیا۔گذشتہ روز سماعت کے دوران وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ چین سے فنڈ پاکستان آنے ہیں،لائسنس کی مد میں پیسے جمع کرنے سے انکاری نہیں ہیں،سرکاری وکیل نے کہاکہ 42 ارب روپے ان کے اکاؤنٹ میں موجود ہیں،2 سو 30 ملین میں سے 1 سو 20 ملین لائسنس کی مد میں جمع کرائے ہیں،عدالت نے حکم دیاکہ نجی موبائل کمپنی آئندہ سماعت سے پہلے50 فیصد واجب الادرقم لائسنس فیس جمع کرائے،عدالت نے حکم امتناع آئندہ سماعت تک برقراررکھتے ہوئے کیس پرسماعت آئندہ ہفتے تک کیلئے ملتوی کر دی۔علاوہ ازیں اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما علیم خان کی نجی ہاوسنگ سوسائٹی پر تجاوزات کے الزام پرکیس میں سی ڈی اے سے تحریری جواب طلب کرلیا۔گذشتہ روزسماعت کے دوران عدالت کی طرف سے سی ڈی اے کے ڈائریکٹر لینڈ کوذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم کے باوجودوہ پیش نہ ہوئے جس پرعدالت نے ڈپٹی اٹارنی طیب شاہ کو روسٹرم پر بلاتے ہوئے استفسارکیاکہ سی ڈی اے کے ڈائریکٹر لینڈ کہاں ہے،کیوں عدالت میں پیش نہیں ہوئے، عدالت نے ہدایت کی کہ فوری طور پر سی ڈی اے ڈائیریکٹر لینڈ سے رابطہ کر کے عدالت کو بتایا جائے اور سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی کر دی۔بعدازاں دوبارہ سماعت کے دوران سی ڈی اے کی ڈائریکٹر لینڈ نیشا عدالت کے روبرو پیش ہوگئیں جس پرعدالت نے استفسارکیاکہ پرائیویٹ لوگوں کو سی ڈی اے کی زمین کیسے دے دی گئی،سی ڈی اے کی زمین غیر شفاف طریقے سے کیسے پرائیوٹ آدمی کو دی گئی، چیف جسٹس نے کہا کہ اس زمین کو پرائیویٹ کمپنی کس طرح استعمال کر رہی ہے،اس پرڈائریکٹرلینڈنے کہاکہ اگر عدالت اجازت دے تومیں اس فائل کو دیکھ لوں اور پھرعدالت کو جواب دے سکتی ہوں،جس پرچیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ کس قانون کے تحت سی ڈی اے کی زمین دی گئی،درخواست گزار کا موقف ہے کہ دوسری پارٹی بہت با اثر ہے،جس پر الزم ہے کہ وہ اثرو رسوخ سے زمین پر قابض ہے، عدالت نے سی ڈی اے سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے کہاکہ عدالت کو مطمئن کریں کہ کیسے سی ڈی اے کی زمین دی گئی،تفتیشی نے کہا کہ انویسٹی گیشن کے دوران یہ زمین سی ڈی اے کی ثابت ہوئی، تفتیشی نے بیان دیاکہ یہ سی ڈی اے کی زمین ہے،عدالت نے کیس کی سماعت آج تک کیلئے ملتوی کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ

مزید : صفحہ آخر