300یونٹس تک بجلی صارفین کیلئے ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں کیا،وزارت توانائی

  300یونٹس تک بجلی صارفین کیلئے ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں کیا،وزارت توانائی

  



اسلام آباد(آن لائن) پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں وزارت توانائی کی جانب سے بتا یا گیا ہے کہ ملک میں 300یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے 2کروڑ 40لاکھ سے زائد صارفین کیلئے ٹیرف میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا ہے  ملک سے بجلی چوری کے خاتمے اور لائن لاسز میں کمی کیلئے آے ایم آئی میٹرز اور اے بی سی کیبلز لگائے جائیں گے گذشتہ ایک سال کے دوران وزارت نے ٹیرف میں اضافے اور بقایا جات کی وصولی کرتے ہوئے 228ارب روپے کی ریکوری کی ہے،ملک میں سستی بجلی کے حصول کیلئے متبادل توانائی کے حصول پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے کمیٹی کا اجلاس کنوینرسید فخر امام کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤ س میں منعقد ہوااجلاس میں کمیٹی کے اراکین کے علاوہ وزارت بجلی کے سیکرٹری،ڈیسکوز کے چیف ایگزیکٹیوز اور آڈٹ حکام نے شرکت کی اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری توانائی نے بتایاکہ گذشتہ ایک سال کے دوران بجلی بقایا جات کی مد میں وصولیوں کی بھر پور کوششیں کی گئی ہیں اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں انہوں نے کہاکہ سیپکو،پیسکو اور میپکو میں بجلی کے نادہندگان صارفین کی تعداد بہت زیادہ ہیں جن کے ذمے اربوں روپے کے بقایا جات ہیں سیکرٹری توانائی نے بتایاکہ گذشتہ ایک سال کے دوران بجلی ٹیرف میں اضافے اور بقایا جات کی مد میں 228ارب روپے کی وصولی کی ہے انہوں نے کہاکہ پورے ملک میں بجلی صارفین کی تعداد 2کروڑ 80لاکھ سے زائد ہے جس میں 2کروڑ 40لاکھ گھریلو صارفین جو 300یونٹس سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں کے ٹیرف میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا ہے سیکرٹری نوانائی نے بتایاکہ ملک میں متبادل توانائی کے حصول پر سب سے زیادہ توجہ دی جارہی ہے اس وقت ملک میں 29ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے جبکہ 2025تک ملک میں بجلی کی طلب44ہزار میگا واٹ سے زائد ہوگی انہوں نے کہاکہ ملک میں متبادل توانائی سمیت ہائیڈل پاؤراورنیوکلیر توانائی سے بجلی پیدا کرنے پر زیادہ زور دیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ بجلی کی زائد پیداوار کے سلسلے میں بھی احتیاط کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ملک میں ضرورت سے زائد توانائی کا بوجھ بھی صارفین کو برداشت کرنا پڑے گاکمیٹی اجلاس کے دوران آئیسکو کے ذمے 15ارب روپے سے زائد بقایا جات کے اعتراضات پر آئیسکو کے حکام نے بتایا کہ زیادہ تر بقایا جات کشمیر کوبجلی کی فراہمی کی وجہ سے ہے تاہم یہ معاملہ حل ہوگیا ہے جس پر کمیٹی نے آڈٹ حکام کے ساتھ تفصیلات شیئر کرنے کی ہدایت کی کمیٹی نے پیسکو کے ذمے 72ارب روپے سے زائد کے بقایا جات کے معاملات بھی آڈٹ حکام کے ساتھ شیئر کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی

مزید : صفحہ آخر