پنجاب اسمبلی، ناروے میں قر آن پاک کی بے حرمتی کیخلاف مذمتی قرار داد متفقہ منظور

  پنجاب اسمبلی، ناروے میں قر آن پاک کی بے حرمتی کیخلاف مذمتی قرار داد متفقہ ...

  



لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی،  اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود پنجاب اسمبلی نے پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بل 2019، فورٹ منرو ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل 2019 اور یونیورسٹی آف میانوالی بل 2019بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا،اجلاس آج صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کے ایوان نے ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، تمام جماعتوں کی طرف سے قرارداد خدیجہ عمر نے ایوان میں پیش کی گئی،جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان ناروے کی انتہا پسند اسلام مخالف جماعت سیان کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی پرزور مذمت کرتا ہے۔پنجاب اسمبلی کا ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ناروے حکومت کو ذمہ داران کیخلاف کارروائی پر مجبور کرے۔پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ مسلم امہ کے جذبات کو مجروح کرنے والے ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بل 2019  بل کی گورنر سے منظوری کیساتھ ہی پنجاب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ 2014 منسوخ ہو جائے گا۔پنجاب اسمبلی نے یونیورسٹی آف میانوالی بل 2019 بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا اس بل کے تحت یونیورسٹی آف سرگودھا میانوالی کیمپس کا نام تبدیل کرکے یونیورسٹی آف میانوالی رکھا جائے گا یونیورسٹی آف میانوالی میں ایک سنڈیکیٹ بورڈ, اکیڈیمک کونسل, بورڈ آف فیکلٹیز،سلیکشن بورڈ اور دیگر انتظامی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔یورنیورسٹی آف میانوالی میں انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سمیت تمام مضامین پڑھائے جائیں گے یونیورسٹی صوبے میں جدید تعلیم کے فروغ کیلئے ضروری انتظامات کرے گی۔ایوان میں کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنیز آف لاہور،گجرانوالہ, راولپنڈی اور سرگودھا ڈویژن 17-2016 پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی۔پنجاب حکومت کے مالی سال 17-2016 کے اکاؤنٹس رپورٹ، مالی سال 17-2016 کی فنانشل سٹیٹمنٹ،میٹروپولیٹن کی سپیشل آڈٹ رپورٹس بھی ایوان میں پیش کردی گئیں۔سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے تمام رپورٹس پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ٹو کو بھجوادیں اور کہا کہ پی اے سی ٹو ایک سال میں متعلقہ رپورٹس کا جائزہ لیکر رپورٹ پیش کرے۔اپوزیشن رکن سمع اللہ خان نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹ کمیٹی ون کی چیئرمین شپ اپوزیشن لیڈر کو بنانا تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا،سٹینڈنگ کمیٹیوں سے اپوزیشن کے مستعفی ہونے والے ڈیڈ لاک کو ختم کیا جائے کیا۔وزیر قانون بشارت راجہ نے کہا کہ ایوان میں اپوزیشن کو کبھی نظر انداز نہیں کیا گیا جب بھی قانون سازی کی گئی اپوزیشن بھاگ جاتی ہے ایوان میں کوئی غیر قانونی و غیر آئینی کام نہیں کررہے۔حکومت نے ڈیڑھ سال میں بہترین قانون سازی کی ہے۔2015 میں ن لیگ نے 36 آرڈیننس ایوان میں پیش کئے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے اجازت لے کر اپوزیشن لیڈر اسمبلی لائے گئے اب بتائیں کہ ان کا کیا کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کہاجاتاحکومت آرڈیننس فیکٹری ہے مجھے بھی نااہل کہاجاتاہے ن لیگ کے پانچ سال کے دور میں ایک سو چھ آرڈیننس لائے گئے اور ہم ڈیڑھ سال میں اٹھارہ آرڈیننس لائے ہیں۔ 

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ آخر