ایف اے ٹی ایف تحفظات کے خاتمہ کیلئے گیر منظم شعبوں کو ریگو لیٹ کرنے کا فیصلہ 

ایف اے ٹی ایف تحفظات کے خاتمہ کیلئے گیر منظم شعبوں کو ریگو لیٹ کرنے کا فیصلہ 

  



اسلام آباد(آن لائن) حکومت نے معیشت کے تمام غیر منظم شعبوں کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے تحفظات کے خاتمے کے لیے ایک عبوری ریگولیٹری نظام میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل ایف اے ٹی کوآرڈی نیشن کمیٹی (این ایف سی سی) کے حالیہ اجلاس میں کیا گیا۔سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ تجویز کردہ ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام پر اہم سٹیک ہولڈرز کی جانب سے اختلاف رائے کے تناظر میں وفاقی حکومت نے رئیل اسٹیٹ کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو عارضی ریگولیٹر کے طور پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیاہے۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر جیولرز، زیورات، ہیروں اور قیمتی پتھروں کے ریگولیٹر کے طور پر بھی کام کرے گا کیونکہ اس وقت اس شعبے کے لیے کوئی ریگولیٹر موجود نہیں ہے۔اسی طرح این ایف سی سی نے وکلا، لیگل ایڈوائزر اور لا فرمز کے لیے وزارت قانون و انصاف کو ریگولیٹر نامزد کیا ہے۔علاوہ ازیں این ایف سی سی نے آڈٹ اوورسائٹ بورڈ کو چارٹرڈ اکاؤنٹس، اکاؤنٹنٹس، فنانشل کنسلٹنٹس اور اکاؤنٹنگ سے وابستہ دیگر گروہوں کے ریگولیٹر کے طور پر کردار ادا کرنے کا اختیار دیا ہے۔فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کو پاکستان پوسٹ اور قومی بچت سے مالیاتی ٹرانزیکشنز ریگولیٹ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔عہدیداران نے کہا مذکورہ عبوری ریگولیٹری انتظامات کا فیصلہ پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں ملنے والی رائے اور مشوروں کی بنیاد پر کیا گیا جنہوں نے پاکستان کو آئندہ برس فروری تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فیصلہ

مزید : صفحہ اول