نوازشریف دوران علاج بدپرہیزی کے مرتکب ہوئے!، ڈاکٹر صغیر بیان سے مکرگئے

 نوازشریف دوران علاج بدپرہیزی کے مرتکب ہوئے!، ڈاکٹر صغیر بیان سے مکرگئے

  



لاہور(جاوید اقبال) مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے علاج اور بیرون ملک روانگی پر میڈیکل بورڈ پر الزامات لگانے والے سروسز ہسپتال کے زیر تربیت ڈاکٹر صغیرنے نجی ٹی وی کودئیے گئے بیان سے انحراف کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف کے علاج معالجہ تو درکنار ان کی میڈیکل اور ٹریٹمنٹ فائل تک بھی انہیں رسائی حاصل نہیں تھی،نجی ٹی وی نے بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا۔روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر صغیر نے بتایاکہ میں نے یہ نہیں کہا کہ نواز شریف نے ہسپتال میں کھانے پینے میں بد پرہیزی کی اور ان کے ٹیسٹ پاکستان میں میسر تھے، میڈیکل بورڈ نے ایس او پیز اور دستیاب سہولیات کے مطابق نواز شریف کو علاج معالجہ کی تمام تر سہولیات پہنچائیں۔ڈاکٹر صغیر نے کہا کہ میں نے مقامی ٹی وی سے یہ بات کی تھی کہ نواز شریف ماضی میں خوراک اور علاج معالجہ میں لاپرواہی کرتے رہے جبکہ یہ نہیں کہا کہ دوران علاج ہسپتال میں انہوں نے بد پرہیزی کی مگر افسوس کہ مقامی ٹی وی نے میری گفتگو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا،جس سے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے میاں نوازشریف کے بارے میں تازہ بات کہی۔انہوں نے کہا کہ میں حلفاً کہتا ہوں میاں نوازشریف کا علاج معالجہ تو درکنار میری ان کے کمرے کے باہر تک بھی رسائی نہیں تھی لہٰذا میں اپنے سے منسوب بیان کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔دریں اثناء سروسز ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈٹ ڈاکٹر سلیم شہزاد چیمہ نے کہا کہ میں یہ حقیقت بتانا چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر صغیر میڈیکل تھری میں پروفیسر عارف ندیم کے پاس پی جی ڈاکٹر ہے، انہیں نواز شریف جیسے ہائی پروفائل میڈیکل کیس اور ان کے علاج معالجہ تک رسائی دی ہی نہیں گئی اور نہ ہی ایسا ممکن تھا۔ہسپتال انتظامیہ تحقیقات کررہی ہے کہ ڈاکٹر صغیر جیسے جونیئر اور زیر تربیت ڈاکٹر نے یہ بیان کیسے دیدیا کہ نواز شریف کے وہ طبی ٹیسٹ جن کی انہیں ضرورت تھی وہ پاکستان میں موجود تھے، ان کے انٹرویو میں کوئی حقیقت نہیں اور جب ہم نے مذکورہ ڈاکٹر سے پوچھا کہ مختلف ٹی وی چینلز پر یہ خبر چلتی رہی کہ نواز شریف کھانے پینے میں بد پرہیزی کرتے رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان خبروں کو دیکھ کر میں نے بھی بیان دیدیا حالانکہ نواز شریف کو ہسپتال میں بہترین سہولیات فراہم کی گئیں جبکہ نواز شریف علاج کے دوران کسی قسم کی بد پرہیزی نہیں کرتے رہے۔ایم ایس نے مزید کہا کہ نواز شریف کے علاج معالجہ کیلئے قائم کئے گئے بورڈ میں پنجاب اور سندھ کے سینئرزڈاکٹرز شامل تھے یہاں تک کے شوکت خانم کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فیصل سلطان بھی معائنہ کرتے رہے،میڈیکل بورڈ نے حکومت، عدلیہ اور پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو علاج معالجہ اور مختلف لیبارٹریوں سے آنے والی نواز شریف کی طبی رپورٹس کے حوالے سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھا۔ بورڈ کے سر براہ اور تمام ممبران نے لینکل اور پتھالوجی رپورٹس کی روشنی میں میاں نواز شریف کا علاج کیا اور انہیں مزید علاج کیلئے بیرون ملک بھجوانے کی سفارش کی۔ڈاکٹر چیمہ نے کہا کہ ڈاکٹر صغیر کا بیان حقیقت کے برعکس ہے ہم اس کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ سال اول کے ڈاکٹر کو عام مریض تک مشکل سے رسائی ملتی ہے تو نواز شریف جیسے ہائی پروفائل میڈیکل کیس تک انہیں کیسے رسائی دے سکتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں یقین سے کہتا ہوں کہ نواز شریف نے سروسز ہسپتال میں دوران علاج بد پرہیزی نہیں کی۔

 ڈاکٹر صغیر/انحراف

مزید : صفحہ اول