سیاسی جماعتوں کی ”فارن فنڈنگ“

سیاسی جماعتوں کی ”فارن فنڈنگ“

  



انگریزی روزنامہ ”ڈان“ کی ایک خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر ریٹائرڈ جسٹس سردار محمد رضا کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھا دیئے ہیں جو کہ اپنی ریٹائرمنٹ (6دسمبر2019ء) سے پہلے تحریک کے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے والے ہیں۔ مذکورہ سیاسی جماعت کی کور کمیٹی کے اجلاس میں جو وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت منعقد ہوا، یہ مطالبہ ایک بار پھر دہرایا گیا کہ الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کے حوالے سے تینوں بڑی سیاسی جماعتوں تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے مقدمات کو یکجا کر دے اور ان کی بیک وقت سماعت کرے۔ حکمران جماعت کو اس حوالے سے تنہا نہ کیا جائے۔ بعد ازاں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اپوزیشن موجودہ چیف الیکشن کمشنر ہی سے فیصلہ لینے پر اصرار کیوں کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن نے اس الیکشن کمیشن کے زیر اہتمام منعقدہ عام انتخابات 2018ء میں دھاندلی کے شدید الزامات عائد کئے تھے۔ اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ اس کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن کی دال میں کچھ کالا نہیں، پوری دال ہی کالی ہے۔ ڈاکٹر اعوان صاحبہ کا کہنا تھا کہ ہمارا دامن صاف ہے۔ پوری کوشش کے باوجود اپوزیشن تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف کوئی سکینڈل نہیں لا سکی۔ ان کا ارشاد تھا کہ ایک جماعت کو ٹارگٹ کرکے الیکشن کمیشن کا وقار خراب کیا جا رہا ہے۔ان کا اصرار تھا کہ تمام جماعتوں کے خلاف فارن فنڈنگ کے حوالے سے زیر سماعت درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جائے۔ اوورسیز پاکستانیوں کی طرف سے کسی پارٹی کی معاونت فارن فنڈنگ نہیں کہلا سکتی۔

یہ درست ہے کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر اس حوالے سے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا اور درخواست بھی دائر کی تھی کہ سماعت ہر روز کی جائے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ چیف الیکشن کمشنر چند روز میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔ یہ درخواست پی ٹی آئی کے ایک بنیادی رکن اکبر ایس بابر کی طرف سے 2014ء میں دائر کی گئی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ ذرائع سے پارٹی فنڈ اکٹھا کیا، اس کے کئی ذمہ داروں نے بنکوں میں کئی خفیہ اکاؤنٹس کھلوائے اور بڑے پیمانے پر خورد برد کی گئی۔ تحریک انصاف کے وکلاء کی طرف سے اس مقدمے کی سماعت کے دوران متعدد اعتراضات کئے گئے اور اعلیٰ عدالتوں میں متعدد درخواستیں دائر کی گئیں جن کی وجہ سے معاملہ تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔بالآخر 2018ء میں چیف الیکشن کمشنر نے اپنے ڈائریکٹر جنرل لاء کی سربراہی میں تین رکنی سکروٹنی کمیٹی قائم کی، جسے حسابات کی مکمل چھان بین کا اختیار دیا گیا۔ تحریک انصاف کی طرف سے سکروٹنی کمیٹی کے قیام کو چیلنج کیا گیا، لیکن اس کی یہ درخواست مسترد کر دی گئی اور سکروٹنی کمیٹی کو کام جاری رکھنے کا حکم برقرار رہا۔سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی رکوانے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پھر درخواست دائر کرکے حکم امتناعی جاری کرنے کی درخواست کی گئی جسے عدالت عالیہ نے قبول نہ کیا۔ درخواست دائر کرنے کے اگلے روز (12نومبر)تحریک انصاف کے وکیل نے سکروٹنی کمیٹی کے سامنے یہ موقف اختیار کیا کہ جب تک اسلام آباد ہائی کورٹ سے ان کی درخواست کا فیصلہ نہیں ہوتا، وہ سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے(گویا اپنے حق میں آپ ہی حکم امتناعی جاری کر دیا)۔ 20نومبر کو یہ درخواست ہائی کورٹ میں زیر سماعت آئی تو تحریک انصاف کے وکیل موجود نہیں تھے، جس پر سماعت 16دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔ الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق سکروٹنی کمیٹی 26نومبر سے روزانہ کی بنیاد پر کارروائی شروع کرے گی اور توقع کی جا رہی ہے کہ چند روز میں اس کی حتمی رپورٹ الیکشن کمیشن کو پیش کر دی جائے گی۔

خدشہ یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اگر فیصلہ نہ دے سکے تو پھر معاملہ غیر معینہ مرحلے کے لئے لٹک جائے گا۔ نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کا اتفاق ہونا ضروری ہے، یہ ہمالہ سر نہیں ہو سکے گا اور الیکشن کمیشن عضو معطل بن کر رہ جائے گا۔ تحریک انصاف کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر پر بے اعتمادی کا جو اظہار کیا جا رہا ہے، اس کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز تو موجود نہیں ہے،لیکن اس سے معاملے کو سیاسی رخ دینے کی کوشش ضرور کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت بھی ساتھ ہی ساتھ کرنے کا جو مطالبہ کیا جا رہا ہے، اس حوالے سے دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ مقدمے کے آغاز میں اس طرح کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا۔ اگر ابتدا ہی میں یہ موقف اختیار کیا جاتا تو پھر اس میں وزن تلاش کیا جا سکتا تھا۔ مشکل یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے خلاف دائر درخواستیں ردعمل میں دی گئی معلوم ہوتی ہیں، یہ درخواستیں ان جماعتوں کے ارکان نے نہیں مخالفین نے دائر کی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے خلاف اس کے اپنے بنیادی رکن درخواست گزار ہیں۔

قانونی ماہرین یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر کسی جماعت کے حسابات مشکوک پائے جاتے ہیں اور ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ ثابت ہو جاتی ہے تو مذکورہ سیاسی جماعت کے لئے اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا اور اس کے منتخب اراکین کی نا اہلی کا راستہ بھی کھل جائے گا…… پاکستان تحریک انصاف جس شفافیت کا دعویٰ اور مطالبہ کرتی رہی ہے اس کا تقاضہ ہے کہ وہ تحقیقات کا کھلے دل سے سامنا کرے۔ ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے، جسے بآسانی نظر انداز کر دیا جائے۔ پاکستان تحریک انصاف ہو، مسلم لیگ (ن) یا پیپلزپارٹی سب کا حساب ہونا چاہئے اور پاکستان کے رائے دہندگان کو یہ یقین دلایا جانا چاہئے کہ ان کے معاملات کی باگ ڈور سنبھالنے والے ہاتھ صاف ہیں۔ سیاہی جہاں بھی ہو اور جس پر بھی ہو، دال کسی کی بھی ہو، اسے پورا تو کیا آدھا بھی کالا نہیں ہونا چاہئے۔ امید کی جانی چاہئے کہ (کسی کے بھی) تاخیری حربے کام نہیں آئیں گے اور قانون اپنا راستہ بنا کر رہے گا۔

یہ بات البتہ افسوسناک ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ ایک باوقار شخص ہیں، اعلیٰ ترین عدالت کے جج کے طور پر انہیں عزت اور احترام کا مستحق سمجھا گیا۔ حکومت اور اپوزیشن نے اتفاق رائے سے انہیں چیف الیکشن کمشنر بنایا۔ جہاں تک 2018ء کے انتخابات کے حوالے سے شکایات کا تعلق ہے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو اچھی طرح علم ہے کہ اپوزیشن چیف الیکشن کمشنر کی ذات کو زیربحث نہیں لائی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی ان انتخابات کو منصفانہ اور شفاف قرار دیتی ہے اور اپوزیشن کے الزامات کو رد کرتی ہے، پھر اسے تو چیف الیکشن کمشنر کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کہنی چاہیے جو بداعتمادی پیدا کرے اور جس کے نتیجے میں انتخابات کے بارے میں سوالات اٹھانے والی اپوزیشن کے ہاتھ مضبوط ہوں۔

مزید : رائے /اداریہ