صوبائی وزیر صنعت توجہ دیں!

صوبائی وزیر صنعت توجہ دیں!

  



موجودہ حکومت کی طرف سے ملک میں سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے لئے اقدامات شروع ہیں اور وزیراعظم نے ملکی تاجروں، سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کو یقین بھی دلایا ہے کہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے، اسی حوالے سے حکومت نے پنجاب سمال انڈسٹریز اسٹیٹ II کی بہتری کے لئے بجلی مہیا کر دی ہےّ اس سے یہ تسلی تو ہو رہی ہے کہ اب یہ اسٹیٹ بھی فعال ہو جائے گی اور روزگار کے وسائل بھی پیدا ہوں گے تاہم اب بھی متعلقہ محکموں کی طرف سے عائد کئی شرائط ایسی ہیں جو اس صنعتی اسٹیٹ کے لئے رکاوٹ کا باعث بنی ہوئی ہیں اور صنعتکاروں کے لئے نقصان کا سبب بھی ہیں۔بجلی لازم ہے تو اس صنعتی اسٹیٹ کے لئے گیس کی بھی ضرورت ہے جو ابھی تک مہیا نہیں ہو سکی اسی طرح بڑا مسئلہ بلڈنگ پیریڈ کا ہے کہ جب تک بجلی نہیں تھی تب تک عمارت بنانا اور کام شروع کرنا کیسے ممکن تھا، اب اگر 30اگست کو یہ کام ہوا تو بلڈنگ پیریڈ بھی اسی تاریخ سے شروع ہونا چاہیے، اس لئے مطالبہ ہے کہ یہ شرط پانچ سال کے لئے اگست سے شروع ہو اور 30اگست 2020ء تک رہے اسی طرح جو ترقیاتی اخراجات (ڈویلپمنٹ چارجز)2018ء میں عائد کر دیئے گئے تھے وہ بھی قابل عمل نہیں رہے کہ نہ عمارت بنی نہ کام شروع ہوا اس لئے اس پر بھی عمل اب سے ہونا چاہیے اور پلاٹوں کی خرید و فروخت کی بھی اجازت دی جائے۔بادی النظرمیں الاٹیوں کے یہ مطالبات جائز ہیں اور صوبائی وزیر صنعت میاں اسلم اقبال کو اس طرف توجہ دینا اور خود دلچسپی لے کر ان مسائل کا باہمی مشاورت سے قابل قبول حل تلاش کرنا چاہیے۔ وہ ایک سرگرم اور عملی وزیر ہیں، ان معاملات کو جلد درست کریں تاکہ تعمیرات کا آغاز ہو اور یہ صنعتی زون کام شروع کرکے ملکی ترقی میں اپنا حصہ بٹائے اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں۔

مزید : رائے /اداریہ