”دین و دُنیا میں اعتدال اور امت وسط“(3)

”دین و دُنیا میں اعتدال اور امت وسط“(3)
”دین و دُنیا میں اعتدال اور امت وسط“(3)

  



اس کی تلاوت کرنا اس کی تعلیم اور حکمت کا جاننا اور تزکیہ نفس کرتا اس آیت سے واضح ہوتا ہے۔ (سورہ البقرہ: 129) ترجمہ: جو ان کو (یعنی آپؐ) آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے (البقرۃ: 129) ایک حدیث میں آپؐ نے فرمایا: کہ میں اپنے باپ حضرت ابراہیمؑ کی دعا ہوں، حضرت عیسیؑ کی بشارت ہوں، اور اپنی والدہ محترمہ کا خواب ہوں۔ اس حدیث سے مولانا الطاف حسین حالی نے اس بیت کا مضمون اخذ کیا ہے:

ہوتی پہلو ئے آمنہ سے ہویدا

دعائے خلیل اور نوید مسیحا

اسی طرح سورۃ الجمعتہ: 2 میں یوں ذکر ہے۔ ترجمہ: جو ان کے سامنے (یعنی آپؐ) اس کی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ (سورۃ الجمعۃ-2) ان تمام امور کے اندر اعتدال سے کام لینا ہے۔ صراط مستقیم پر چلتے ہوئے افراط و تفریط سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح عبادت (مذہبی مراسم کی ادائیگی) میں اعتدال ضروری ہے، وگرنہ صراط مستقیم کی پٹڑی سے اترنے کا خطرہ منڈلاتا رہے گا، کیونکہ ہماری تو ساری کی ساری زندگی عبادت یا بندگی سے عبارت ہے۔ اس تصور کو امت مسلمہ کے اذہان میں اجاگر کرنا ہے۔ وگرنہ دین و دنیا دونوں پلڑوں کو غیر متوازن کر دیتا ہے۔ زندگی کے اس تصور کو پوری امت مسلمہ میں عام کرنا تاکہ کسی ایک طرف جھکاؤ نہ ہو بلکہ اعتدال اور توازن کے لئے ترازو کا سیدھا رکھنا، یعنی صراط مستقیم اختیار کرنا ہوگا تاکہ عبادات اور دیگر اعمال میں افراط و تفریط سے بچا جا سکے۔ دنیا کی طرف جھکاؤ ہوگا، تو قارون جیسا بننے کا خطرہ ہے، اور مذہب میں ہو تو رہبانیت کا خطرہ ہے، حالانکہ ارشاد نبویؐ ہے اسلام میں رہبانیت نہیں ہے۔ زندگی میں اعتدال ہونا لازم ہے خواہ عبادات ہوں، خواہ معاملات ہوں معاشی زندگی ہو یا معاشرتی زندگی، ان سب میں توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔

اور یہ کیسے قائم ہوگا؟ جب مومن اعتدال اور عدل سے کام لے گا اپنے رویوں میں بھی اعتدال اختیار کرے گا، معیشت میں بھی بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں عدل اختیار کرے گا، جس سے قرآن و سنت کی تعلیم پر عمل ہوگا، جو کہ اسلام کی روح ہے اس روح کا حصول ہی امت وسط امت معتدل ہی ممکن بنا سکے گی۔ نبیؐ کی امت شہادۃ علی الناس کا بھی فریضہ انجام دے سکے گی، بلکہ پہلی امتوں کے بارے بھی شہادت کا کام دے گی، کیونکہ اس امت محمدیہ کو تعلیم سے معلوم ہوا جیسا کہ قرآن حکیم میں اس کی گواہی موجود ہے اور اسی طرح ”کیا ہم نے تم کو امت معتدل نہیں کہا کہ ہو تم گواہ لوگوں پر اور ہو رسولؐ پر گواہی دینے والا۔“

اس تصور اسلام کو عوام تک پہنچانے کے لئے بہترین فورم، مساجد ہیں۔ جمعتہ المبارک کے خطبوں میں۔ اس تصور کو اجاگر کیا جائے تو نہایت ہی قلیل عرصہ میں اس تصور کو عوام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس امت وسط یا امتِ معتدل کو زندگی کے تمام شعبوں میں اعتدال لانا ہے، خواہ عبادات ہوں یا دنیوی معاملات، ہمارے لئے دین و دنیا دونوں برابر کی اہمیت رکھتے ہیں۔ کسی ایک کی طرف جھکاؤ ہوگا تو توازن کو قائم رکھنا نا ممکن ہوگا، جس کے لئے موثر تعلیم و تدریس کا ہونا لازم ہے۔ انہی تصورات کو نصابی کتب میں شامل کیا جائے تاکہ دین کا صحیح مفہوم اور امت معتدل کا صحیح تصور ابھر کر سامنے آ سکے۔ اسلام میں ہر دینی عمل کی ایک حد ہے، عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ نیک عمل جتنا بھی زیادہ ہو، وہ اچھا ہے، مگر یہ سوچ درست نہیں۔

شریعت نے ہمیں دینی معاملات میں بھی اعتدال کی تعلیم دی ہے، بلکہ اعتدال تو امت محمدؐیہ کی خاص صفت ہے، اسی لئے سورہ البقرہ کی آیت 143 کا ابتدائی حصہ ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ اسی طرح ہم نے تم کو معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول اکرمؐ پر گواہی دینے والا، یہ سمجھنا کہ نیکی کے کاموں میں اعتدال کی ضرورت نہیں اور نیک عمل جتنے بھی زیادہ سے زیادہ کرتے جاؤ درست ہی درست ہوگا، غلط سوچ ہے اور قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ قرآن حکیم نے اور قرآن حکیم کی تشریح کرتے ہوئے نبی اکرمؐ نے ہر عمل کی ایک حد بیان فرما دی ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)ختم شد

مزید : رائے /کالم