”غیرتِ ناہید“

”غیرتِ ناہید“
”غیرتِ ناہید“

  



ایک زمانہ تھا، جب ناہید سکندر مرزا مرکزِ نگاہ اور جانِ محفل ہوا کرتی تھی۔ وہ حسن و جوانی کا بھرپور شاہکار تھی اور پاکستان کے پہلے بے قاعدہ صدر، مملکت خداداد پاکستان کا شائد کوئی صدر بھی باقاعدہ نہیں ہوا، سکندر مرزا کی محبوبہ و بیوی! اپنے عہد میں سکندر مرزا ”صدر پاکستان“ اور ناہید، خاتون اول تھی۔ اس دور میں یہ جوڑی سب کی آنکھوں کا تارا رہی۔سکندر مرزا اختیار و اقتدار کے سبب، جبکہ ناہید شباب و جمال کی وجہ سے! سیاست دان، نوکر شاہی، جرنیل اور دیگر طالع آزما، ناہید بیگم کے اشارۂ ابرو کے منتظر رہتے!ایک وقت میں ”غیرت ناہید“ کی ہر تان دیپک تھی، حتیٰ کہ شاہ ایران دورہ پر آئے تو بھی یہ پری پیکر رضا شاہ پہلوی کی آنکھوں میں کُھب اور بلا روک ٹوک حضرت کے دل میں اتر گئی۔وہ پری وش، پری چہرہ چند ماہ پہلے دنیا سے رخصت ہو گئی۔ اس کے جانے سے کسی کی آنکھ نم ہوئی، نہ روایتی یا غیر روایتی کوئی تعزیت نامہ! کوئی ٹی وی پروگرام ہوا، نہ کسی اخبار میں کوئی سوگوار صفحہ چھپا۔ بہت سے لوگ تو ان کا نام اور کردار ہی بھول چکے تھے۔ عام خیال تھا کہ وہ کب کی کہیں مر چکی ہو گی۔ اس کی کوئی یاد کسی کے خواب و خیال میں بھی باقی نہیں تھی کہ ایک کالمی دوسطری طویل مختصر خبر نے چونکا دیا:”پاکستان کے پہلے صدر سکندر مرزا کی بیوہ ناہید سکندر مرزا لندن میں انتقال کر گئیں۔ وہ طویل عرصے سے علیل اور لندن کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھیں“۔

مجھے پختہ یقین ہے کہ وہ کوئی عام ہسپتال ہی ہو گا، جہاں مسلسل مبتلائے اذیت رہ کر گوشہء گمنامی میں داخل ہو جانے والی اس معروف خاتون نے دم توڑا۔ وہ کسی بہت معیاری جگہ علاج کروا ہی نہیں سکتی تھی۔ وہ کوئی ماضی قریب و بعید کی خاتون اول تھوڑی تھی۔ اس کے خاوند کو ایوب خان نے ایوانِ حکومت سے نکالا تو اسے لندن ہی کے ایک ریسٹورنٹ میں بطور منیجر ملازمت اختیار کرنا پڑی تھی۔ گویا جدید لغت میں سکندر مرزا نالائق آدمی تھا۔ اسے کرپشن کا قرینہ ہی نہیں آیا۔ شاید انسان کے بس میں کسی نہ کسی طرح بے بسی لکھ دی گئی ہوتی ہے۔ اغلباً اسی واقعہ سے ”عبرت“ پکڑ کر وطن عزیز کے جائز و ناجائز حکمران قوم کا لہو پینے اور جینے لگے ہیں۔ ویسے ناہید سکندر کی اس طرح حیات و وفات میں ملک کے ہر مرد و خاتون اول کے لئے سبق موجود پایا گیا ہے۔ تاریخ کا مگر سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ کبھی عبرت سے کسی نے کوئی سبق نہیں سیکھا!کم بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ سکندر مرزا قومی غدار و رسوائے زمانہ کردار میر جعفر کا حقیقی پڑپوتا تھا۔ اس نے ایک وقت میں اپنے پردادا کے دفاع میں باقاعدہ کتاب بھی لکھی، جو ریکارڈ کا حصہ ہے۔

سکندر مرزا کا پس منظر غدارانہ تھا۔ ظاہر ہے اس میں اس کا کوئی قصور نہیں، لیکن پاکستان میں تو ان کے علاوہ بھی اکثر وہ حکمران وارد ہوتے چلے آئے ہیں، جن کا پیش منظر ان سے بھی زیادہ جفاکارانہ ہے۔ ساٹھ ستر برس بعد دیکھا جائے گا کہ تاریخ کے کٹہرے میں کون، کہاں کھڑا ہے؟ ساٹھ ستر سال؟ یہ تو ابھی عیاں، بلکہ عریاں ہوتے جاتے ہیں!ناہید سکندر مرزا کبھی دیگر ”خاتون اولوں“ کی طرح بہت خاص ہوا کرتی تھی، مگر وقت کے ہاتھوں بالکل عام ہو کر مری۔ سب نے مرنا ہے۔ ہم سب مر جائیں گے۔ دیکھنا لیکن یہ ہے کہ زندگی کے سفر میں کسی نے کیا کمایا؟بس صرف زندہ رہا یا اپنے بعد زندگی کا کوئی ثبوت بھی چھوڑا؟ مرحومہ اپنے عہد کی ایک مقبول، توانا اور جاندار و شاندار عورت تھی، لیکن اب وہ کس دستور کی رعایت سے زندہ رہے گی؟ اللہ رب العزت اس کی مغفرت فرمائے۔

مزید : رائے /کالم