کپتان اور ٹیم

کپتان اور ٹیم
کپتان اور ٹیم

  



عمران خان کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم نے ورلڈ کپ جیتا تھا۔ اس ٹیم میں جاوید میاں داد، وسیم اکرم، انضمام الحق، رمیز راجہ، عاقب جاوید، مشتاق احمد، معین خان، عامر سہیل، اعجاز احمد اور سلیم ملک جیسے نامور کھلاڑی شامل تھے۔ اس ورلڈ کپ میں قسمت نے بھی بہت ساتھ دیا تھا۔ بہر حال کپتانی عمران خان کی تھی، ساتھ قسمت کا تھا، لیکن انتہائی جانفشانی سے ٹیم لڑی تھی اور ورلڈ کپ جیت گئی تھی۔…… اب پچھلے 23 سال سے کپتان ملکی سیاست کا نیشنل کپ کھیل رہا ہے۔ فیلڈنگ بہت زیادہ لمبی کرنا پڑی، پورے 22 سال، تب کہیں جا کر بیٹنگ آئی۔ اب کپتان اپنی ٹیم کے ساتھ بیٹنگ کر رہا ہے۔ کرکٹ ورلڈ کپ کے برعکس جہاں امپائر اور ریفری غیر جانبدار تھے، سیاسی نیشنل کپ کے امپائر اور ریفری کھلم کھلا کپتان کے ساتھ ہیں۔ پہلے ان امپائروں نے مخالف ٹیم کے زیادہ تر کھلاڑیوں کو غلط آؤٹ دے کر ان کی باری ختم کرائی، کسی کی ٹانگ پر بال لگی بھی نہیں تھی کہ اسے ایل بی ڈبلیو دے دیا،

کوئی اپنی کریز میں موجود تھا کہ اسے سٹمپ کہہ کر واپس پویلین میں بھیج دیا، کوئی اطمینان سے کریز میں پہنچ چکا تھا،لیکن اسے رن آؤٹ قراردے دیا، کسی کو کیچ اور کسی کو بولڈ، حتیٰ کہ ہینڈلڈ دی بال اور ہٹ وکٹ بھی غلط ہی دئیے جاتے رہے۔ جب تمام مخالف ٹیمیں آؤٹ ہو کر پویلین میں واپس لوٹ گئیں تو کپتان کی ٹیم نے واک اوور جیسے سٹائل میں اپنی باری شروع کی۔ مخالف ٹیم کے سب سے بڑے باؤلر کو ریفری پہلے ہی نا اہل کر چکے تھے، باقی کے باؤلروں کو امپائروں نے سنبھال لیا ہے، جب بھی کپتان یا اس کی ٹیم کا کوئی کھلاڑی کیچ آؤٹ یا کلین بولڈ ہوتا ہے تو امپائر فورا نو بال دے دیتے ہیں۔ اب 15 مہینے ہو گئے ہیں،جس میں کپتان اور اس کی ٹیم کے کھلاڑی جب بھی آؤٹ ہوئے، امپائرکا ایک بازو نو بال کے لئے سیدھا ضرور ہوا۔ کپتان ہر روز با آواز بلند اعلان کرتا ہے کہ اسے کوئی آؤٹ نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ اور امپائر ایک پیج پر ہیں۔

امپائر، ریفری اور سکورر کپتان کے ساتھ ہونے کے باوجود 22 کروڑ عوام اس لئے فکرمند ہیں کہ انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ کپتان کرکٹ کا زبردست کھلاڑی ضرور تھا، لیکن سیاست کے کھیل میں صرف امپائروں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ کپتان اور اس کی ٹیم کو اچھی پرفارمنس بھی دکھانا پڑے گی،کیونکہ اس کے بغیر اچھی بیٹنگ ممکن نہیں۔ ریفری اگر مخالف باؤلروں کو نا اہل کرکے میدان سے باہر بھی نکال دیں اور امپائر ہر بار آؤٹ ہونے پر نو بال دیتے بھی رہیں،تب بھی سنچری اس وقت ہی بنے گی، جب کپتان اور اس کی ٹیم اچھا کھیلے۔ کپتان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ لگاتار بولنے اور بڑے بڑے دعوے کرنے میں تو بہت ماہر ہے، لیکن وکٹ پر ہر بال اس کے میرٹ کے مطابق نہیں کھیل پاتا، اسی لئے کبھی بیٹ ہوتا ہے اور گیند اس کے بلے کے بالکل قریب سے گذر جاتی ہے اور کبھی سلپ کی طرف کیچ دے بھی دیتا ہے، لیکن اس دوران بھی اس کا دھیان اچھا کھیلنے کی بجائے مخالف باؤلروں پر طنزیہ جملے کسنے اور انہیں ڈرانے دھمکانے پر ہی رہتا ہے۔

مخالف ٹیم کے جس سب سے بڑے باؤلر کو ریفری نے نااہل کرکے میدان سے باہر بھیج دیا تھا اور بعد میں امپائروں کی مرضی سے سکورر نے جیل میں بند کر دیا تھا، جب وہ اچانک شدید بیمار ہوگیا اور سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ اسے صحیح تشخیص اور علاج کے لئے بیرون ملک بھیج دیا جائے تو اس وقت بھی کپتان نے مختلف حیلوں بہانوں سے اس کی روانگی میں دو قیمتی ہفتوں کی تاخیر کروائی اور اس کے جانے کے بعد بھی کپتان نے ایسی باتیں جاری رکھیں کہ بہت سے لوگوں کو کپتان کی ذہنی حالت پر بھی شکوک و شبہات پیدا ہو گئے۔ کچھ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ نیشنل کپ کھیلنے والے ہر کھلاڑی کا ذہنی معائنہ لازمی قرار دے دینا چاہئے۔ کپتان نے جب سے بیٹنگ شروع کی ہے، مختلف اوقات میں مختلف باتوں پر اس کا مذاق بھی بنتا رہا ہے۔ وہ کبھی جرمنی اور جاپان کی سرحد ملا دیتا ہے اور کبھی اسے لگتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کا تاریخ میں کہیں کوئی ذکر نہیں ہے۔ اسی طرح کبھی کپتان قائد اعظمؒ کو ٹی بی کی بجائے کینسر کا مریض قرار کرا دیتا ہے اور کبھی القاعدہ بنانے کا ذمہ دار پاکستانی فوج اور ایجنسیوں کو قرار دے دیتا ہے۔

مخالف ٹیم کے سب سے بڑے باؤلر کو علاج کے لئے باہر جانے کی اجازت کپتان اور اس کی ٹیم نے خود دی لیکن بعد میں اپنے پرستاروں کو خوش کرنے کے لئے اس کی ذمہ داری عدلیہ پر ڈال دی، بڑے جج صاحب سے ڈانٹ پڑی تو وہی ذمہ داری ججوں سے اٹھا کر ڈاکٹروں پر ڈال دی، حالانکہ ڈاکٹروں کے بنائے گئے بورڈ کپتان کے اپنے تھے، اور تو اور اپنے ذاتی ہسپتال کے ڈاکٹر کو بھی بھیج کر تسلی کی تھی اور ان تمام تسلیوں کے بعد ہی کپتان نے مخالف باؤلر کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔ کپتان اور اس کی ٹیم کا انداز عزیز میاں قوال اور ہم نوا جیسا ہے۔ جب کپتان طرح لگاتا ہے تو اس کی ٹیم کے کھلاڑی بھی طرح لگانے اور تالیاں بجانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

.3

ایک سینیٹر صاحب نے فرمایا کہ کپتان دراصل خوش ہو رہے تھے کہ مریض اتنا صحت مند ہو گیا ہے کہ دوڑتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ رہا ہے۔ کپتان کی ٹیم میں ایک سے بڑھ کر ایک کریکٹر موجود ہے۔ کپتان کے اپنے پاس ٹیم بنانے کے لئے چونکہ کھلاڑی نہیں تھے، اس لئے کچھ کھلاڑی اس نے پندرہ بیس سال پہلے کھیلنے والی جنرل پرویز مشرف کی ٹیم سے ادھار لئے اور باقی کے دس سال پہلے کھیلنے والی ایک مرد حر کی ٹیم سے۔ یہ کھلاڑی اس وقت بھی بہت برا پرفارم کرکے شائقین سے صلواتیں سنا کرتے تھے،آج کپتان کی ٹیم میں بھی ان کا یہی حال ہے۔ کپتان کی بیٹنگ کا حال سنانے کے لئے کپتان نے مر دِ حر ٹیم کی ایک خاتون کھلاڑی ادھار لی ہوئی ہے۔ یہ محترمہ جتنی بے عزتی اپنی پچھلی ٹیم کی کراتی تھیں،اس سے زیادہ آج کل اپنے کپتان کی کراتی ہیں۔ انہیں آئے دن توہین عدالت کے الزام میں عدالت طلب کیا جاتا ہے،جہاں سے ہر بار معافی مانگ کر وہ اپنی گلو خلاصی کرا لیتی ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ عدالت میں جس کی گئی گفتگو پر غیر مشروط معافی مانگ کر اور معاف ہو کر باہر نکلتی ہیں، چند گھنٹوں بعد وہی تمام باتیں ایک نئی پریس کانفرنس میں دوبارہ کر دیتی ہیں۔ اس سے ان کے کانفیڈنس کا پتہ لگتا ہے۔

ان کا یہ کانفیڈنس شائد اس لئے بھی ہے کہ وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ عدالت میں بیٹھے ریفری، مخالف ٹیم کے دانیال عزیز اور طلال چودھری کو جن باتوں پر پانچ سال کے لئے نا اہل کرکے میدان سے باہر نکالتے رہے ہیں، انہی باتوں پر انہیں پانچ پانچ بار معافی ملتی رہے گی۔ کپتان اور اس کی ٹیم کا سارا گیم پلان ہی ریفری اور امپائر پر انحصار کرتا ہے۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا، وہ مخالف ٹیم کے سب سے بڑے باؤلر کی تضحیک کرتے ہوئے جتنی مرضی بار عدالتوں کو رگڑا دیں، ہر بار انہیں معافی مل جایا کرے گی۔کپتان کی ٹیم کے وکٹ کیپر عالمی مایہ ناز کھلاڑی ہیں، جو اس سے پہلے جنرل پرویز مشرف اور مردِ حرکی ٹیموں میں بھی اپنے ہنر اور فن کی داد وصول کرتے رہے ہیں۔

کپتان نے شروع میں اسد عمر سے وکٹ کیپنگ کرائی تھی، لیکن وہ صورت حال کی انتہائی بھیانک منظر کشی کرتے ہوئے تمام قصور پچھلی ٹیموں پر ڈالتے رہتے تھے، جس کی وجہ سے کپتان کے پرستاروں میں مایوسی پھیلنا شروع ہو گئی تھی۔ وکٹ کیپر کی تبدیلی کے ساتھ ہی تمام منظر یکا یک مسحور کن ہو گیا، ہر قسم کے خسارے مثبت اعشاریوں میں بدل گئے،کیونکہ یہ وکٹ کیپر انتہائی دلکش تصویر کشی کے ماہر ہیں۔ وہ اتنی اچھی باتیں کرتے ہیں کہ تین چار سو روپے فی کلو خریدتی قوم کو بھی یقین آنا شروع ہو جاتا ہے کہ ٹماٹر تو واقعی سترہ روپے کلو کھلے عام دستیاب ہیں، جتنے مرضی چاہو خرید لو۔ پچھلے وکٹ کیپر کے پھیلائے ہوئے تمام منفی تاثر کو اس عالمی شہرت یافتہ وکٹ کیپر نے اتنا مثبت کر دیا ہے کہ لگتا ہے پاکستان کی معیشت تو کبھی خراب ہوئی ہی نہیں تھی۔ کہتے ہیں خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے، اس لئے اس اچھے سبق کو کچھ اور کھلاڑیوں نے بھی دہرایا۔ ایک بیٹسمین جو مرد حُر کی ٹیم میں بھی بیٹنگ کیا کرتے تھے، انہوں نے فوراً کہا کہ مٹر تو پانچ روپے کلو ہیں، جبکہ ایک اور کھلاڑی نے کھیرے تین روپے کلو کی خوش خبری سنائی۔

ایک اور کھلاڑی، جنہوں نے جب سے بیٹنگ شروع کی ہے، لگاتار حادثوں کے انبار لگ گئے ہیں اور ان کے بارے میں مشہور ہونا شروع ہو گیا تھا کہ چین کی حکومت انہیں پسند نہیں کرتی، انہوں نے بقلم خود چینی حکومت کا سرٹیفکیٹ لا دیا ہے کہ چینی حکومت کے تو وہ لاڈلے ہیں، اس لئے انہیں بیٹنگ لائن سے ہٹانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ یہ جب جنرل پرویز مشرف کی ٹیم میں تھے تو اس وقت بھی آئے دن ہونے والے حادثوں پر انہوں نے فرمایا تھا کہ وہ کوئی ٹرین ڈرائیور نہیں ہیں کہ حادثوں کا ذمہ دار انہیں قرار دیا جائے۔ اسی طرح ٹیم کے ایک اور کھلاڑی لمبے لمبے چھکے مارنے کے لئے اتنے مشہور ہو چکے ہیں کہ لوگوں کو لگتا ہے،اگلے چند ہفتوں میں کئی کروڑ نوکریوں کا اعلان ہو گا اور نہ صرف پاکستان کے تمام نوجوان برسر روزگار ہو جائیں گے، بلکہ دنیا بھر سے لوگ نوکری کرنے پاکستان آیا کریں گے۔ کپتان کی ٹیم کے ایک کھلاڑی جو اپنی عقلمندی کی وجہ سے مشہور ہیں اور ان کی اس بے انتہا عقلمندی کا راز اس شہد میں بتایا جاتا ہے جس کے زیر اثر وہ اکثر اوقات ارسطو اور سقراط سے بھی بڑے فلاسفر بن جاتے ہیں۔ انہوں نے اسی حالتِ عقلمندی میں قوم کو یہ بتا کر مطمئن کر دیا ہے کہ مہنگائی جتنی بڑھے گی،عوام کے لئے اتنی ہی زیادہ فائدہ مند ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ جب بیس روپے والی سبزی ڈیڑھ دو سو، اور تیس روپے والا ٹماٹر تین سو روپے کلو فروخت ہو گا تو اس کا مطلب ہے ہمارے کسان بھائیوں کی آمدنی میں دس گنا اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا پاکستان میں پہلے کوئی ایسی ٹیم آئی تھی، جس نے دس کروڑ کسانوں کی آمدنی میں دس گنا اضافہ کیا ہو؟……کپتان اور ان کی ٹیم کی بیٹنگ جاری ہے۔مخالف ٹیم کے اچھے باؤلر میدان سے باہر نکالے جانے کے بعد کپتان اور ان کی ٹیم کے بیٹسمین خوب چھکے چوکے لگا رہے ہیں، البتہ فیلڈنگ عوام کو کرنا پڑ رہی ہے، جس نے آس تو ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کی لگائی ہوئی تھی اور اسے دودھ اور شہد کی نہریں بہنے کا یقین تھا، فی الحال اسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں، روزگار کے ملنے اور مہنگائی کم ہونے کے آثار بھی کہیں دور دور تک نظر نہیں آتے، لیکن ہر چوکے اور چھکے پر اسے داد دینا پڑ رہی ہے کہ اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور چوائس ہی نہیں ہے۔

مزید : رائے /کالم