مغرب کا اسلام فوبیا: ملتِ اسلامیہ کب متحد ہو گی؟

مغرب کا اسلام فوبیا: ملتِ اسلامیہ کب متحد ہو گی؟
مغرب کا اسلام فوبیا: ملتِ اسلامیہ کب متحد ہو گی؟

  



غیر مسلم اہل مغرب یوں تو خود کو بہت مہذب کہتے ہیں،لیکن ان کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں خبثِ باطن بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ توہینِ مذہب اور توہینِ پیغمبرؐ وہ ایسے کرتے ہیں جیسے اپنی کوئی گھٹیا عبادت کر رہے ہوں۔ پھر تف ہے ان کی حکومتوں پر جو آزادیئ اظہار کا مطلب نہیں سمجھتیں اور اپنے انتہا پسندوں سے خوفزدہ ہو کر ان کی پردہ پوشی کرتی ہیں۔ یہ سیکنڈے نیوین ممالک اس حوالے سے کچھ زیادہ ہی انتہا پسندی کا شکار ہیں۔ پہلے سویڈن میں خاکوں کے ذریعے اسلام کے مذہبی شعار کا مکروہ انداز میں مضحکہ اڑانے اور اب ناروے میں قرآن مجید کو نذرِ آتش کرنے کے سنگین واقعہ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان ممالک میں ایک مشن کے تحت توہین اسلام کو ہدف بنا لیا گیا ہے اور باقاعدہ چوک یا شاہراہوں پر ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو دنیا کے سوا ارب مسلمانوں کے جذبات کو برانگیختہ کر دیتے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ مزے لینے کے لئے کیا جاتا ہے کہ مسلمان ان سے کیسے تڑپتے ہیں، کیسے آگ بگولا ہو جاتے ہیں یا اس کا مقصد تہذیبوں کا تصادم ہے؟ جس کے پس پردہ یہ تعصب کار فرما ہے کہ اگر مغرب کے لوگوں کو اسلام سے متنفر نہ کیا گیا تو وہ بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے اور صیہونیت و عیسائیت کو بہا لے جائے گا۔

ناروے میں پیش آنے والا واقعہ دنیا بھر میں دیکھا گیا۔ ایک پُر رونق چوراہے پر باقاعدہ پولیس اور سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں ایک جنونی نے قرآن مجید کو نذر آتش کیا، اگر وہ سر فروش نوجوان مجاہد بجلی بن کر اس پر نہ ٹوٹتا تو کسی نے اسے نہیں روکنا تھا، حتیٰ کہ وہ پولیس والے بھی تماشا دیکھتے رہتے، جو چاروں طرف کھڑے تھے اور انہوں نے جنونی پر حملہ کرنے والے نوجوان کو تو پکڑنے میں دیر نہیں لگائی،البتہ اس جنونی کو خاموش کھڑے دیکھتے رہے۔ اس سے یہ اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہئے کہ سکینڈے نیوین ممالک میں اس بات کو باقاعدہ سر عام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ جب پوری دنیا کے مسلمانوں میں شدید ردعمل پیدا ہوتا ہے تو گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے ایک مذمتی بیان جاری کر دیا جاتا ہے۔

یہاں تو ناروے کی حکومت نے مذمتی بیان بھی جاری نہیں کیا، بلکہ صرف اتنا کہا ہے کہ قرآن مجیدکو نذر آتش کرنے کے عمل کی منظوری نہیں دی جا سکتی…… یہ کیا بیان ہے؟…… اس سے تو یہی لگتا ہے کہ انتہا پسندوں کو یہ کہا گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ایسا کرتے ہیں تو کریں، حکومت اس کی منظوری نہیں دے سکتی۔ یہ بیان بھی شاید اس لئے دینے کی ضرورت پیش آئی کہ پاکستان نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ناروے کے سفیر کو بلاکر سرزنش کی گئی اور اسے ناقابل برداشت عمل قرار دیا گیا۔ اُدھر یہ خبریں اڑیں کہ ناروے سے تجارتی روابط منقطع کئے جا رہے ہیں، جس سے اسے اربوں ڈالر سالانہ کا نقصان ہوگا۔ مغرب مالی نقصان سے بہت گھبراتا ہے، اسے اس نقصان کی کوئی فکر نہیں جو مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے سے ہوتا ہے۔ اگر شدید عوامی ردعمل اور حکومت کی سطح پر احتجاج سامنے نہ آتا تو اس واقعہ پر ناروے حکومت دبے لفظوں میں ہی سہی معذرت بھی نہ کرتی۔

وزیر اعظم عمران خان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جو ولولہ انگیز تقریر کی تھی، اس کا ایک ایک لفظ سچ ثابت ہو رہا ہے۔ مغربی انتہا پسند جنونیوں نے اس بات کو بھانپتے ہوئے کہ مسلمان اپنے نبیؐ اکرم کی توہین کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کرتے اور اس کا ردعمل شدید آتا ہے، اس بار ایک دوسرا حربہ اختیار کیا۔ دنیا کی آخری الہامی کتاب اور کلامِ الٰہی قرآن مجید کو نذر آتش کرنے کی جسارت کا ناپاک منصوبہ بنایا، مقصد وہی تھا کہ کسی طرح اسلام کے خلاف اپنے خبثِ باطن کو سامنے لایا جائے۔ دنیا میں آج تک کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جس میں مسلمانوں نے توریت یا انجیل کی بے حرمتی کی ہو۔ مسلمان انہیں بھی کلامِ الٰہی سمجھتے ہیں،جن کا ذکر قرآنِ مجید میں بھی موجود ہے۔ حیرت ہے کہ اہل مغرب کو اتنی سی بات بھی معلوم نہیں کہ مسلمان آخری الہامی کتاب کے وارث ہونے کے باوجود پہلے والی کتابوں کی حرمت اور سچائی کو تسلیم کرتے ہیں، البتہ قرآن مجید کے بعد کوئی اور الہامی کتاب نہیں آئے گی اور نہ ہی پیغمبر اترے گا۔

کیا عیسائی اور یہودی پادری و علماء اپنے لوگوں کی تربیت نہیں کر سکے۔ کیا وجہ ہے کہ پوپ تو یہ درس دیتے ہیں کہ تمام مذاہب کا احترام کیا جائے، وہ اسلام کی حقانیت کو بھی مانتے ہیں، مگر ان کے پیرو کار ان کی بات نہیں مانتے اور پُر تشدد اعمال پر اتر آتے ہیں۔ اس طرح تو دنیا کا امن برقرار نہیں رہ سکتا۔ ایسا بھی نہیں کہ پورا مغرب اس انتہا پسندی کی لہر میں ڈوبا ہوا ہے۔ یہ تھوڑے سے لوگ ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان تھوڑے سے لوگوں کو آزادیء اظہار کے نام پر جو چھوٹ دی گئی ہے، اس کا وہ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی پہلو کی طرف وزیر اعظم عمران خان نے اقوامِ متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے دنیا کی توجہ دلائی تھی۔ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروع کرنا آزادیئ اظہار کے زمرے میں نہیں آتا۔ جس آزادی سے کروڑوں لوگوں کی دلآزاری ہو، اسے آزادی کیسے کہا جا سکتا ہے؟ پھر اس کے ردعمل میں جو انتہا پسندی ہوتی ہے، اسے ناجائز کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ مسلمانوں کو دنیا میں اگر کسی وجہ سے سخت تکلیف پہنچتی ہے تو وہ قرآن مجید اور حضور اکرمؐ کی شان میں گستاخی ہے۔

جب اہل مغرب آزادیء اظہار اور توہین مذہب میں تمیز روا نہیں رکھتے تو دنیا کا امن خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ میں مسجد کے اندر قتلِ عام کا واقعہ ہوا تو خود نیوزی لینڈ کے عوام اور حکومت کو یہ فوری احساس ہو گیا کہ خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ پھر جس طرح نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے فرنٹ فٹ پر آ کر اس واقعہ کی مذمت کی اور اسے نیوزی لینڈ کی پالیسی اور تہذیبی روایات سے متصادم قرار دیا، اس نے نیوزی لیڈ کو انتہا پسندی کا اکھاڑہ بننے سے بچا لیا۔ سوال یہ ہے کہ اس قسم کا ردعمل سکینڈے نیوین ممالک کی حکومتیں کیوں ظاہر نہیں کرتیں؟ خاکوں اور قرآن مجید کو نذر آتش کرنے جیسے واقعات پر آزادیء اظہار کا عذر کیوں پیش کرتی ہیں؟ انتہا پسندی کو فروغ دینے والا آزادیئ اظہار تو دنیا کو تہذیبوں کے تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے، جس میں کچھ بھی نہیں بچے گا۔

پاکستان ہمیشہ ایسے واقعات پر اسلام اور حرمتِ رسولؐ کے دفاع میں ہراول دستے کا کردار ادا کرتا ہے، اس بار بھی ایسا ہی ہوا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کی اس ضمن میں اجتماعی آواز کیوں بلند نہیں ہوتی، کیوں ہر بار پاکستان کو ہی او آئی سی کو خوابِ غفلت سے جگانا پڑتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے مغرب کی توجہ اس معاملے کی طرف مبذول تو کرائی تھی، مگر اسے ایک مسلم اُمہ کا مسئلہ بنا کر اقوامِ عالم کے سامنے کیوں نہیں رکھا جاتا۔ او آئی سی کو ناروے میں ہونے والے شرمناک واقعہ کے خلاف فوری اجلاس بلا کر واشگاف الفاظ میں دنیا کو یہ پیغام دینا چاہئے کہ آئندہ اگر کسی مغربی ملک میں ایسا واقعہ ہوا اور وہاں کی حکومت نے ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن نہ لیا تو امتِ مسلمہ اس سے تعلقات منقطع کرلے گی۔

یہ اجتماعی پیغام اگر دنیا کو مل جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ آئندہ ایسے واقعات کا مستقل سد باب نہ ہو جائے۔ یہ بات واضح ہے کہ مغرب کے اس انتہا پسندانہ بیانیہ کو وہاں کی حکومتوں کے آزادیئ اظہار کی خود ساختہ تعبیر نے تحفظ فراہم کیا ہوا ہے۔ جب تک وہ مسلمانوں کے اس حق کو تسلیم نہیں کرتے کہ انہیں اپنے شعارِ اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے۔ اس وقت تک ایسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ قرآن مجید کو سر عام نذر آتش کرنا ایک بہت سنگین واقعہ ہے۔ اس کی بہت زیادہ علامتی اہمیت ہے، اس کے خلاف نہ صرف پاکستان، بلکہ پوری اسلامی دنیا کو احتجاج کرنا چاہئے اور اس وقت تک کرتے رہنا چاہئے جب تک اقوامِ متحدہ کی طرف سے یہ یقین دہانی نہ کرا دی جائے کہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ عالمی دہشت گردی سمجھا جائے گا۔

مزید : رائے /کالم