ہم پاکستانیوں کا پیمانہء ذہانت!

ہم پاکستانیوں کا پیمانہء ذہانت!
ہم پاکستانیوں کا پیمانہء ذہانت!

  



کوئی بھی بیانیہ جھوٹا ہو یا مشکوک، مسلسل تکرار سے حقیقت نظر آنے لگتا ہے۔ یہی بات ہٹلر کے وزیراطلاعات گوئبلز نے بھی پراپیگنڈا کی تعریف کرتے ہوئے کہی تھی کہ یہ اگرچہ جھوٹ ہوتا ہے لیکن اس تواتر سے بولا جاتا ہے کہ سچ نظر آنے لگتا ہے۔ متاعِ سیاست ویسے بھی سو فیصد صداقت نہیں ہوتی، اس میں جھوٹ کی آمیزش ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ہر معاشرے کا ایک اوسط پیمانہ ء ذہانت (IQ) ہوتا ہے۔ زیادہ باخبر اور لکھے پڑھے معاشرے زیادہ ذہین تو ہوتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی زیادہ ہوشیار اور چالاک بھی ہوتے ہیں۔

چالاکی ایک ایسی صفت ہے کہ اگر اس کو مزید آگے اور اوپر لے جائیں تو عیاری کہلاتی ہے۔ یہی حال ذہانت کا بھی ہے۔ زیادہ ترقی یافتہ معاشرہ چونکہ زیادہ ذہین لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس لئے زیادہ عیّار بھی ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پس ماندہ معاشرے اپنے پیمانہء ذہانت کی پس ماندگی کی وجہ سے عرفِ عام میں سادہ کہلاتے ہیں لیکن اصل میں ان کی سادگی، ترقی یافتہ معاشروں میں حماقت اور بے وقوفی گردانی جاتی ہے۔ پاکستانی معاشرہ نہ تو پس ماندہ ہے اور نہ ہی ترقی یافتہ۔ ان دو انتہاؤں کے درمیان والے معاشرے کو ترقی پذیر کہہ دیا جاتا ہے۔ چنانچہ ہم پاکستانی ذہین بھی ہیں اور احمق بھی۔ اور اگر ہمارے IQ کی اوسط نکالی جائے تو ترازو کے دونوں پلڑے برابر ہوں گے۔

اس تناظر میں پاکستانی سیاست کو دیکھنا ہو تو اپنے سیاسی لیڈروں کے بیانات کا تجزیہ کر لیں۔ انتخابات کے دوران جو وعدے وعید کئے جاتے ہیں وہ انتخابات کے بعد یا تو بھلا دیئے جاتے ہیں یا ان کی شدتِ اصابت کم ہوتی نظر آنے لگتی ہے۔ عمران خان نے الیکشنوں کے دوران جو وعدے پاکستانی عوام سے کئے تھے وہ ان کے وزیراعظم بننے کے بعد جب پورے ہوتے نظر نہ آئے تو میڈیا نے اپنے تجزیاتی تبصروں میں ان کے ”الیکشنی وعدوں“ کو بار بار پردۂ سکرین پر دکھا کر ان کو ”جھوٹا“ ثابت کرنے کی کوششیں کیں جو اب تک کی جا رہی ہیں۔ اب تک ہمارے میڈیا کو شائد یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ”الیکشنی وعدے“ حقیقت نہیں ہوتے، حقیقت نما ہوتے ہیں۔ انہیں آپ پراپیگنڈا کہہ لیں تو زیادہ درست ہو گا۔

سیاسی پارٹی کوئی بھی ہو وہ حصولِ اقتدار سے پہلے مستقبل کی جو تصویر کشی کرتی ہے وہ سہانا خواب تو نہیں ہوتا لیکن اسے ڈراؤنا خواب (Nightmare) بھی نہیں کہا جا سکتا۔ ہم جیسے ترقی پذیر معاشروں کے عوام کو ہمیشہ یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ حصولِ اقتدار سے ماقبل اور مابعد کے زمینی حقائق میں زمین و آسمان کا فرق ہو سکتا ہے…… سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ جو پانی حدِ نظر تک اوپر سے ہموار نظر آتا ہے اس کے نیچے کیسے کیسے طوفان امنڈتے ہیں جو ننگی آنکھ سے نظر نہیں آتے۔

عمران خان نے الیکشنوں سے پہلے اپنی انتخابی مہم میں وعدوں کے جو سبز باغ عوام کو دکھائے وہ الیکشنوں کے بعد ان کے اقتدار میں آنے کے بعد سیاہ باغ بن گئے۔(اگر زیادہ رعائت دینی مقصود ہو تو ہم ان کو نسواری رنگ کے باغ کہہ سکتے ہیں)۔ ان کے یہ وعدے گویا سمندر کنارے کھڑے ہونے کی پوزیشن کے تھے۔ ان کو خبر نہ تھی کہ وہ جب سمندر میں اتریں گے تو کیسے کیسے گردابوں اور مگرمچھوں سے پالا پڑے گا۔ یہی گرداب اور یہی مگرمچھ صرف عمران خان کو ہی نہیں ان سے پہلے نوازشریف، زرداری اور پرویز مشرف وغیرہ کو بھی بھگتنے پڑے تھے۔ پاکستانی میڈیا کے ٹاک شوز میں سیاسی لیڈروں کے دورِ ماضی کی جو تقاریر آن ائر کی جاتی ہیں اور ان کو دکھا اور سنا کر ناظرین و سامعین کو باخبر کرنے کی جو سعی میڈیا کی جانب سے کی جاتی ہے وہ مبنی پر حقیقت نہیں ہوتی۔ اگر آپ کو یہ معلوم ہو کہ یہ سیاسی وعدے، محبوبوں کے وعدوں کی مانند تمام تر اور 100فیصد وفا نہیں ہوں گے تو آپ نہ زیادہ خوش ہوں گے اور نہ زیادہ اداس!……

پی ٹی آئی کے لیڈروں نے 2018ء کے الیکشن اس نعرے پر جیتے کہ وہ اگر اقتدار میں آئے تو کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ لیکن جب عمران خان کو اقتدار مل گیا تو معلوم ہوا کہ کرپشن کی جڑیں اور زیادہ گہری ہو گئی ہیں …… پھر خان صاحب نے گزشتہ 14مہینوں میں ٹی وی پر آکر 14مرتبہ سے زیادہ یہ نعرۂ مستانہ دہرایا کہ: ”میں مرجاؤں گا لیکن کسی کرپٹ کو NRO نہیں دوں گا!“ لیکن گزشتہ دنوں جب نوازشریف بیمار ہوئے تو ان کی بیماری کی شدت دیکھ اور سن کر فرمایا کہ وہ ’انسانی ہمدردی‘ کی بنیادوں پر نوازشریف کو بیرونِ ملک علاج کرانے کی سہولت دینے کو تیار ہیں …… ان کا یہ اباؤٹ ٹرن سن کر مجھے تو چنداں حیرت نہ ہوئی لیکن عوام کے ایک بڑے طبقے کو ضرور ہوئی کہ یکایک انکار کرتے کرتے اقرار کیوں کر لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو 18اگست 2018ء کو بحرِ اقتدار میں کودنے کے بعد معلوم ہوا کہ گرداب کتنے گہرے اور نہنگ کتنے خونخوار ہوتے ہیں۔ جب لاہور ہائیکورٹ نے نوازشریف کو ایک ماہ کے لئے لندن جانے کی اجازت دے دی تھی تو اس پر چینی وزارتِ اطلاعات نے جو فوری تبصرہ کیا تھا وہ ہمارے میڈیا پر کم کم ڈسکس کیا گیا……

چین وہ واحد عالمی طاقت ہے جو پاکستان کی ہمہ موسمی دوست اور حمائتی ہے۔ جب چین نے پاکستان کو کہا کہ اقتصادی استحکام کے لئے سیاسی استحکام ناگزیر ہوتا ہے اور اس لئے پاکستان کو نوازشریف کے بیرونِ ملک جانے پر پابندی کے سلسلے میں ضد نہیں کرنی چاہیے تو خان صاحب کو معلوم ہوا کہ NRO نہ دینے کی بار بار رٹ لگانے کے باوجود NRO دے دینا چاہیے…… پھر ہم نے دیکھا کہ عمران خان کو ایسا ہی کرنا پڑا…… یہ یوٹرن بھی اگرچہ بہت بڑا یوٹرن تھا لیکن اس سے خان صاحب کی سبکی کا پہلو بھی اسی نسبت سے بڑا ہو گیا جو آج کل الیکٹرانک میڈیا پر بڑے ’خشوع و خضوع‘ سے صبح شام دہرایا جا رہا ہے…… یہ کڑوا گھونٹ بھی ان کو پینا پڑا۔ کون نہیں جانتا کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی اکثریت بھی کچے دھاگے سے بندھی ہوئی ہے اور جب چودھری شجاعت نے نوازشریف کے حق میں آواز اٹھائی تو عمران نے سوچا ہو گا کہ مجھے باہراور اندر دونوں اطراف سے NRO کے لئے کہا جا رہاہے۔

لیکن وائے افسوس کہ وزیراعظم نے ایک بار پھر اپنی سیماب صفتی کا مظاہرہ کیا۔ دو دن کی رخصت کے بعد جب تازہ دم ہو کر واپس آئے تو ایک دھواں دھار تقریر میں پھر وہی بات کی جو NRO نہ دینے سے وابستہ کہی جا سکتی ہے۔ نہ صرف اعلیٰ عدلیہ پر براہ راست تنقید کی بلکہ نوازشریف کی بیماری کو بھی ہدفِ تنقید بنایا اور پھبتی کَسی کہ بیمار آدمی جہاز کی سیڑھیاں بھاگ کر نہیں چڑھتا اور نہ ہی لندن جا کر ہشاش بشاش نظر آتا اور اپنے دوستوں سے مصافحہ اور معانقہ کرنے میں پیش پیش ہوتا ہے۔ ان کی یہ باتیں شائد وزن دار بھی ہوں گی لیکن جب سانپ نکل جائے تو لکیر پیٹنے سے کیا فائدہ؟ اور جب آپ نے انسانی ہمدردی کی بناء پر نوازشریف کو باہر جانے کی اجازت دے ہی دی تھی تو پھر ان کی دورانِ پرواز کسی حرکت یا پوز یا پوزیشن پر پھبتی کسنا چہ معنی دارد؟…… وزیراعظم کا اعلیٰ منصب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ ازراہِ مذاق بھی اس طرح کی ادنیٰ باتیں کریں۔ ان کو کس بزرجمہر نے ”انسانی ہمدردی“ کا کارڈ کھیلنے کو کہا تھا؟

میں سمجھتا ہوں دوسری طرف نوازشریف کا بھی یہی حال ہے یعنی آگ دونوں طرف برابر لگی معلوم ہوتی ہے…… لندن تو وہ جا ہی رہے تھے اگر سٹریچر پر لیٹ کر ائر ایمبولینس میں سوار ہو جاتے اور وہاں کسی کاؤچ پر لیٹے لیٹے اپنا بلڈ پریشر چیک کروانے کی ویڈیو باہر بھیج دیتے تو اس میں کیا برائی تھی؟…… اور جب وہ لندن پہنچ گئے تھے تو کسی سٹریچر پر لیٹ کر باہر نہ بھی آتے تو کسی وہیل چیئر پر بیٹھ کر ٹارمک پر آ جاتے اور جب اپنے گھر جاتے تو کیا ضرور تھا کہ چاق و چوبند نظر آتے اور مصافحے اور معانقے کرتے؟ …… میرے خیال میں دونوں رہنماؤں نے یہ نہیں سوچا کہ پرسپشن، حقیقت سے زیادہ طاقت ور ہوتا ہے……اسی لئے میں نے اوپر عرض کیا تھا کہ ہم پاکستانیوں کا آئی کیواوسط درجے کا ہے۔ اس میں غریب امیر، اَن پڑھ اور پڑھے لکھے کی کوئی قید نہیں۔ قوم کا خمیر ان سب طبقات سے مل کر تشکیل پاتا ہے۔ من حیث القوم ہم پاکستانی ابھی ترقی پذیر معاشرے اور اوسط پیمانہء ذہانت سے اوپر نہیں اٹھ سکے!

مزید : رائے /کالم