رفیع بٹ …… ایک عظیم انسان کی کہانی

رفیع بٹ …… ایک عظیم انسان کی کہانی

  



26نومبر برسی ہے ایک بہادر رہنما رفیع بٹ کی جنہوں نے اپنی ساری زندگی،وسائل اور صلاحیتیں برصغیر کے مسلمانوں کی بہتری کے لیے وقف کر دیں۔ ان کی کہانی ایک ایسے مخلص صاحبِ دل کی کہانی ہے جسے اپنے رہنما قائدِ اعظم محمد علی جناح سے انتہائی عقیدت تھی ایک ایسے نوجوان صنعتکار کی کہانی جنہوں نے اپنی صلاحیتیں پاکستان کی اقتصادیات کی بنیاد رکھنے میں صرف کر دیں۔

رفیع بٹ ایک بہت ہی توانا صنعتکار تھے۔ایک ایسے انسان جو ویژن رکھتے تھے جنہوں نے تمام رکاوٹیں عبور کیں اور ایک دن برصغیر کے بہت ہی مقبول شخص بن گئے۔ انہوں نے کبھی مسائل کی پرواہ نہیں کی بلکہ ان مسائل کو مواقع میں بدل دیا۔ ایک اعلیٰ خاندان کا یہ فرد 1909میں پیدا ہوا۔ جنہوں نے محض سولہ سال کی عمر میں اپنے صنعتی کیرئیر کا آغاز کیا اور اپنی ذہانت اور تجارت میں خاص سمجھ بوجھ رکھنے کی وجہ سے اس دور میں جبکہ تمام تجارت و صنعت پرہندو چھائے ہوئے تھے ایک خاص مقام حاصل کر لیا۔ ان کے ہم عصر یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا خوب استعمال کیا وہ ایک خوش لباس، خوش شکل اور توانا حسِ مزاح رکھنے والی خوشگوار شخصیت تھے۔ وہ ایک قابلِ اعتماد دوست اور راست اقدام لینے والے تاجر تھے۔ ان کی ہنستی مسکراتی شخصیت کے سبھی ستائش گر تھے۔ بابائے قوم محمد علی جناح کو اس نوجوان کی صلاحیتوں کو پہچاننے میں زیادہ دیر نہ لگی۔ قائدِ اعظم نے ان کے صنعتی مرکز ”غلام نبی اینڈ سنز“کادسمبر 1942میں دورہ کیا اور یہیں سے ان کے رفیقِ کار ہونے کی ابتداء ہوئی۔

رفیع بٹ قائدِ اعظم کی شخصیت سے بجا طور پر مرعوب تھے اور تن من دھن سے ان کا ساتھ دینے کا عہد کر چکے تھے۔ قائدِ اعظم جو کہ ایک مکمل رہنما تھے وہ جانتے تھے کہ مسلم لیگ کو نا صرف مالی امداد کی ضرورت ہے بلکہ انہیں با صلاحیت نوجوان قیادت کی بھی ضرورت ہے جو مسلمان قوم کو ان کے حقوق دلوانے میں ممد و معاون ثابت ہو۔ لہٰذا یہ دونوں شخصیات آزادی کی جدوجہد اور مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے لیے اثاثہ ثابت ہوئیں۔

اس تعلق کو مزید تقویت تب ملی جب قائد نے رفیع بٹ کی فیکٹری میں دئیے گئے عشائیہ میں شرکت کی۔اس موقع پر رفیع بٹ نے فراخدلی سے تحریکِ پاکستان کے لیے مالی امداد پیش کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ اس جدوجہد میں ہر مشکل مرحلہ پر وہ قائد کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ رفیع بٹ نے اہم سیاسی امور پر تبادلہءِ خیال کرنے اور آئندہ کی حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے نامور مسلمان صحافیوں اور ممتاز سیاست دان اکابرین کے اجلاسوں کی میزبانی کی۔ ان کاوشوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں کیونکہ انہی افکار و خیالات نے مسلم لیگ کے سیاسی نظریات کو ولولہ انگیز بنا دیا۔ رفیع بٹ کی ایک اور ناقابلِ فراموش خدمت مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام انگریزی اخبار کی اشاعت تھی جس میں وہ بورڈ آف گورنرز کے رکن تھے۔ رفیع بٹ کا ایک اور عمدہ فیصلہ عملی سیاست میں شمولیت سے احتراز تھاکیونکہ وہ بطور صنعت کار مسلمانوں کی معاشی حالت مستحکم کرنے کے پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے تھے۔

جناب رفیع بٹ اور قائدِ اعظم کی قربت اور تعلقات کی گہرائی کا اندازہ ان کے مابین ہونے والی خط و کتابت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ قائد ایک عملی سیاستدان تھے جو اپنے وقت کی قدر و قیمت سے بخوبی آگاہ تھے۔ بعض اوقات وہ بہت طویل سکرپٹ کا محض ایک جملے میں جواب دینا ہی مناسب سمجھتے تھے لیکن رفیع بٹ کے تفصیلی خطوط کے جواب میں قائد کے خطوط بھی مفصل،تاثر انگیز اور دلکش ہوتے تھے۔ قائد رفیع بٹ سے مستقبل کی حکمت عملی، عملی اقدامات اور ٹیم بلڈنگ کے حوالے سے تبادلہءِ خیال کرتے رہتے تھے۔ رفیع بٹ نے پنجاب کے مسلمانوں کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے لیے لاہور سے سر مراتب علی،امرتسر سے شیخ صادق حسن اور لائل پور سے میاں نصیر احمد کے نام قائد کو تجویز کیے۔

محترم جناح اور رفیع بٹ کے مابین خط و کتابت میں سے مجھے دو خطوط بہت دلچسپ معلوم ہوئے پہلے خط میں جناب رفیع بٹ نے ہندوستا نی صنعتکاروں اور کانگریس کے حامی وفود کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا کہ وہ امریکہ اور برطانیہ میں مسلم مخالف پراپیگنڈہ کریں گے۔ جس کے ازالے کے لیے رفیع بٹ نے امریکہ اور برطانیہ میں اپنے ذاتی دفاتر کو مسلم لیگ کے پراپیگنڈہ آفسز کے طور پر استعمال کرنے کی پیش کش کی۔ رفیع بٹ مؤثر انداز میں قائد کے لیے آنکھوں اور کانوں کا کام کر رہے تھے۔ اس کے جواب میں قائد نے ان کی تشویش سے اتفاق کیا اور ان کی حمایت کو سراہا۔ جبکہ دوسرا دلچسپ خط ایک انگریزی روزنامے کے قیام سے متعلق ہے جو جدوجہدِ آزادی کے لیے ایک انتہائی اہم ضرورت تھی۔

ایک بار پھر رفیع بٹ نے قائدکی ایک اہم نقطہ کی جانب توجہ مبذول کروائی بلکہ اس کے تجارتی پہلوؤں کے متعلق مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔انہوں نے اپنی بھرپور مدد کے ساتھ ساتھ اپنے کاروباری رابطوں کے ذریعے ٹھوس مالی امداد کا عزم ظاہر کیا۔ قائد کا جواب بھی اتنا ہی دلکش اور راحت بخش تھاجس میں انہوں نے رفیع بٹ پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مشینری اور اخبار کے دفتر کے حصول کے لیے رفیع بٹ کی کاوشوں کی تعریف کی۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا قائد اور ان کے ساتھی پوری لگن، عزم اور نصرتِ خداوندی کے ساتھ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھر آیا۔ اگرچہ پاکستان کی تشکیل کاروباری حوالے سے رفیع بٹ کے لیے کاروباری خسارے کے مترادف تھی کیوں کہ ان کا کاروبار پورے ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا، لیکن انہیں اس کا چنداں ملال نہ تھا کیونکہ انہوں نے اپنے خوابوں کو قائد کے خوابوں میں ضم کر دیا تھا۔ افسوس کہ قائد کے سانحہءِ ارتحال کے فوراً بعد 26نومبر 1948کو نوزائیدہ مملکت اس عظیم انسان سے بھی محروم ہو گئی۔کراچی سے لاہور جانے والی پرواز وہاڑی کے قریب گر کر تباہ ہو گئی،شہدا میں آل انڈیا مسلم لیگ پلاننگ کمیٹی کے رکن اور مغربی پاکستان مسلم چیمبر آف کامرس کے نائب صد ر رفیع بٹ 39سال کی عمر میں داغِ مفارقت دے گئے۔ غیر معمولی کاروباری ذہانت کے حامل ایک سچے محبِ وطن کی ناگہانی وفات ان کے اہلِ خانہ اور پاکستان کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان تھی۔

رفیع بٹ جیسے ویژنری ہمیں سکھاتے ہیں کہ کامیابی مشکلات کے مدِ مقابل ثابت قدمی اور استقامت سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ مضمون انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک حقیر سی کوشش ہے۔اس دن ہم ان کی یاد مناتے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے اور انہی کی طرح خوشحالی پانے کا عہد کرتے ہیں

مزید : رائے /کالم