کپتان اظہر سمیت قومی کھلاڑی ٹیسٹ میچ میں بھی دباؤ سے باہر نہیں نکل سکے: سابق کرکٹرز

      کپتان اظہر سمیت قومی کھلاڑی ٹیسٹ میچ میں بھی دباؤ سے باہر نہیں نکل سکے: ...

  



لاہور(افضل افتخار) پاکستان کرکٹ ٹیم شدید دباؤ میں نظر آرہی ہے جب تک ٹیم اس دباؤ سے باہر نہیں نکلتی اس وقت تک آسٹریلیا کیا کسی بھی ٹیم کے خلاف اس کی جیت بہت مشکل ہے ان خیالا ت کا اظہار سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی کے باعث پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا اس حوالے سے  سابق کپتان وسیم اکرم  نے کہا کہ کپتان اظہر علی اس وقت پریشر میں ہیں اور جب تک کوئی کپتان پریشر میں رہتا ہے اسوقت تک وہ ٹیم کو احسن طریقہ سے لیکر نہیں چل  سکتا اور اس  کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے ٹیسٹ میچ کی شکست کو بھو ل کر آگے بڑھاجائے اور اس کے لئے ایک بہترین حکمت عملی طے کرنے کی ضرورت ہے جس میں کپتان کے ساتھ ساتھ تمام کھلاڑیوں کو بھی ایک نئے جوش وجذبہ اور مثبت پلان کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا اسی طرح سے ہماری ٹیم آسٹریلیا کے خلاف کامیابی حاصل کرسکتی ہے  ورنہ ٹیم کو دوبارہ شکست ہوسکتی ہے جس طرح سے آسٹریلیا کی ٹیم نے عمدہ کھیل پیش کیا اور تمام کھلاڑیوں نے عمدہ پرفارمنس دی قابل تعریف ہے سرفراز نواز  اورعبدالرزاق نے اس حوالے سے کہا کہ پاکستان کی ٹیم میں تجریہ کا ر کھلاڑیوں کی کمی ہے جسکی وجہ سے ٹیم پریشر میں ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان کے مقابلے میں بہت مضبوط ہے اور اس کو پاکستان کی ٹیم کے لئے شکست دینا آسان نہیں ہے سابق کرکٹرز نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم جب تک مثبت کرکٹ نہیں کھیلے گی اس وقت تک وہ اعتماد حاصل نہیں کرسکتی اور دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے کامیابی حاصل نہیں کی تو پھر پاکستان کی ٹیم سیریز جیتنے سے محروم ہوجائے گی اور یہ پاکستانی ٹیم کے لئے اچھی بات نہیں ہے اس حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے محمد وسیم، محمد یوسف، سکندر بخت اور سلمان بٹ نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم بیٹنگ میں تو اچھی پرفارمنس دکھا رہی ہے باؤلنگ کی نسبت مگر باؤلرز ناکام ثابت ہوئے ہیں ان کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے ہمارے خیال میں پاکستان کی ٹیم اس وقت خاصی کمزور نظر آرہی ہے اور اس وقت تک پاکستان کی ٹیم جیت اپنے نام نہیں کرسکتی جب تک وہ مثبت کھیل پیش نہ کرے اور کپتان اظہر علی کے لئے بھی ایک بہت بڑا امتحان ہے اب تک وہ متاثر کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں آسٹریلیا کے خلاف اس کی سر زمین پر سیریز بہت مشکل ہوتی ہے اور اس وقت ٹیم میں کئی ایسے کھلاڑی موجود نہیں جن کو وہاں پر کھیلنے کا تجربہ ہے اور تجربہ کی بنیاد پر ہی کھلاڑی عمدہ پرفارمنس دیتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ کس طرح سے ٹیم مینجمنٹ اگلے ٹیسٹ میچ کے لئے پلان تیار کرتی ہے اور کس طرح سے  کھلاڑی بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں اس حوالے سے راشد لطیف او ر محسن حسن کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم میں ٹیلنٹ ہے مگر اس کو پرفارم کرنے میں مشکل ہورہی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کھلاڑی مسلسل پریشر میں کھیل رہے ہیں جب تک اس پریشر سے باہر نہیں نکلا جاتا اس وقت تک ٹیم کسی صورت بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتی اور اب دوسرا ٹیسٹ میچ پاکستان کی ٹیم او ر پی سی بی کے لئے ایک بہت بڑا امتحان ہے اور اس پر پورا اترنے کے لئے اب سنجیدگی سے سوچنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی