کار اندازاور اے ڈی بی انسٹیٹیوٹ کا انوویٹو فنانس فورم کا انعقاد

کار اندازاور اے ڈی بی انسٹیٹیوٹ کا انوویٹو فنانس فورم کا انعقاد

  



لاہور(پ ر)کار انداز پاکستان نے اے ڈی بی انسٹیٹیوٹ (ADBI) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے ریذیڈنٹ مشن کے تعاون سے اسلام آباد میں پاکستان انوویٹو فنانس فورم کا انعقاد کیا۔ دو روزہ ایونٹ کا مقصد پاکستان میں نجی شعبہ پر مبنی انفراسٹرکچر فنانسنگ کے فروغ کے لئے معلومات اور جدید آئیڈیاز کی فراہمی اور پاکستان کی سمال میڈیم انٹرپرائزز کی مالی رسائی میں اضافے کے طریقوں کی نشاندہی تھے تاہم وہ انفراسٹرکچر پبلک و پرائیویٹ سیکٹر ڈائیلاگ میں اضافہ اور ایس ایم ای فنانس، جدت پر مبنی مالیاتی حل کی تشکیل اور بہترین عالمی طریقوں سے متعلق آگاہی تک محدود نہیں تھے۔ دو روزہ ایونٹ میں انفراسٹرکچر اور ایس ایم ایز میں سرمایہ کاری کے لئے پرائیویٹ فنڈ سے فائدہ اٹھانے، انفراسٹرکچر منصوبوں کے لئے قرضوں میں اضافہ اور ایس ایم ایز کے لئے سرمایہ کاری میں جدت اور شعبے کے اندر نجی و سرکاری شراکت داری میں بہتری کے جدید مواقع بھی تلاش کئے جا رہے ہیں۔ چیئرپرسن کار انداز پاکستان اور سابق گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر شمشاد اختر نے اس موقع پر کہا کہ ”پاکستان انوویٹو فنانس فورم“ کارانداز، ایشین ڈویلپمنٹ بینک انسٹیٹیوٹ اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی شراکت داری ہے۔ یہ پائیدار ترقی اور شرح نمو کے لئے سرمایہ کاری کا ایکو سسٹم ظاہر کرنے کا منفرد پلیٹ فارم ہے۔ انفراسٹرکچر اور سمال میڈیم انٹرپرائزز کی ترقی کا انحصار معاشی ترقی، پیداوار، سرمایہ کاری، روزگار پیدا کرنے اور غربت کے خاتمے کے تعلق پر مبنی ہوتا ہے۔

ان شعبوں کی ترقی کے لئے مالی اعانت تک رسائی اہم ہے تاہم اس سے صرف اسی صورت میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جب قانونی، ریگولیٹری اور ادارہ جاتی فریم ورک مضبوط ماحولیاتی نظام کے لئے مددگار ہوں جو سرمایہ کاروں کو اعتماد فراہم کرے اور روزگار پیدا کرے۔ کانفرنس کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے کہا کہ ہمیں پاکستان انوویٹو فنانس فورم جیسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے تاکہ قومی ترقی کے چیلنجوں پر بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے اور ایسے حل تلاش کریں جو عالمی سطح پر سیکھنے، طریقوں اور معیار کے مطابق ہوں۔ میں اس پروگرام کے انعقاد اور انفراسٹرکچر اور ایس ایم ای شعبوں کے ماہرین کو اکٹھا کرنے پر کارانداز اور اے بی ڈی آئی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اس کانفرنس سے نہ صرف خطے میں کچھ بہترین مثالوں سے سیکھنے میں مدد ملے گی بلکہ ہمارے قومی ترقیاتی اہداف کے حصول میں مدد کے لئے مختلف صنعتوں اور کثیر الجہتی شراکت داروں کے درمیان تعاون کو بھی فروغ ملے گا۔ جدت پر مبنی سرمایہ کاری کی اہمیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اے ڈی بی آئی کے ڈین نایوکی یوشینو (Naoyuki Yoshino Dean) نے کہا کہ ایشیا میں ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں موجودہ اور مستقبل کے بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے سرمایہ کاری کی شرح کو برقرار رکھنے کے لئے جدوجہد کرتی ہیں جس سے انفراسٹرکچر میں خلا پیدا ہوتا ہے جو ترقی میں رکاوٹ ہے۔ ٹیکس محصولات کا انحصار انفراسٹرکچر کی شرح نمو کے اثرات میں اضافے سے منسلک ہے جو کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک نئے منصوبوں میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے واپسی کی شرح میں ضروری اضافے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں چھوٹے، بڑے کاروباری اداروں کو ترقی کا روح رواں بننا چاہئے۔ ایس ایم ایز کا قابل اعتماد اور قابل رسائی معتبر ڈیٹا بیس مالی اداروں کو خطرات کا صحیح اندازہ کرنے اور ایس ایم ایز کو زیادہ قرضے دینے کے قابل بنائے گا۔ چیئرمین ایف بی آر سید شبر زیدی نے ایس ایم ای فنانسنگ کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے معیشت اور معاشرے میں اہم شراکت دار ہونے کے باوجود نجی شعبے کے مجموعی قرضوں کے سست رجحان کے مقابلے میں قرضوں تک رسائی میں مشکلات کا شکار ہیں۔ قرضے تک اس محدود رسائی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بینکوں کے ساتھ قرضوں کی مناسبت کو مدنظر رکھے بغیر ایس ایم ایز کی جانب سے مصنوعات کو متعارف کرانا ہے۔ مزید برآں بینکوں اور ایس ایم ایز کے درمیان مناسب رابطہ معلومات کا توازن اور ایس ایم ایز کی جانب سے دستاویزات کی کمی اور نقد رقوم کی خراب ترسیل شامل ہیں جس سے سرمایہ کاری میں مشکلات ہوتی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس کانفرنس سے ہم ایسے جدید سلوشن حاصل کر لیں گے جن سے ان چیلنجز پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ڈی ایف آئی ڈی پاکستان کی سربراہ محترمہ انابیل گیری نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ اگلے 15 سالوں میں پاکستان کی آبادی میں 75 ملین کا اضافہ متوقع ہے لہذا ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ پاکستان کے کاروبار کو بڑھنے اور اپنے نوجوانوں کے لئے بہت سے روزگار پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے اس کام پر فخر ہے کہ ہم جدید اور متاثر کن کاروبار میں سرمایہ کاری کرکے مزید ملازمتیں پیدا کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔سی ای او کارانداز علی سرفراز نے کہا کہ آغاز سے ہی پاکستان کے ایس ایم ای کی باضابطہ مالی اعانت تک رسائی بڑھانا ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے۔ پاکستان انوویٹو فنانس فورم نے ہمیں دوسرے ممالک میں اپنے ایس ایم ایز کی مدد کے لئے شروع کئے گئے اہم اقدامات کے بارے میں بصیرت سے بات چیت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں جو ردعمل ملا اور اس میں شرکت کرنے والے اسٹیک ہولڈرز کو دیکھتے ہوئے میں بہت متاثر ہوا ہوں کہ فورم پاکستان کے ایس ایم ایز کے مابین مالی اعانت میں بہتری لانے اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کی طرف مزید مالی اعانت فراہم کرنے میں مدد کرے گا۔پروگرام میں فنانسنگ میکنزم، جدید مالی اعانت کے لئے پی پی پی ماڈل، نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے چیلنجوں اور مواقع اور پاکستان میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے اہم قانونی اور باقاعدہ رکاوٹوں کے بارے میں پینل تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

مزید : کامرس