سموگ کو ختم کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے،محمد رضوان

سموگ کو ختم کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے،محمد رضوان

  



لاہور(لیڈی رپورٹر)صوبائی وزیر برائے ماحولیات محمد رضوان کی زیرصدارت محکمہ ماحولیات کے کمیٹی روم میں ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا،اجلاس میں صوبائی وزیر کو ماحولیاتی آلودگی بالخصوص سموگ سے نمٹنے کیلئے ابھی تک کئے جانیوالے اقدامات بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔سیکرٹری ماحولیات سلمان اعجاز نے صوبائی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ سموگ ایکشن پلان کے تحت تمام متعلقہ محکمہ جات کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔

اور اس پر ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے، زہریلادھواں خارج کرنے والی صنعتوں کو عارضی طور پر بند کیاگیا، پرانی ٹیکنالوجی کے حامل بھٹوں کو عارضی طور پر 20نومبر سے بند کردیا گیا۔

، فصلوں کی باقیات کو جلانے پر مکمل طور پر پابندی عائد اور اس کے لئے موثر اور عوام دوست حکمت عملی تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جبکہ فضلہ وغیرہ کو جلانے سے ماحول کو ہونے والے نقصانات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر ایک مہم بھی چلائی جارہی اور بالخصوص عوام میں سموگ کی روک تھام کے بارے میں شعور اجاگر کیا جا رہا ہے۔ ڈی جی ماحولیات تنویر وڑائچ نے دوران بریفنگ بتایا کہ صوبہ بھر کے ریڈ زون میں واقع 18 اضلاع میں سیکشن 144 کے نفاذ کے بعد فصلوں کہ باقیات اور کوڑے کرکٹ وغیرہ جلانے پر مکمل پابندی عائد ہے جبکہ صرف زگ زیگ یا دوست ماحول ٹیکنالوجی کے اینٹوں کے بھٹوں کو چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ ماحولیات نے BTK ٹیکنالوجی کے حامل نئے اینٹوں کے بھٹوں کی تعمیر پر بھی پابندی عائد کردی ہے جبکہ تمام بھٹوں کو 31 دسمبر 2020 تک نئی ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے لئے ایک حتمی ڈیڈ لائن دی جا چکی ہے۔ ڈائریکٹر ماحولیات نسیم الرحمٰن نے اجلاس کو بتایا کہ سموگ کا زیادہ مسئلہ شمالی لاہور میں صنعتی علاقے کی وجہ سے آرہا ہے جبکہ گوجرانوالہ اور شیخوپورہ بھی صنعتوں کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں، ابھی تک 205 فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بعد سنگین خلاف ورزی کے مرتکب ہونے پر متعدد مقدمات کو ٹریبونل میں بھیجا جا چکا ہے۔اس کے علاوہ گاڑیوں کی فٹنس وغیرہ کی چیکنگ کیلئے 26 کمپیوٹرزائزڈ یونٹس قائم کیے جا چکے ہیں جبکہ ایئر کوالٹی انڈیکس کا ڈیٹا روزانہ کی بنیاد پر محکمہ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے، دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کو جرمانہ عائد کیا جارہا ہے تاہم گاڑیاں تیار کرنے والی فیکٹریوں کو دھویں کے اخراج پر قابو پانے کیلئے جدید آلات کی تنصیب یقینی بنانے کے لئے مسلسل رابطہ میں ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام میں دھویں کے نقصانات کے حوالے سے احتیاطی تدابیر پر کام تیز کرنے کی ضرورت ہے،انہوں نے ہدایت کی کہ سموگ ایکشن پلان کے تحت تمام متعلقہ محکمہ جات کو عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے اقدامات یقینی بنائے جائیں اور اس حوالے سے کسی قسم کی بھی کوتاہی ناقابل برداشت ہوگی۔ اس موقع پر سیکرٹری ماحولیات،ڈی جی اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1