موجودہ دور حکومت میں ثقافتی سرگرمیاں کم ہو گئیں، فنکار برادری

موجودہ دور حکومت میں ثقافتی سرگرمیاں کم ہو گئیں، فنکار برادری

  



لاہور(فلم رپورٹر)شوبز کے مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات کا کہنا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں ثقافتی سرگرمیوں میں کافی حد تک کمی آئی ہے حکومتی سرپرستی میں چلنے والے کلچرل مراکز میں کسی قسم کی تقاریب دیکھنے میں نہیں آ رہی ہیں۔البتہ لاہور آرٹس کونسل اور پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر میں تقریبات کا سلسلہ جاری ہے لیکن ان میں بھی حکومتی دلچسپی نظر نہیں آتی یہ ادارے ثقافتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے حوالے سے قابل ستائش ہیں۔شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ ایک دور میں لاہور،کراچی اور اسلام آباد کے علاوہ پشاور،کوئٹہ اور شمالی علاقہ جات میں ثقافتی سرگرمیاں پورے عروج پر تھیں جبکہ اب لاہور اور کراچی کے علاوہ کسی بھی دوسرے شہر میں کوئی بھی قابل ذکر پروگرام نہیں ہورہا نجی سطح پر لوگ کبھی کبھی تقریبات اور پروگراموں کا انعقاد کرلیتے ہیں۔یہ ایک لمحہ فکریہ ہے حکومت کو اس بارے میں کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ثقافت کسی بھی ملک کی پہچان ہوتی ہے اور ہمارے ملک میں ثقافت کو اجاگر کرنے کیلئے کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔شاہد حمید،شان،معمر رانا،مسعود بٹ،پرویز کلیم،میگھا،ماہ نور،شاہدہ منی،لائبہ علی،سہراب افگن،سٹار میکر جرار رضوی،یار محمد شمسی صابری،گلفام،ہانی بلوچ،اچھی خان،ذویا قاضی،مایا سونو خان،ڈیشی راج،آغا قیصر عباس،سدرہ نور،ندا چوہدری،آفرین خان،آفرین پری،آشا چوہدری،عامر راجہ،بی جی،سفیان احمد،انوسنٹ اشفاق،محرمہ علی،عباس باجوہ،آغا حیدر،شین فریال،نادیہ علی،سوھنی بلوچ،اشرف خان،عذرا آفتاب،حیدر سلطان،بابرہ علی،تابندہ علی،ڈاکٹر اجمل ملک،مختار احمد چوہان،فیصل بخاری،چوہدری اعجاز کامران،قیصر ثناء اللہ خان،حاجی عبد الرزاق،پریسہ،حنا ملک،شہزاد چندا،ہنی البیلا،حسن مراد،امان اللہ،نجم زیدی،ثمینہ بٹ،سرفراز وکی،بینا سحر،عائشہ جاوید،ابرار ہاشمی،وقاص کیدو،زری لعل،شہہ پارہ،ستارہ بیگ،لکی ڈیئر،طاہر نوشاد،مختار چن،اسد مکھڑا،شجر عباس،نواز انجم،احمد نواز،محسن گیلانی،دلاور ملک،عباس اشرف،افشین اشرف،بینا چوہدری اور دیگر کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں مہنگائی کی ماری عوام کو دباؤ اور ذہنی پریشانی سے نجات دینے کا واحد ذریعہ ثقافتی سرگرمیاں ہیں۔عوام کی تفریح کیلئے حکومت سطح پر ثقافتی سرگرمیوں کا فروغ انتہائی ضروری ہے۔

مزید : کلچر