سیرت طیبہ کی پیروی میں ہی تمام مسائل کا حل ہے: حافظ محمد ادریس

سیرت طیبہ کی پیروی میں ہی تمام مسائل کا حل ہے: حافظ محمد ادریس

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)معروف اسکالر و سابق نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ محمد ادریس نے کہا ہے کہ مسلمانوں کیلئے اگر کوئی ہستی کامل نمونہ ہو سکتی ہے،تو وہ نبی کریم کی ذات مبارکہ ہے، آپ ؐکی سیرت طیبہ کی پیروی میں ہی ہمارے تمام مسائل کا حل ہے، اس میں انفرادی و اجتماعی زندگی، معیشت، سیاست،معاشرت تعلیم،جنگ امن،بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق تمام قوانین موجودہیں۔ نبی کریمؐ کو اللہ تعالیٰ نے بے مثل و بے مثال ذات بنایا ہے، آپ اپنے ہر وصف میں کامل و اکمل ہیں، آپ کا کوئی بھی عمل ایسا نہیں جس میں کسی کمی یا کسی نقص کا شائبہ تک بھی پایا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع وسطی کے تحت مقامی ہال میں ”محفل سیرت النبیؐ“سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن اور امیر ضلع وسطی منعم ظفر خان نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ نظامت کے فرائض سیکریٹری انجم رفعت اللہ نے ادا کیے۔ حافظ محمد ادریس نے کہا کہ، دشمنان اسلام نوجوانوں کو بے راہ روی میں مبتلا کر رہے ہیں، مغرب مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے پریشان ہے، مغرب میں نوجوانوں کی تعداد کم اور بوڑھوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔حافظ محمد ادریس نے کہا کہ رسولؐ اس وقت کی سپر پاور کے آگے جھکے نہیں تھے، دور ِ نبویؐ میں نظام انصاف سب کیلئے ایک تھا، رسول ؐ نے جنگی قیدی خواتین، بچوں اور دیگر کے ساتھ حسن سلوک کی مثال قائم کی، انہیں نقصان یا اذیت نہیں پہنچائی، دشمن کی بیٹی کی بھی عزت کی،ان کے دور میں جنگ کے دوران خواتین، بچوں، بوڑھوں، نہتے لوگوں قتل نہیں کیا جاتا تھا اور حتیٰ کہ درخت اور فصلوں کو بھی نقصان نہیں پہنچایا جاتا تھا، رسولؐنے جنگی آداب کی مثال قائم کی،رسولؐ نے اپنے جانی دشمنوں کو بھی معاف کر دیا، رسولؐ نے مسلمان معاشرے میں دفاع کے علاوہ ہتھیار ُاٹھانے کی اجازت نہیں دی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ رسولؐ رحمت ا للعالمین ہیں، رسولؐ نے ہی زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ لوگوں کو بتایا، دین میں ہی انسانوں کی خیر ہے، دین ہی انسانوں کو حقوق دیتا ہے، اسلام کو نظام زندگی  کے طور پر قبول اور نافذ کرنے کی ضرورت ہے، رسولؐنے بھی اکیلے ہی جدوجہد شروع کی، مکہ میں 13سال تک لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، اسلام کی دعوت کو روکنے کیلئے کفار نے ہر طریقہ اپنایا دولت اور سرداری تک کی پیشکش کی، لیکن رسولؐکا مقصد حصول دولت نہیں تھا، بلکہ اسلام کو پوری دنیا میں پھیلانا تھا، رسولؐ نے دولت اور طاقت کے بغیر دعوت کو پورے عالم میں پھیلایا اور کفار پر غالب آگئے، انہوں نے مزیدکہا کہ آج پوری دنیا میں ظلم اور فساد پھیلا ہوا ہے، دنیا میں جتنی مادی ترقی ہورہی ہے،اتنی ہی شخصی تنزلی بھی ہورہی ہے، دنیا کی10فیصد آبادی کو خوشحال رکھنے کیلئے 90فیصد آبادی کا استحصال کیا جا رہا ہے،  منعم ظفر خان نے کہا کہ سیرت النبیؐ پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں،امت مسلمہ کو متحد ہو کر کفار کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا،اسلام ہی دین حق ہے، اللہ کا دین غالب ہونے سے ہی معاشرے سے ظلم و ناانصافی ختم ہوسکتی ہے، امت کی کامیابی اسی میں ہے۔ 

مزید : صفحہ اول