معدنیات بل قبائلی عوام کے حق پر ڈاکہ ہے: مفتی عبد الشکور

معدنیات بل قبائلی عوام کے حق پر ڈاکہ ہے: مفتی عبد الشکور

  



پشاور (سٹی رپورٹر)جمعیت علماء اسلام فاٹا کے رکن قومی اسمبلی مفتی عبدالشکور نے کہا کہ معدنیات بل قبائلی عوام کے حق پر ڈاکہ ہے جسکی بھرپور مذمت کرتے ہے اور قبائلی عوام کا  جو استحصال انضمام کے نام پر کیا گیا وہ نائن الیون کے بعد مسلم دنیا اور قبائلی علاقوں میں کریک ڈاون کا تسلسل ہے جو جابرانہ اور ظالمانہ ہے اقدام ہے۔انضمام قبائل عوام کے وسائل پر قبضہ کرنے کے مترادف ہے تاہم جمعیت علمائے اسلام نے انضمام کی مخالفت کی تھی مگر حکومت نے کسی اور کے یجنڈے  پر عمل پیرا ہو کر انضمام کے عمل کو سر انجام دے کر قبائلی عوام کو این نہ ختم ہونے والے لاقنونیت کے جنگل میں دکیل دیا۔ناروے میں قرآن کی بے حرمتی کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہیں اور عمر الیاس کی جرات و بہادری کو سلام پیش کرتے ہوئے یورپ کو متنبہ کرتے ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقداما ت اٹھائے جائے،آزادی مارچ کے پلان اے اوربی کے کامیابی کے بعد ایجنسی کے سطح پر پلان سی اپوزیشن جماعتوں کیساتھ ہل کر ہفتہ وار اشروع کرینگے ان خیالات کا ظہار رکن قومی اسمبلی مفتی عبدالشکور نے پشاورپریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا انکے ہمراہ  ایم این اے جماالدین  اور صوبائی اسمبلی کے رکن شعیب بھی موجود تھے۔ا س موقع پر مفتی عبدالشکور نے کہا کہ انضمام کے بعد ضم اضلاع کے عوام اپنے حقوق سے محروم ہے اور اب بھی کیمپوں میں زندگی  گزارنے پر مجبور ہے جبکہ انضمام کے نام پر انکے وسائل پر جابرانہ قبضہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ک جانب سے معدنیات بل قبائل عوام کے خلاف بین الاقوامی سازم ہے جو قبائل کے وسائل کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جوہاں کے جنگلات اور ابائی اراضی کو سرقاری تحویل میں لینا جنگل کا قانون ہے جسکی وجہ سے قبائلی اپنے اباواجداد کے زمینوں او ر جنگلات کی ملکیت سے محروم ہو گئے ہے جبکہ جنگلات اور زمینوں پر سیکشن فور لگا کر وہاں کے عوام کو زمینی لین دین میں محدود کر دیا ہے جو ظلم ہے ۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام انضمام کے پہلے سے خلاف تھی جسکے نتائج اب سامنے ارہے ہے جبکہ 100ارب ک اوعدہ کیا گیا تھا جو اج تک قبائلی عوام کو نہیں ملا۔انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا سیکرٹریٹ پو کرپشن کے نا پر ختم کیا گیا مگر صوبائی سیکرٹریٹ میں کرپشن حکومت کو نظر نہیں اتی حکومتی وزراء ہر مھکمہ میں مداخلت کرتے ہے حکومت کے نا اہلی ی وجہ سے بی ار ٹی 100ارب سے تاوز کر چکی ہے مگر بنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ قبائلی خطہقدرت وسائل سے مالا مال ہے جس تک رسائی حاصل کرنے کیلئے قبائلی عوام کو اندھیروں میں دکیلا جا رہا ہے  جبکہ قبائلی عوام کیساتھ کیے ہوئے وعدے صرف کاغزات اور دعوں کی حد تک محدود ہے۔انہوں نے کہا معدنیات بل کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل تہہ کرینگے اور اس جابرانہ بل کی واپسی تک سی ایم ہاوس کے سامنے غیر معینہ مددت کیلئے دھرنے کا اعلان کرینگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر