حکومت 1973ء کے آئین کا حلیہ بگاڑنے سے گریز کرے: جاوید ابراہیم پراچہ 

  حکومت 1973ء کے آئین کا حلیہ بگاڑنے سے گریز کرے: جاوید ابراہیم پراچہ 

  



کوھاٹ (بیورو رپورٹ) سابق رکن قومی اسمبلی اور تنظیم اہل سنت و الجماعت کے سربراہ جاوید ابراہیم پراچہ نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ کفریہ قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل کر 1973 آئین کا حلیہ بگاڑنے سے گریز کرے اقلیتوں کو ماروائے قانون ترجیح قابل برداشت نہیں مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنائیں گے اور پاکستان کو یہودی سٹیٹ میں ہرگز تبدیل نہیں کرنے دیں گے حکومتی وزراء اور مشیروں کو مہنگائی کو قابو کرنے اور گیس‘ بجلی‘ ہسپتالوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے مندروں کا غم کھائے جا رہا ہے وہ کوھاٹ غلہ منڈی میں زمانہ قدیم کے مندر کی بحالی کے خلاف منعقدہ احتجاجی جلسہ سے بازار زرگراں چوک میں خطاب کر رہے تھے احتجاجی جلسہ میں تاجر ایکشن کمیٹی‘ ختم نبوت‘ اہل سنت و الجماعت سمیت عمائدین علاقہ اور علماء کرام نے بھی شرکت کی جاوید ابراہیم پراچہ نے کہا کہ 72 سال میں غلہ منڈی میں مندر کا خیال کسی کو نہ آیا مگر یہودی لبادہ اوڑھنے والوں نے گڑھے مردے اکھاڑنے شروع کر دیئے مگر کوھاٹ کے غیور عوام اس چال کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے آج ہمارا ٹوکن احتجاج ہے آئندہ کا لائحہ عمل بعد میں طے کریں گے جلسہ سے قاری فتح محمد‘ منصور احمد‘ اسرار شنواری‘ مولانا عاصم شنواری‘ حاجی محمد عابد خان اور دیگر نے بھی خطاب کرتے ہوئے مندر کی بحالی پر شدید احتجاج کیا ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمرانوں نے پاکستان میں چار سو مندر بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے کیوں کہ بھارت نے بابری مسجد شہید کر کے وہاں مندر بنانے کا اعلان کیا ہے جس کا واضح مقصد یہ ہے کہ حکمران اس ملک کو سیکولر بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں کشمیر کے مسئلے کو پس پشت ڈالا گیا ہے اور کرتا پور میں سکھوں کو کھلی چھوٹ دے کر قادیانیوں کو آنے کا راستہ ہموار کیا گیا انہوں نے کہا کہ ضیاء اللہ بنگش کو عوام نے منتخب کیا ان کا فنڈ عوام کی امانت ہے سکول کی تعمیر و مرمت کے بجائے وہ مندر کو اہمیت کیوں دے رہے ہیں ہم آنکھیں بند کر کے اپنی معیشت کو تباہ کرنے نہیں دیں گے انہوں نے کہا کہ ہم اقلیتوں کو حقوق تفویض کرنے کے مخالف نہیں مگر کفریہ قوتوں کی من مانی کو بھی تسلیم نہیں کریں گے آئین میں ترمیم کر کے صدارتی نظام کی راہیں ہموار کرنے کی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے فرانس میں مسلمان خواتین کے نقاب پر پابندی ہے اور یہاں ان کے لیے سکول ختم کر کے مندر بنائے جا رہے ہیں جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں اور اس مندر کی بحالی کے خلاف تن من دھن کی قربانی کے لیے تیار ہیں۔ 

مزید : پشاورصفحہ آخر