عالمی طاقتیں کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے کردار ادا کریں‘ سید فخر امام

  عالمی طاقتیں کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے کردار ادا کریں‘ سید فخر امام

  



ملتان(سپیشل رپورٹر)چیئرمین کشمیر کمیٹی پاکستان، سابق سپیکر و ممبر قومی اسمبلی سید فخر امام نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیر میں پچھلے 113 دن سے لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے اس درندگی کی دنیا میں بھر میں مثال نہیں ملتی بھارتی فوج کشمیری خواتین کی عصمت دری کو جنگ کیہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے انسانی حقوق کی جتنی پامالی انڈیا کشمیر میں کررہا ہے دنیا میں کہیں نہیں ہورہی ہے دنیا کی سب ہیومن رائٹس تنظیمیں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر آواز (بقیہ نمبر32صفحہ12پر)

اٹھا رہی ہیں وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں بھرپور طریقے سے کشمیریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے دنیا کو مسلہ کشمیر کی سنگین صورتحال سے آگاہ کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نیینگ پاکستانیز آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام شمع بناسپتی و کوکنگ آئل ملتان اور ویز واش ملتان کے تعاون سے ای لائبریری ملتان میں منعقدہ ''کشمیر سیمینار 2019 ''سے صدارتی خطاب میں کیا۔ جس کے مہمانان ِگرامی میں صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و ثقافت و ممبر کشمیر کمیٹی پنجاب رکن صوبائی اسمبلی محمد ندیم قریشی، چیئرمین اوور سیسز پاکستانیز کمیشن ڈسٹرکٹ ملتان مخدوم شعیب اکمل قریشی ہاشمی، چیئرمین پاکستان کسان اتحاد ملک خالد حسین کھوکھر، رہنما پاکستان تحریک انصاف بیریسٹر سید عابد امام، صدر ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن نعیم اقبال نعیم، مارکیٹنگ مینیجر شمع بناسپتی عمران اعظمی، اور محمد سلیم انچارج ای لائبریری ملتان شامل تھے۔کشمیر سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے سید فخر امام نے کہا کہ پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہے،مسئلہ کشمیر پر بھارت بیک فٹ پر چلا گیا،بھارت کشمیر میں کسی کو داخلے کی اجازت نہیں دے رہا،بھارت نے کشمیر کی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے نیویارک ٹائمز سمیت عالمی اداروں نے کشمیر پر رپورٹس دیں،عالمی اداروں کی رپورٹس کے باعث بھارت پیچھے چلا گیا،پہلی بار مقبوضہ کشمیر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا۔چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں جنوری 1989 سے اب تک بھارتی فوجیوں نیایک ہزار سے زائد کشمیری خواتین سمیت 95 ہزار سے زائد افراد کو شہید کیا اب تک لاکھوں کشمیریوں کو زخمی اور معذور کر دیا گیا۔پاکستان کشمیریوں کی آزادی اور حق خودارادیت کے لے آخری دم تک آواز بلند کرتا رہے گا اور کشمیریوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا پاکستان کا مستقبل کشمیر کے بغیر ادھورا ہے ہمیں پاکستان کو اکانومی ومعاشی طاقت بنانا ہوگا چین ہمار بعد آزاد ہوا مگر آج دنیا کی بڑی عالمی معاشی طاقت ہے۔کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سید فخر امام نے کہا کہ کشمیریوں کو ہر صورت استصواب رائے کا حق دیا جائے۔ کشمیر مسئلہ پر پاک بھارت تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ بھارت خود اقوامِ متحدہ میں مسئلہ کشمیر لیکر گیا انڈیا ہمیشہ مذاکرات سے بھاگ گیا۔کشمیرسیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کمیٹی پنجاب کے رکن محمد ندیم قریشی نے کہا کہ اقوامِ متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ نہیں عالمی طاقتوں کا مسئلہ کشمیر پر دوہرا معیار ہے اقوامِ متحدہ اور عالمی طاقتیں کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں ہم کشمیر میں کرفیو کی مذمت کرتے ہیں مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 113 روز ہو گیے ہیں برفباری اور سرد موسم میں کشمیریوں کو کھانے کی اشیا? اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔محمد ندیم قریشی نے کہا کہ قرآن پاک کی توہین کی کوشش کرنے والے اسلامی فوبیا کے شکار ہیں وہ مسلمانوں کی دل آزاری کرنے سے باز رہیں۔ مخدوم شعیب اکمل ہاشمی، خالد کھوکھر، اور سید عابد امام نے کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہویے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ 72 سال سے چل رہا ہے اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق کشمیر متنازعہ علاقہ ہے 54 سال کے بعد یو این سکیورٹی کونسل کا اجلاس مسئلہ کشمیر پر ہوا جو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے مسئلہ کشمیر پر چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے کشمیر تاریخی،جغرافیائی طور پر پاکستان کا حصہ ہے۔ اقوامِ متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل کرائے مودی سرکار نے بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کر کے عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی جس کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عمران اعظمی، محمد سلیم اور نعیم اقبال نعیم نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔ ہمارے دل کشمیری عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ کشمیری ہمارے بھائی ہیں اور پاکستان ہمیشہ کشمیر یوں کی آزادی کی حمایت کرتا رہے گا۔کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے علامہ انوار الحق مجاہد، محمد اشرف قریشی، ملک محمدیوسف، علامہ غلام دستگیر حامدی، سید باقر گردیزی، پروفیسر نصرت محمود خان اور پروفیسر اعظم حسین،نے کہا کہ پاکستان میں آنیوالاپانی کشمیری دریاؤں سے آتاہے، ہندوستان ۱۰سے۱۵ہزار میگا واٹ بجلی کشمیر سے حاصل کر رہا ہے،جبکہ کشمیری دستکاریوں سے ایک ملین ڈالر سالانہ کما رہا ہے۔ اس موقع پر سیمینار کے شرکاء خاص میں سید شوکت شاہ بخاری، محمد فہیم ساجد، محمد افتخار مغل، میا ں ما جد، مختار سومرو، نوید ہاشمی، قمر ہاشمی، مخدوم ارشد قریشی،قاضی عبدالغفار، رشید عباس خان، فہد قتالپوری،تصور علی قریشی، ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن کے عہدیدار محمد سہیل، ملک شاہد یوسف، رضوان اختر بھٹہ، سیرت راجپوت، نازیہ سلیم، ملک عمران یوسف، محمد ارسلان سرفراز، ندیم اقبال، حذیفہ اکبر دھریجہ، سہیل بھٹہ و دیگر شامل تھے۔

فخر امام

مزید : ملتان صفحہ آخر