روجھان: ڈاکو راج ختم کرنے کیلئے کچے میں بڑے آپریشن کا فیصلہ 

  روجھان: ڈاکو راج ختم کرنے کیلئے کچے میں بڑے آپریشن کا فیصلہ 

  



روجھان (نمائندہ پاکستان) روجھان کے کچے میں امن وامان کی بحالی کے حوالے سے اعلی سطح کے اجلاس میں طے کیے اہم نکات منظر عام پر آگئے روجھان کے کچے میں پناہ گزین جرائم پیشہ کے افراد کے خاتمہ کے لیے مضبوطحکمت عملی تیار کر لی گئی  بیس سالہ ڈاکو راج کے خلاف بڑے آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے تفصیل کے مطابق روجھان کے کچے میں بیس سالہ ڈاکو راج کے خاتمہ کے لیے اعلی سطح کے اجلاس کے اہم نکات منظر عام پر آگئے اجلاس میں صوبائی وزیر ہاشم ڈوگر، ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری،(بقیہ نمبر46صفحہ7پر)

ڈپٹی سپیکر پنجاب سردار میر دوست محمد مزاری اور انکے بھائی دوست علی مزاری،ایم این اے نصراللہ دریشک آئی پنجاب عارف نواز سمیت دیگر قانون نافذ کرنیوالوں کے اعلی حکام  نے شرکت کی روجھان کے کچے میں امن وامان کی بحالی کے حوالے سے اعلی سطح کے اجلاس کے اہم نکات منظر عام پر آگئے ہیں اجلاس میں روجھان کے کچے میں بیس سال سے قائم ڈاکو راج کے خاتمہ اور  بلوچستان کے جرائم پیشہ افراد کا بلوچستان اور پنجاب کی سرحدی پٹی اوزمان کے راستے روجھان میں داخل ہوکر سیکورٹی اداروں پر حملے اور شر پسند عناصر کے روجھان کے داخلے کے  روک تھام کے لیے  اعلی سطح کے اجلاس میں اہم  فیصلے  کیے گئے  اعلی سطح کے اجلاس کے اہم نکات کے مطابق  روجھان کے کچے میں بیس سال سے اغواء  برائے تاوان،قتل سینکڑوں ڈکیتوں میں ملوث پناہ گزین جرائم پیشہ افراد کے خاتمہ کے لیے تمام سیکورٹی ادارے  ملکر مضبوظ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے  اس آپریشن کے دوران جرائم پیشہ افراد کے خاتمہ کے علاوہ جرائم پیشہ افراد کے سرپرست،اور سہولت کاروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی روجھان کے کچے میں جرائم پیشہ افراد کے خاتمہ میں  مدگار بننے کے لیے مقامی افراد پر مشتمل دریائی فورس تشکیل دی جائے گئے جس کے تحت روجھان کے مقامی تین سو نوجوان بھرتی کیے  جائے گئے  روجھان کے کچے میں جرائم کے خاتمہ اور کچے کے علاقے کو کنٹرول کرنے کے لیے دریا پار دو نئے تھانے بنائے جائے گئے جن کا ڈی ایس پی الگ سے تعنیات کیا جائے گا جبکہ بلوچستان اور پنجاب کی سرحدی پٹی کے راستے  روجھان میں شرپسند عناصر کی روک تھام کے لیے بلوچ لیوی فورس تشکیل دی جائے گئے جس میں بھی مقامی تین سو نوجوان بھرتی کیے جائے گئے جبکہ اس مقصد کے لیے باڈر ملٹری پولیس میں مزید بھرتی کی ہوگئی   ذرائع کے مطابق روجھان کے  مقامی تین سو  افراد پر مشتمل دریائی فورس اور بلوچستان سے سے روجھان کی سرحدی پٹی اوزمان کے راستے شرپسند عناصر کے داخلے کو روکنے کے لیے بلوچ لیوی کے قیام سے ناصرف بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا بلکہ جرائم کے خاتمہ میں بھی مدد ملے گئے واضح رہے کہ روجھان میں بیس سال سے امن وامان کی صورتحال کشیدہ ہے  جس کی بڑی وجہ روجھان کے کچے میں پناہ گزین جرائم پیشہ افراد ہیں جن کے پاس ایل،ایم جی،راکٹ لانچر سمیت جدید اسلحہ موجود ہے اغواء  برائے تاوان،قتل اور ہزاروں ڈکیتوں میں ملوث یہ ڈاکووں سندھ پنجاب میں اغواء  برائے تاوان،قتل اور ڈکیتی کی واردات کرتے ہیں اور روجھان کے کچے میں آکر پناہ گزین ہوتے ہیں ان جرائم پیشہ افراد کو انتہائی مظبوط سہولت کاری دستیاب ہے جو ہر مصیبت میں انکو بچانے کی صیلاحیت رکھتے ہیں جبکہ ان جرائم پیشہ افراد کا سندھ اور بلوچستان کے شرپسند عناصر کا آپس میں ایکا ہے ایک دوسرے کو اسلحہ کی فراہمی،پناہ گاہوں اور سہولت کاروں کا استعمال بھی ایک دوسرے سے وقت ضرورت کرتے ہیں جبکہ روجھان کے کچے میں جرائم پیشہ افراد کے علاوہ روجھان کی عوام اور شرپسند عناصر کے خلاف سیکورٹی اداروں کو بلوچستان سے روجھان میں داخل ہوکر کاروائی کرنے کا سامنا بھی رہتا ہے روجھان کے کچے میں قائم بیس سالہ ڈاکو راج کے خاتمہ کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی راہنما ایم این اے سردار ریاض محمود مزاری نے قومی اسمبلی کے  اجلاس میں،وزیراعظم عمران خان،وزیراعلی عثمان بزدار،آئی جی پنجاب اور دیگر اداروں کے اعلی حکام کے سامنے آواز بلند کی جن کی کاوش سے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا یہ اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں حکومتی نمائندگان،قانون نافذ کرانیوالے ادارے کے اعلی حکام اور انتظامیہ کے اعلی آفیسران نے شرکت کی جس کے اہم نکات میڈیا نے صحافتی زرائع سے حاصل کیے۔

روجھان 

مزید : ملتان صفحہ آخر