ڈاکٹر کی کمپنیوں سے ساز باز‘ مقدمہ درج نہ ہونے پر شہری کا جسٹس آف پیس کی عدالت سے رجوع

  ڈاکٹر کی کمپنیوں سے ساز باز‘ مقدمہ درج نہ ہونے پر شہری کا جسٹس آف پیس کی ...

  



ملتان ( خبر نگار خصو صی) غیر معیاری اور ناقص ادویات بنانے والی کمپنیوں سے ساز باز کرکے مبینہ طور پر شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج نہ ہونے پر شہری نے جسٹس آف پیس کی عدالت سے رجوع کرلیا۔(بقیہ نمبر51صفحہ12پر)

درخواست پر فاضل جج نے ایس پی کمپلینٹ سیل سے 28 نومبر کو جواب طلب کرلیا ہے۔ قبل ازیں شہری آصف علی نے درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ڈاکٹر ممتاز اطہر جو کہ ایک نجی ہسپتال میں ڈاکٹر تعینات ہے اس نے نشتر روڈ پر بھی ایک کلینک بنا رکھا ہے جہاں مریضوں سے چیک اپ کے نام پر لوٹ مار کررہا ہے اور ہر ٹیسٹ اپنی لیبارٹری سے کرانے کی ہدایت کرتا ہے جبکہ ناقص ادویات بنانے والی کمپنیوں سے ساز باز کرکے مریضوں کو وہی دوا استعمال کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ دوسری جانب ڈاکٹر ممتاز کے پاس آمدن سے زائد اثاثہ جات ہیں جس کے خلاف نیب ملتان کو بھی درخواست دی اور ہیلتھ کمیشن کو ڈاکٹر کا لائسنس منسوخ کرنے کی بھی درخواست لکھی تھی اور اس تمام معاملے پر پولیس تھانہ چہلیک کو اندراج مقدمہ کی درخواست دی لیکن شنوائی نہ ہونے پر ایس پی کمپلینٹ سیل سے رجوع کیا پھر بھی داد رسی نہیں ہوئی اس لیے عدالت سے استدعا ہے کہ پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔ شہری نے ایڈووکیٹس میاں فاروق کمبوہ، ملک ارسلان ڈوگر، نعمان اقبال ڈوگر اور عاقف احسان گجر کے توسط سے عدالت سے رجوع کیا۔

رجوع

مزید : ملتان صفحہ آخر