آرمی چیف کی ایکسٹنشن کے خلاف درخواست واپس لے لی گئی لیکن پھر بھی نوٹیفکیشن معطل کیسے ہوگیا؟

آرمی چیف کی ایکسٹنشن کے خلاف درخواست واپس لے لی گئی لیکن پھر بھی نوٹیفکیشن ...
آرمی چیف کی ایکسٹنشن کے خلاف درخواست واپس لے لی گئی لیکن پھر بھی نوٹیفکیشن معطل کیسے ہوگیا؟

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی درخواست کو از خود نوٹس میں بدلنے کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹی فکیشن معطل کیا, مدت ملازمت میں توسیع کیخلاف دائر درخواست واپس لیے جانے پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے درخواست کو 184(3)میں بدل کراز خود نوٹس لے لیاْ۔

بی بی سی کے مطابق آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست پیر کو جیورسٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی اور منگل کو چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جب سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار ریاض حنیف راہی پیش نہ ہوئے اور اپنی درخواست واپس لینے کی استدعا کی تاہم عدالت نے اسے مفادِ عامہ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے از خود نوٹس میں تبدیل کر دیا۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق عدالت کی جانب سے اس ضمن میں ایک مکمل حکمنامہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ اس موقع پر اٹارنی جنرل آف پاکستان خود پیش ہوئے تاہم درخواست گزار پیش نہیں ہوسکا۔لہٰذا عدالت آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت اس معاملے کو عوامی اہمیت کاحامل سمجھتے ہوئے اس پر نوٹی فکیشن لے رہی ہے۔

عدالت نے لکھا کہ صدر نے وزیراعظم کی سمری پر جنرل باجوہ کی تین سالہ توسیع کی منظوری دی تاہم ریٹائرمنٹ سے پہلے منظوری کیسے دی جاسکتی ہے۔حکومت نے انیس اگست کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا جبکہ انہوں نے اٹھائیس نومبر دوہزار انیس کو ریٹائرڈ ہونا تھا۔چیف جسٹس نے کہا آرمی ریگولیشن اس بات پر غور کرتا ہے کہ کوئی آرمی آفیسر پہلے ریٹائرڈ ہو اس کے بعد اس کی مدت ملازمت میں توسیع یا ریٹائرمنٹ قبول کی جاسکتی ہے۔ابھی تک آرمی چیف کی مدت ملازمت مکمل نہیں ہوئی تو یہ کیسے غیر قانونی کام کیا جاسکتاہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع خراب علاقائی صورتحال کے تناظر میں یہ اقدام اٹھایا گیا جس پر عدالت نے کہا کہ ریجنل اسکیورٹی کی ٹرم انتہائی مبہم ہے۔اور ایک ایسی ٹرم ہے کہ اگر کوئی جارحیت ہوتی ہے تو پاکستان کی مسلح افواج بطور ایک باڈی کے سرحدوں کا دفاع کرتی ہیں یہ کسی ایک شخص کا کام نہیں ہوتا ہے یہ انتہائی مبہم ٹرم استعمال کی گئی ہے۔اگر یہ اجازت دی جائے تو مسلح افواج کا ہر شخص کہے گا کہ اس کی توسیع کردی جائے۔عدالت نے واضح کیاکہ وہ اس معاملے کاتفصیلی جائزہ لیناچاہتی ہے۔

دوسری جانب مقامی صحافی اسد علی طور نے ٹویٹر پر بتایا ہے کہ  آرمی  چیف کیخلاف پٹیشن ایڈووکیٹ حنیف راہی نے جو کہ ایجنسیوں کے پراکسی پٹشنر کے طور پر جانے جاتے ہیں دائر کی تھی۔سپریم کورٹ نے اس کی درخواست منظور کرلی تھی لیکن آج اس نے درخواست واپس لے لی۔ اس کی جانب سے درخواست واپس لئے جانے پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے درخواست کو 184(3)میں بدل کراز خود نوٹس لے لیاْ۔

مزید : اہم خبریں /قومی