پاکستان میں چینی کی قیمت میں 4 آنے اضافے کیخلاف شروع ہونیوالی وہ تحریک جس نے انتہائی طاقتور آمر کو بھی عہدہ چھوڑنے پر مجبور کردیا

پاکستان میں چینی کی قیمت میں 4 آنے اضافے کیخلاف شروع ہونیوالی وہ تحریک جس نے ...
پاکستان میں چینی کی قیمت میں 4 آنے اضافے کیخلاف شروع ہونیوالی وہ تحریک جس نے انتہائی طاقتور آمر کو بھی عہدہ چھوڑنے پر مجبور کردیا

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) ان دنوں پاکستان میں چلغوزے ، ٹماٹر اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہر جگہ ہی بحث کا حصہ بن چکا ہے لیکن ماضی میں بھی مہنگائی کا رونا کچھ کم نہیں تھا، ایوب خان کو بھی ایک ایسی ہی تحریک کی وجہ سے عہدہ چھوڑنا پڑا تھا جو بنیادی طورپر چینی کی فی سیر قیمت میں چار آنے کے اضافے کے خلاف شروع ہوئی تھی ۔ 

روزنامہ جنگ میں نفیس صدیقی نے لکھا کہ ’’ ہم اس سیاسی تحریک کے نہ صرف عینی شاہد ہیں بلکہ اس تحریک میں بھرپور حصہ بھی لیا، جو چینی کی قیمت میں چار آنے کے اضافے پر اپنے وقت کے انتہائی طاقتور فوجی آمر جنرل ایوب خان کے خلاف چلائی گئی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد یہ پہلی سیاسی تحریک تھی، جو مہنگائی کے خلاف شروع ہوئی تھی اور معاشی و سماجی انصاف کے لیے بالکل اسی طرح ایک انقلابی سیاسی تحریک میں تبدیل ہو گئی تھی، جس طرح آج کل فرانس کی ’’ پیلی جیکٹ ‘‘ تحریک ہے۔

اگرچہ ایوب خان اور اس کی پشت پناہی کرنے والی مقتدر قوتوں کے خلاف لوگوں کے غم و غصہ کے کئی اسباب تھے، جن میں سب سے بڑا سبب قیام پاکستان کے بعد سیاسی اور جمہوری عمل کو روکنا تھا لیکن چینی کی قیمت میں صرف چار آنے کے اضافےنے اس غم و غصہ کو منظم سیاسی تحریک کا رخ دے دیا۔اس تحریک کی وجہ سے عوامی جمہوری انقلاب کی رارہ ہموار ہو چکی تھی۔

یہ انقلاب اگرچہ برپا نہ ہو سکا لیکن اس میں عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی جیسی مقبول اور مضبوط سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں۔اس تحریک میں طلبااور مزدوروں نے اہم کردار ادا کیا۔ خصوصاً نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن ( این ایس ایف ) اور مختلف ٹریڈ یونینز نے اس تحریک کو انقلابی رخ دیا۔ عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی نے دائیں اور بائیں بازو کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھرپور شرکت کی اور بالآخر قیادت کی۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ ایوب خان کے خلاف پہلا احتجاجی مظاہرہ کراچی میں بورڈ آفس پر ہوا تھا اور اس کے بعد یہ تحریک پورے ملک میں پھیل گئی تھی تاہم کراچی اس تحریک کا مرکز تھا۔ مشرقی پاکستان میں یہ تحریک زیادہ شدت اختیار کر گئی تھی۔ ڈھاکا میں ہی ایوب خان پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا۔

دنیا نے دیکھا کہ نومبر 1968ء میں شروع ہونے والی اس تحریک کی وجہ سے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے 25مارچ 1969ء کو خود استعفیٰ دے دیا اور ایک دوسرے جنرل یحییٰ خان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا لیکن مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والی اس تحریک کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے مقتدر قوتوں کو بہت کچھ کرنا پڑا۔ ہماری تاریخ میں سقوط ڈھاکا کا سانحہ بھی ہے۔ بھٹو اور بے نظیر کے قتل کے سانحات بھی ہیں۔ اس کے بعد سیاست کو ختم کرنے اور سماج کو غیر سیاسی بنانے کی لا متناہی کوششیں ہیں۔

اگلے روز گھر کے ماہانہ راشن کا بل میرے سامنے آیا تو میرے ذہن میں پہلا سوال یہ پیدا ہوا کہ اس قدر تیزی سے مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگ چیخ بھی رہے ہیں اور دھاڑیں بھی مار رہے ہیں لیکن کوئی بڑی سیاسی تحریک کیوں نہیں بن رہی ؟ الامان و الحفیظ! ٹماٹر تین سو روپے فی کلو، پیاز 90روپے، ہری مرچیں 130روپے، پودینہ 220روپے، لیموں 160 روپے فی کلو ہے جبکہ دال مسور 135روپے، دال مونگ 195روپے اور چاول 156روپے فی کلو ہیں، گھی کی قیمت میں ہر ماہ دس فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔

بہت سوچ و بچار کے بعد اس سوال کا یہ جواب ملا کہ پاکستان کے عوام کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کی کوششیں بھی تو کم نہیں ہیں لیکن ایک بات ایک انکشاف کے طور پر سامنے آئی کہ مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کی وسیع عوامی تر حمایت موجود ہے، یہ اور بات ہے کہ اس آزادی مارچ کو مذہبی اور مسلکی تحریک کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ اس میں سیاسی قوتوں کی بھرپور شرکت نہیں ہے۔

لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ مہنگائی اور بیروزگاری میں خوف ناک اضافے کی وجہ سے اس آزادی مارچ کی کہیں موثر مخالفت نہیں ہوئی اور اس بات کے پورے امکانات موجود ہیں کہ یہ ایک بڑی سیاسی تحریک میں تبدیل ہو جائے اور پھر سے پاکستان میں 1960ء اور 1970ء کے عشرے والی سیاست بحال ہو جائے‘‘۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’’یہ مت بھولیے کہ ایوب خان ایک وقت میں موجودہ وزیر اعظم عمران خان سے کہیں زیادہ مقبول تھے۔ ان کی نجکاری اور صنعتکاری کی پالیسیوں سے ملک میںسرمایہ دارانہ خصوصیات والی ترقی ہوئی۔ 

ایوب خان نے بجلی گھر اور ڈیمز تعمیر کیے۔ انہوں نے ملک کو جدید انفرا سٹرکچر دیا۔ 1968ء میں جب ان کے خلاف ہنگامے شروع ہوئے تو وہ سرکاری طور پر ’’ ترقی کا عشرہ ‘‘ منا رہے تھے یعنی 1958ء سے 1968ء تک دس سالوں کی ترقی کو اپنی کاردگی کے طور پر عوام کے سامنے پیش کر رہے تھے لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ’’کرونی کیپٹل ازم‘‘ کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی سیاسی طوفان بن کر انہیں بہا لے جائے گی‘‘۔

مزید : ڈیلی بائیٹس