آرمی چیف کی توسیع کے قانونی تقاضے پورے کیوں نہیں کئے،وزیراعظم وزیرقانون پر برس پڑے

آرمی چیف کی توسیع کے قانونی تقاضے پورے کیوں نہیں کئے،وزیراعظم وزیرقانون پر ...
آرمی چیف کی توسیع کے قانونی تقاضے پورے کیوں نہیں کئے،وزیراعظم وزیرقانون پر برس پڑے

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کااجلاس ہوا جس میں دیگر معاملات کے ساتھ سپریم کورٹ کی جانب سے آرمی چیف کی توسیع کا نوٹی فکیشن معطل کئے جانے کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیرِ اعظم آفس میں ہورہا ہے۔دوران اجلاس وزیر اعظم عمران خان وزیر قانون فروغ نسیم پر برس پڑے، ان کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق تمام لوازمات پورے کیوں نہیں کیے گئے۔

وفاقی کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم کی سربراہی میں ملکی سیاسی اور سکیورٹی صورتِ حال کا جائزہ لے رہی ہے۔کابینہ اجلاس کے 16 نکاتی ایجنڈے کے مطابق کابینہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے فیصلوں کی توثیق کرے گی۔اجلاس میں چیئرمین آرڈیننس فیکٹریز بورڈ کے تقرر کی منظوری کابھی امکان ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر کو ریٹائر ہونا تھا تاہم وزیراعظم عمران خان نے ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل ہی انھیں تین برس کے لیے توسیع دینے کا اعلان کیا تھا۔اس توسیع کے خلاف درخواست پیر کو جیورسٹس فاو¿نڈیشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی اور منگل کو چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جب سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار ریاض حنیف راہی پیش نہ ہوئے اور ان کی جانب سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی تاہم عدالت نے اسے مفادِ عامہ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے از خود نوٹس میں تبدیل کر دیا۔

سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ علاقائی سکیورٹی کی صورتحال کے ہیش نظر آرمی چیف کو توسیع دی جا رہی ہے لیکن ایسی توسیع کے لیے خطے کی سکیورٹی کی صورتحال کی اصطلاح مبہم ہے۔سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ علاقائی سکیورٹی سے نمٹنا فوج کا بطور ادارہ کام ہے، کسی ایک افسر کا نہیں اور 'علاقائی سکیورٹی کی وجہ مان لیں تو فوج کا ہر افسر دوبارہ تعیناتی چاہے گا۔عدالت عظمیٰ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل مدت ملازمت میں توسیع یا نئی تعیناتی کا قانونی جواز فراہم نہیں کر سکے۔

عدالت کے مطابق فوجی قوانین کے تحت صرف ریٹائرمنٹ کو عارضی طور پر معطل کیا جا سکتا ہے اور ریٹائرمنٹ سے پہلے ریٹائرمنٹ معطل کرنا گاڑی کو گھوڑے کے آگے باندھنے والی بات ہے۔عدالت کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل نے قانون کی کوئی ایسی شق نہیں بتائی جس میں چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع اور دوبارہ تعیناتی کی اجازت ہو۔وزیر اعظم نے خود آڈر پاس کر کے موجودہ آرمی چیف کو ایک سال کی توسیع دی۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں آرٹیکل 243 کے تحت صدر مجاز اتھارٹی ہوتا ہے۔دورانِ سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو تو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار نہیں اور صرف صدر پاکستان ہی ایسا کر سکتے ہیں جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع صدر کی منظوری کے بعد کی گئی اور کابینہ سے بھی اس سمری کی منظوری لی گئی۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ وزیراعظم نے 19 اگست کو اپنے طور پر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا اور نوٹیفکیشن کے بعد غلطی کا احساس ہوا تو وزیراعظم نے صدر کو سمری بھجوائی۔جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ کیا کابینہ نے اس معاملے پر فیصلہ کرنے سے قبل مناسب سوچ بچار کی۔جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ دستاویزات کے مطابق کابینہ کی اکثریت نے اس معاملے پر کوئی رائے نہیں دی اور 25 ارکان میں سے 11 اس کے حق میں تھے جبکہ 14 ارکان نے عدم دستیابی کے باعث کوئی رائے نہیں دی۔انھوں نے کہا کہ کیا حکومت نے ارکان کی خاموشی کو ان کی ہاں سمجھ لیا۔ اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کابینہ کے جن ارکان نے رائے نہیں دی وہ ووٹنگ میں شریک نہیں تھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کابینہ نے 14 ارکان نے ابھی تک آرمی چیف کی توسیع پر مثبت جواب نہیں دیا تو کیا آپ کابینہ کے ارکان کو سوچنے کا موقع بھی نہیں دینا چاہتے۔مختصر سماعت کے بعد عدالت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا حکم نامہ معطل کرتے ہوئے فوج کے سربراہ، وفاقی حکومت اور وزارتِ دفاع کو نوٹس جاری کر دیا جبکہ سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

خیال رہے کہ وزیرِاعظم عمران خان نے 19 اگست کو جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں تین برس یعنی 'فل ٹرم' کی توسیع کی تھی۔وزیراعظم ہاوس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع کا فیصلہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔

مزید : قومی /اہم خبریں