پرویز مشرف کے بیرونِ ملک جانے کے کچھ وقت بعد بلوچستان کی حکومت گرا کر وہاں من پسند حکومت قائم کی گئی لیکن نوازشریف کے بعد کیا تبدیلی ہونے کے اشارے ہیں؟ سینئر صحافی نے دعویٰ کردیا

پرویز مشرف کے بیرونِ ملک جانے کے کچھ وقت بعد بلوچستان کی حکومت گرا کر وہاں من ...
پرویز مشرف کے بیرونِ ملک جانے کے کچھ وقت بعد بلوچستان کی حکومت گرا کر وہاں من پسند حکومت قائم کی گئی لیکن نوازشریف کے بعد کیا تبدیلی ہونے کے اشارے ہیں؟ سینئر صحافی نے دعویٰ کردیا

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) سابق صدر پرویز مشرف اور سابق وزیراعظم نوازشریف بیرون ملک موجود ہیں ، پرویز مشرف کے بیرون ملک جانے کے کچھ عرصہ بعد بلوچستان میں حکومت تبدیل ہوئی اور اب پنجاب میں بھی اشارے مل رہے ہیں، یہ دعویٰ سینئر صحافی اعزاز سید نے کیا ہے ۔

روزنامہ جنگ میں اعزاز سید نے لکھا کہ’’ ابتدا میں مشرف بیرونِ ملک نہیں جانا چاہتے تھے تو اس بار نواز شریف بیرونِ ملک جانے سے گریزاں تھے۔ مشرف کو بیرونِ ملک جانے پر راضی کیا گیا تو نواز شریف کو ان کے اردگرد لوگوں نے بیرونِ ملک جانے پر قائل کیا۔

فرق یہ تھا کہ اس وقت پرویز مشرف کے خلاف غداری کا کیس زیرِ سماعت تھا مگر کارروائی آگے نہیں بڑھی تھی جبکہ اس بار تین بار منتخب کیا گیا وزیراعظم ایک متنازع کیس میں جیل میں سزا بھگت رہا تھا اور اسے عدالت نے ضمانت دے رکھی تھی۔ حکومت کو ڈر تھا کہ تین بار وزیراعظم بننے والے نوازشریف کو جیل میں یا پاکستان میں کچھ ہوا تو اس کے نتیجے میں ان کے خلاف نفرت کی فضا کو کوئی قابو میں نہیں لا سکے گا۔

اس وقت پرویز مشرف کے بیرونِ ملک جانے کے صرف ایک ڈیڑھ سال بعد بلوچستان کی حکومت گرا کر وہاں من پسند حکومت قائم ہوئی۔ اس بار یہ عمل پنجاب میں دہرائے جانے کے واضح اشارے مل رہے ہیں جہاں اگلے چند ماہ میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے بعد پرویز الٰہی ممکنہ طور پر نئے وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں۔

ادھر وزیراعظم عمران خان اس بات پر شاداں ہیں کہ انہیں سب کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ رواں ماہ 15نومبر کو وزیراعظم نے تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں فخر سے حکومت کو دی جانے والی اس مثالی حمایت کا ذکر کیا سارے تماشوں سے آشنا، تجربہ کار وزیر داخلہ بول اٹھے کہ جناب حمایت کسی کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ وہ کارکردگی کے ساتھ ہوتی ہے۔

زیرک وزیر داخلہ کی اس بات کے بعد کمیٹی اجلاس میں بڑی کھسر پھسر ہوئی جو اب بھی جاری ہے۔ نشانیاں بتارہی ہیں کہ ایک نیا تماشا ایک بارپھر جاری ہے۔

المیہ تماشا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہر وزیراعظم ناکام و نامراد ہو کر اپنی مدت پوری کیے بغیر واپس چلا جاتا ہے۔ کوئی بھی سنجیدگی سے اس تماشے کو بند کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا اور اگر وہ کرے بھی تو وزیراعظم کے اردگرد موجود کٹھ پتلیاں خود اسے تماشا بنا دیتی ہیں‘‘۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد