سب سے بڑی چوری، دنیا کی محفوظ ترین عمارت سے چور اربوں روپے لے اُڑے

سب سے بڑی چوری، دنیا کی محفوظ ترین عمارت سے چور اربوں روپے لے اُڑے
سب سے بڑی چوری، دنیا کی محفوظ ترین عمارت سے چور اربوں روپے لے اُڑے

  



برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) جرمنی میں گزشتہ دنوں چوری کی سب سے بڑی واردات ہوگئی جہاں ایک انتہائی سکیورٹی والے میوزیم سے چور 1ارب پاﺅنڈ (تقریباً 2کھرب روپے)کے قیمتی ہیرے اور زرو جواہرچوری کرکے فرار ہو گئے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ واردات جرمن شہر ڈریسڈن کے ’دی گرین والٹ‘ نامی میوزیم میں ہوئی جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کی سکیورٹی امریکی فوج کی امریکی ریاست کینٹکٹی میں واقع پوسٹ ’فورٹ نوکس‘ سے بھی سخت ہے۔ فورٹ نوکس سے کچھ فاصلے پر ہی ’امریکی بلین ڈیپازیٹوری‘ ہے جہاں امریکہ کے سونے کے ذخائر محفوظ کیے گئے ہیں چنانچہ اس مقام کو دنیا کا سب سے سخت سکیورٹی والا مقام کہا جاتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ سخت سکیورٹی والا مقام کہلائے جانے والے ’دی گرین والٹ‘ میں دو چور کھڑکی توڑ کر اندر داخل ہوئے اور شو کیس توڑ کر ایک ارب پاﺅنڈ کے جواہرات لے کر فرار ہو گئے۔ انہوں نے تاریخی زیورات کے جو سیٹ چوری کیے ان میں زیادہ تر 18صدی عیسوی کے سیکسونی کے بادشاہ کے تھے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان چوروں کے پاس ایک کلہاڑا تھا جس کے ذریعے انہوں نے کھڑکی اور شو کیس توڑے۔ انہوں نے اپنے چہرے چھپا رکھے تھے جس کے باعث ان کی شناخت نہیں ہو سکی۔ 2017ءمیں برلن میوزیم سے بھی 35لاکھ پاﺅنڈ مالیت کے تاریخی سکے چوری کر لیے گئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دی گرین والٹ میں چوری کرنے والے ان دو ملزمان کا تعلق بھی ممکنہ طور پر برلن میوزیم میں چوری کرنے والے گینگ سے ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس