برطانوی شہری ہیروئن سے پیسہ کمانے پاکستان آنے لگے، انتہائی تشویشناک خبر منظر عام پر

برطانوی شہری ہیروئن سے پیسہ کمانے پاکستان آنے لگے، انتہائی تشویشناک خبر ...
برطانوی شہری ہیروئن سے پیسہ کمانے پاکستان آنے لگے، انتہائی تشویشناک خبر منظر عام پر

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی شہریوں کے منشیات سے پیسہ کمانے کے لیے بڑی تعداد میں پاکستان آنے کا انکشاف منظرعام پر آ گیا ہے۔ ویب سائٹ vice.com کے مطابق ان برطانوی شہریوں میں اکثریت پاکستانی نژاد لوگوں کی ہے جو پاکستان آتے ہیں اور یہاں سے تھوڑی تھوڑی مقدار میں ہیروئن سمگل کرکے برطانیہ لے جاتے ہیں۔ ان نئے سمگلروں کی عمریں 20سے 30کی دہائی میں ہیں اور وہ سمگلنگ کے روایتی طریقے استعمال نہیں کرتے جن میں منشیات کی بھاری کھیپ سمگل کی جاتی ہے۔

یہ لوگ تھوڑی مقدار میں ہیروئن لیجاتے ہیں اور ایسے طریقے سے لیجاتے ہیں کہ پکڑے جانے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ یہ لوگ جو طریقہ سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں ڈاک کے ذریعے ہیروئن بھجوانے کا ہے۔ یہ پوسٹل سسٹم کی خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اچھی خاصی رقم کماتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سعید اور جمال بھی ایسے ہی دو برطانوی منشیات سمگلر ہیں جنہوں نے گزشتہ دنوں پاکستان کے شہر میر پور سے پشاور تک کا سفر اپنی گاڑی پر کیا۔ پشاور میں وہ خان بھائی نام کے ایک منشیات ڈیلر سے ملے اور اس سے ہیروئن کا ایک پیکٹ خریدا اور اسے 11لاکھ روپے ادا کیے۔ وہ دونوں ہیروئن کا پیکٹ لے کر واپس گھنٹوں کا سفر طے کرکے میر پور چلے گئے۔ یہ واقعہ ڈاکٹر قاسم نامی ایک مصنف نے اپنی کتاب ’ینگ، مسلم اینڈ کریمنل‘ میں تحریر کیا ہے۔ وہ سعید، جمال اور خان بابا کی اس ملاقات کا عینی شاہد تھا۔ وہ اپنی کتاب کے سلسلے میں تحقیقات کر رہا تھا اور اس نوع کی کئی ملاقاتیں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا۔ ڈاکٹر قاسم نے لکھا کہ سعید اور جمال برطانیہ میں منشیات سے متعلق کیسز میں پکڑے جا چکے ہیں اور اب میرپور، آزاد کشمیر میں رہتے ہوئے یہ کام کر رہے ہیں۔

مزید : برطانیہ