چند دن بعدموجودہ حکمران بھی کہہ رہے ہوں گے مجھے کیوں نکالا:سینیٹر سراج الحق

چند دن بعدموجودہ حکمران بھی کہہ رہے ہوں گے مجھے کیوں نکالا:سینیٹر سراج الحق
چند دن بعدموجودہ حکمران بھی کہہ رہے ہوں گے مجھے کیوں نکالا:سینیٹر سراج الحق

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان  آن لائن)  امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نےکہاہےکہ موجودہ حکمران بھی چند دن بعد کہہ رہے ہوں گے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کیا حکومت کا کام لنگرخانے بنا کر عوام کو قطار میں کھڑا کرنارہ گیا ہے؟جب تک پارلیمنٹ نوجوانوں سے آباد نہیں ہو گی  پاکستان ترقی نہیں کرے گا،پارلیمنٹ سے کرپٹ جاگیرداروں کو نکال باہر کرنے کی ضرورت ہے،ایٹم بم نہیں نوجوان ہی پاکستان کی  اصل طاقت ہیں،کارکردگی امریکہ، چین،آئی ایم ایف،ورلڈ بینک کو خوش رکھنا رہ گئی ہے،22دسمبر کو اسلام آباد آرہے ہیں،کشمیر کیلئے الجہاد کا نعرہ لگائیں گے، بےحس نہ اُٹھے تو ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔

پاک چائنہ دوستی سنٹر میں اسلامی جمعیت طلبہ کےزیراہتمام’کیپیٹل یوتھ ایکسپو‘سےخطاب کرتےہوئےسینیٹرسراج الحق نےکہاکہ نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل ہیں، پاکستان کی اصل طاقت ایٹم بم نہیں  نوجوان ہیں، کیونکہ نوجوانوں کو مطمئن  نہ رکھنے کی وجہ سے روس ٹوٹ گیا تھا،پاکستان کے سیاستدان  دست و گریباں ہیں ، وزیراعظم  سپریم کورٹ اور چیف جسٹس  وزیراعظم کو جواب  در جواب دے رہے ہیں،ایسے ماحول میں نوجوان ہی  امید کی کرن ہیں،یہ پرعزم ہیں،موجودہ نظام میں  حکومتوں نے  نوجوانوں کا استحصال کیا،اِن کی صلاحیتوں کو اپنے بنگلوں، کارخانوں اور سیاسی  قوت کیلئے استعمال کیا ، ہم چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کی یہ صلاحیت اُمت کی امانت ہے،پاکستان کی خاطر عالمِ اسلام اور اِنسانیت  کیلئے استعمال ہو، تمام حکمرانوں کے اَدوار میں کرپشن کو فروغ ملا،امانت میں خیانت کی گئی، قوم کے ساتھ ہر آنےوالےنےجھوٹ بولا،پاکستان ہرقسم کےوسائل سے مالا مال ہے،زرعی پاکستان ہے،دریا ہیں،ہرقسم کاموسم ہے،تواناباصلاحیت  نوجوان ہیں مگر اس طاقت کے حوالے سے حکمرانوں نے خیانت کی، کرپشن کی، پاکستان کے ہر بچے کو ورلڈ بینک ، آئی ایم ایف کا  مقروض بنا دیا۔

اُنہوں نےکہاکہ ایک وزیر نےبیان دیاہےکہ وزیراعظم اور چین مجھ سے خوش ہے مجھےکوئی نہیں ہٹاسکتا،اَب کیایہی کارکردگی رہ گئی ہےکہ وزیراعظم اِن سے  خوش رہے؟یہ امریکہ،چین،ورلڈ بینک،آئی ایم ایف کی خوشی کواپنی کارکردگی کا پیمانہ بناچکے ہیں،قوم کیلئےاِن کےپاس کچھ نہیں ہے،ہرآنےوالی حکومت غلام ابنِ غلام ہے،15 ماہ میں115یوٹرن لےچکےہیں،پاکستان کی یوتھ 64فیصد ہے پارلیمنٹ میں یوتھ کے مسائل پر کوئی بحث نہیں ہوئی،کوئی پالیسی نہیں بنی،کوئی اِقدام نہیں ہوا،حکومت صرف لنگرخانے بنانے تک محدود رہ گئی ہے،ساری قوم کولنگرخانوں کےسامنےقطار میں کھڑاکرکےحکومت کیاکرناچاہتی ہے؟مرغی کی پیٹھ  پرسوارہوکر مریخ کا سفر نہیں کیاجاسکتا،کاغذ کی کشتی سمندر میں سفر  نہیں کراسکتی، یہ تباہی و بربادی کی پالیسی ہے،حکومت نےکسی بڑے پروگرام کااعلان نہیں کیا،15ماہ میں امریکہ ہو ، چین ہو ایک ہی بیانیہ رہ گیا ہے کہ یہ چور کون ہے؟باہر  جاکر یہ افسوسناک بیان دئیے جاتے ہیں،میزبان ملک بھی حیران و پریشان ہیں کہ پاکستان کاوزیراعظم سلطانی گواہ بن رہاہےاوراپنی ہی قوم کوکرپٹ اورچورقراردے رہاہے۔اُنہوں نےکہاکہ یہ قوم کرپٹ نہیں ہے،یہ وہی قوم ہے جس نے  پیٹ  پر پتھرباندھ کرایٹم بم بنایا، 1965ء میں بھارت کامقابلہ کیا،قرض اتارو مہم میں خواتین نےاپنے زیورات نچھاور کردئیے،حکمران طبقہ  ہمیشہ کرپشن میں ملوث رہا ہے، پشاورمیں  بی آر ٹی کامنصوبہ گزشتہ کئی سالوں سےمکمل نہ ہوسکا جبکہ  کرتارپورراہداری نوماہ میں مکمل ہوگئی،معیشت ناکام ہوچکی ہے،ملک کاکسان،کاشتکار، دہکان  ، مزدور بھوکا سوتا ہے، تعلیمی بجٹ میں  20فیصد کمی کردی گئی ،صحت کیلئے صرف. 5فیصد بجٹ رہ گیا ہے،دنیا چانداورسورج کی طرف  سفرکررہی ہے پاکستان کےعوام پینے کےصاف پانی سےمحروم ہیں،ایک سابق وزیراعظم کوعلاج کیلئے باہرجانا پڑا اور نواز شریف کوئی ایسا ہسپتال نہ بنا سکا جو اس کے علاج کیلئے  کام آتا،اَب زرداری کی باری ہے،باہر جانا چاہیے،ایک کو حکومت سے نکالا گیا تو اس نے کہا مجھے کیوں نکالا چند دن بعد یہ حکمران بھی یہ کہیں گے کہ مجھے کیوں نکالا۔

سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ وہقوم کو منظم کرنا چاہتے ہیں، حکمرانو نوجوانوں کیلئے لنگر کا راستہ نہ بناؤ یہ باہمت ہنر مند پاکستانی ہیں، اُن کے کتے بھی پلاؤ کھاتے ہیں، مکھن اور مرغن ناشتے کھاتے ہیں اورغریبوں کیلئے  لنگرخانوں کے سامنے  قطار میں کھڑا ہونا رہ گیا ہے،نظام  اس وقت تبدیل ہوگا جب پارلیمنٹ نوجوانوں سے آباد ہوگی، سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلیاں کرپٹ جاگیرداروں کے کلب بن کر رہ گئے ہیں،ہم ان باصلاحیت نوجوانوں کیلئے یہ دروازہ کھولنا اور ظالم کرپٹ جاگیرداروں کو پارلیمنٹ سے نکالنا چاہتے ہیں۔

اُنہوں نے  کہا کہ نوجوانوں کو شراکت داری ہوگی تو پاکستان ترقی کرے گا،پارلیمنٹ  میں نوجوانوں کولائیں گے،تحریک انصاف کی حکومت بے مقصد اور بے منزل حکومت اور یہی اس کی شناخت ہے،114 دنوں سے  سری نگر کی بیٹیاں پکار رہی ہیں  کہ محاصرے میں ہیں، بھارت نے کشمیر کو ہڑپ کیا حکومت کیا کررہی تھی؟ اب کیا کیا؟یہی سرینگر  کی ماں اور بیٹی پوچھ رہی ہے؟ کیا اسلام آباد قبرستان ہے؟ہم نے  اس کو جگانا ہے، سن لو 22دسمبر کو اسلام آباد آرہے ہیں،جگائیں گے اگر نہ اٹھ سکے تو ان  کی نماز جنازہ پڑھیں گے،کشمیرکو آزاد کروائیں گے،ہمارے ٹیپو  سلطان نے واشنگٹن سے  آنے کے بعد روڈ میپ دینے کا اعلان کیا تھا، ایئر کنڈیشن ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر  ٹیپو  سلطان نہیں بنا جاسکتا، اس کیلئے خون بہانا پڑتا ہے،ہر جمعہ آدھے گھنٹے کیلئے کالی پٹی باندھ کر کشمیر آزاد نہیں ہوگا،22دسمبر کو اسلام آباد میں جہاد کا نعرہ بلند ہوگا،ملک بھر سے  قافلے اسلام آباد آئیں گے،لوگ گاڑیوں میں،بسوں میں،گھوڑوں پر،اونٹوں پر،موٹرسائیکلوں پر،سائیکلوں پر  پیدل اسلام آباد پہنچیں گے، تاریخ کا عظیم و الشان اجتماع ہوگا۔

مزید : قومی