سندھ کابینہ نے صوبائی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی منظوری دے دی

سندھ کابینہ نے صوبائی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی ...
سندھ کابینہ نے صوبائی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی منظوری دے دی

  



کرا چی(این این آئی)سندھ کابینہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی منظوری دے دی،محکمہ لوکل گورنمنٹ جہاں عدالتیں بنانا چاہے ان کو اجازت ہو گی۔

اس بات کا اظہا ر صوبائی وزیر محنت سعید غنی نے اسمبلی کے کمیٹی روم میں کابینہ کے اجلاس کے فیصلوں سے متعلق صحافیوں کو بریفنگ دی بریفنگ میں صوبائی وزیر متبادل توانائی امتیاز احمد شیخ نے بھی موجود تھے۔سعید غنی نے مزید بتایا کہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں چیف سیکریٹری سندھ،صوبائی وزرا،مشیراور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم، بلڈنگ کنٹرول خصوصی عدالتوں کا قیام،سرکاس جی جہا نگیر انسٹیٹیوٹ آف فیزیوتھراپسٹ کے مسودے کی منظوری،ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ملازمین کی بھرتیوں کے قانون میں ترمیم، سندھ آرکائیوز کو محکمہ کلچر کے حوالے کرنا، سندھ لینگویج اتھارٹی کی منظوری، ایف بی آر اور بی آر او کے سکھر اورحیدرآباد کے ٹیبل میں فرق پر غور،ونڈ اور سولر پاور پروجیکٹ کے لئے زمین کی الاٹمنٹ،21 سال مدت ملازمین پوری کرنے والے جونیئر اسکول ٹیچرز کی گریڈ 17 میں ترقی اور سندھ کابینہ کی مختلف کمیٹیوں کی رپورٹ پر غور کرنا شامل تھا، سندھ بینک ایجنڈے میں اضافی شامل ہے۔

سعید غنی نے مزید کہا کہ کابینہ کو سیکریٹری خزانہ حسن نقوی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سندھ کابینہ نے سندھ بینک کو 14.7 بلین روپے دینے کی منظوری دی تھی سندھ حکومت 9.7 بلین روپے سندھ بینک میں جمع کرا چکی ہے جب کہ 5 بلین روپے ابھی دینے ہیں جس میں 3 بلین روپے کی رقم سندھ حکومت براہ راست دے گی جب کہ 2 بلین روپے سندھ لیزنگ کے مرج ہونے سے مل جائیں گے بنک14.5 بلین روپے سے 18 بلین روپے تک پہنچ گیا ہے 11.90 فیصد کیپٹل ایڈکیوسی شرح (سی اے آر)بینک کی ضرورت تھی جو اب 16.65 فیصد ہوگیا ہے سندھ مائیکرو فنانس بینک 2.2 نے بلین روپے لون ایک لاکھ غریب خواتین کو چھوٹے چھوٹے قرضے دیئے ہیں سندھ مائیکرو فنانس بینک منافع میں چل رہا ہے سندھ کابینہ نے مائیکرو فناننس کو سندھ بینک کے پاس رہنے اور سندھ بینک اپنے ملازمین کو قرضہ دینے کی منظوری دے دی۔ اس موقع پر وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ بنک غریب خواتین کو قرضے دیتے ہیں جس کو کوئی قرض نہیں دیتا،سندھ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ سندھ حکومت کے ادارے، زیلی ادارے اپنے فنڈز صرف سندھ بینک میں رکھیں گے ،سندھ کابینہ نے 2 بلین کا فنڈ سندھ بینک کو دینے کی منظوری بھی دے دی ہے۔

سعید غنی نے مزید بتایا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھاٹی نے خصوصی عدالتیں بنانے کی درخواست کی ہے، خصوصی عدالتوں میں بلڈنگ کنٹرول سے متعلق مقدمات چلیں گے، صوبائی وزیر ناصر شاہ نے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عمارتوں کی تعمیرات کے حوالے سے کافی مقدمہ بازی ہوتی ہے، جس پر کابینہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول کی عدالتیں قائم کرنے کی منظوری دے دی اب محکمہ بلدیات جہاں بھی عدالتیں بنانا چاہے انکو اجازت دے دی گئی۔

اجلاس میں سر کاو س جی جہانگیر انسٹیٹیوٹ آف سائیکیاٹری بیویواورل سائنس ایکٹ 2019 کی منظوری بھی دی گئی ہے انسٹیٹیوٹ قائم ہونے سے مینٹل صحت کے حوالے سے ڈگری ایوارڈنگ ادارہ قائم ہوجائے گا، ادارے کے بورڈ کا چیئرمین سیکریٹری صحت اور وائس چیئرمین سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کا چیئرمین ہو گا۔ کابینہ نے مسودہ بل منظور کرلیا اور اسمبلی کو بھیجنے کی منظوری دے دی، اجلاس میں سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن ایمپلائیز (ریکٹروٹمنٹ) رولز 2014 کے قوانین میں ترمیم کی اصولی منظوری بھی دی گئی ہے قوانین میں ترمیم کے بعد تعلیم کے حوالے سے سول سرونٹس بھی تعینات ہوسکتا ہے اجلاس میں یونیورسٹی اینڈ بورڈز کو بھرتیوں کے گریڈز اور پوزیشنز کو بھی واضح کرکے آئندہ کابینہ کے اجلاس میں لانے کی ہدایت دی گئی جب کہ سندھ کابینہ نے تمام جامعات کو مزید بھرتیوں سے روکتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جامعات انتظامیہ کہتی ہے کہ انکے پاس فنڈز نہیں تو کس طرح وہ بھرتیاں کررہے ہیں؟ ۔

اجلاس میں سندھ کابینہ نے ڈائریکٹوریٹ آف سندھ آرکائیوز،انفارمیشن ڈپارٹمنٹ سے محکمہ ثقافت کو منتقل کرنے کی منظوری دی گئی اجلاس میں ایف بی آر اور بی او آر کے ٹیبل ویری ایشن پر بات چیت کی گئی اورکابینہ کو بتایا گیا کہ کراچی، حیدرآباد اور سکھر کی اربن اموایبل پراپرٹی کی ویلو ایشن ٹیبل اور سندھ بورڈ آف ریونیو کے ٹیبل میں فرق ہے کچھ میں سندھ حکومت کا ٹیبل ایف بی آر سے کم ہے اور کچھ میں زیادہ اس لیے اس ٹیبل کو یکساں کرنے کی تجویز ہے جس پرکابینہ نے وزیر ریونیو، وزیر انرجی اور وزیربلدیات کے تحت سب کمیٹی بنادی جو کہ اس مسئلے سے متعلق اپنی رپورٹ کابینہ کے آیندہ اجلاس میں پیش کرے گی سعید غنی نے بتایا کہ اجلاس میں سولر اور ونڈ پاور کے لیے زمین الاٹ کرنے کے حوالے سے غور کیا گیا یہ زمین ٹھٹھہ، دادو اور جامشورو میں 10 مختلف کمپنیز کو الاٹ کی جائیں گی زمین نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کو بھی الاٹ کی جائے گی جو کہ 30 سالہ لیز پر دی جائے گی بورڈ آف ریونیو نے زمین کی سالانہ لیز کی رقم بھی تجویز کی ہے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ شرائط پر پورا اترنے والی کمپنیوں کو زمین الاٹ کی جائے گی۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی