فروغ نسیم نے آرمی چیف کا مقدمہ لڑنے کے لئے وزارت سے استعفیٰ دیدیا لیکن وہ عدالت میں تو پیش ہی نہیں ہوسکتے ،انتہائی حیران کن انکشاف سامنے آگیا

فروغ نسیم نے آرمی چیف کا مقدمہ لڑنے کے لئے وزارت سے استعفیٰ دیدیا لیکن وہ ...
فروغ نسیم نے آرمی چیف کا مقدمہ لڑنے کے لئے وزارت سے استعفیٰ دیدیا لیکن وہ عدالت میں تو پیش ہی نہیں ہوسکتے ،انتہائی حیران کن انکشاف سامنے آگیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئینی ماہر کامران مرتضیٰ نے کہاہے کہ فروغ نسیم کا لائسنس معطل ہے ،  وہ آرمی چیف کے مقدمے میں عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے ۔

جیونیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“میں گفتگو کرتے ہوئے معروف قانون دان کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ فروغ نسیم نے سپریم کورٹ میں آرمی چیف کے مقدمے میں پیش ہونے کیلئے وزارت قانون سے استعفیٰ دیاہے لیکن ان کا وکالت کا لائسنس معطل ہے جب تو وہ بحال نہیں ہوتا فروغ نسیم کسی کی وکالت نہیں کرسکتے ۔ اس لئے وہ آرمی چیف کے مقدمے میں پیش ہوکر سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کی معاونت نہیں کرسکتے ۔

واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزراءکے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا تھا کہ فروغ نسیم نے وزارت قانون سے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیاہے اور اب وہ سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل منصورعلی خا ن کی معاونت کریں گے ۔

مزید : قومی