فروغ نسیم کا وکالت کا لائسنس معطل کیوں ہوا؟ اصل وجہ سامنے آگئی

فروغ نسیم کا وکالت کا لائسنس معطل کیوں ہوا؟ اصل وجہ سامنے آگئی
فروغ نسیم کا وکالت کا لائسنس معطل کیوں ہوا؟ اصل وجہ سامنے آگئی

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیر قانون فروغ نسیم کی جانب سے اپنی وزارت سے مستعفی ہونے کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان کا وکالت کا لائسنس معطل ہے جس کے باعث وہ سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی نمائندگی نہیں کرسکیں گے۔ فروغ نسیم کا دعویٰ ہے کہ ان کا وکالت نامہ معطل نہیں ہوا بلکہ اس پر سپریم کورٹ اور اٹارنی جنرل کے آرڈرز موجود ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصل معاملہ کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب بیرسٹر محمد علی سیف نے دیا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران بیرسٹر محمد علی سیف نے بتایا کہ جب آپ کے پاس وفاقی وزیر یا صوبائی وزیر کا عہدہ ہوتا ہے تو آپ بطور وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے۔ اگر آپ کوئی سرکاری نوکری جوائن کرتے ہیں تو بھی آپ کو اپنا لائسنس معطل کرانا پڑتا ہے۔ یعنی سرکاری ذمہ داری کے ساتھ وکالت نہیں کی جاسکتی اس لیے آپ کو خود ہی اپنا لائسنس معطل کرانا پڑتا ہے جو سرکاری ذمہ داری ختم ہونے کے بعد بحال کروانا پڑتا ہے۔

محمد علی سیف کے مطابق فروغ نسیم شام 7 بجے کے قریب وزارت سے مستعفی ہوئے اور انہوں نے صبح عدالت میں پیش ہونا ہے، ایسے میں ان کا لائسنس کیسے بحال کیا جائے گا ، یہ ایک سوالیہ نشان ہے کیونکہ لائسنس بحال کرانے کیلئے انہیں بار کونسل سے رابطہ کرنا پڑے گا جو ان کی درخواست کا جائزہ لینے کے بعد ان کا لائسنس بحال کرے گا۔

سینئر قانون دان کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی طرف سے فروغ نسیم کے پیش ہونے پر یہ بھی سوالیہ نشان ہے کہ وہ اسی کیس میں پیش ہورہے ہیں جس میں ان کے اپنے اقدامات پر سوال اٹھائے جاسکتے ہیں، آخر فروغ نسیم کو ہی وکیل بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی، ملک میں اور بھی سینئر وکلا موجود ہیں۔

مزید : قومی