مذہبی ہم آہنگی کی ضرورت

مذہبی ہم آہنگی کی ضرورت
مذہبی ہم آہنگی کی ضرورت

  

 برصغیر میں فرقہ واریت برسوں سے چل رہی ہے، لیکن ماضی میں یہ اختلافات پُرامن طریقے سے حل ہو جاتے تھے اور بڑے پیمانے پر کبھی نہیں پھیلتے تھے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ اب اس میں تشدد کا عنصر کیوں آ گیا ہے۔ جب ایک دفعہ شدت کا عنصر آیا اس کے بعد پھر کبھی ختم نہیں ہوا۔ 

کالعدم دہشت گرد تنظیمیں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے فرقہ وارانہ دہشت گردی کرتی ہیں۔ ان تنظیموں میں بعض مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے جنگجو گروپ بھی سرگرم ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں  بہت سارے فرقہ وارانہ گروپ ایک موقع کی تلاش میں تھے کہ انہیں جگہ ملے اور وہ اپنے نیٹ ورک کو فعال بنا سکیں۔

امریکی اخبار فارن پالیسی نے بھارت کی طرف سے دہشت گردوں کو مدد فراہم کرنے اور پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کے حوالے سے مذموم بھارتی عزائم کو بے نقاب کیا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کے حوالے سے کافی عرصہ سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اس میں بھارت کے مذموم عزائم کے حوالے سے بھی خبردار کیا جا رہا ہے۔پہلے تو بھارت صرف خطے میں ہی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہا ہے، لیکن جب سے اسے داعش کا ساتھ ملا ہے تو اس نے مذہبی گروپس خاص کر نوجوانوں کو استعمال کر کے دوسرے ممالک اور بین الاقوامی مذہبی تحریکوں کے ذریعے انتہاپسندی اور دہشت گرد نظریات کو فروغ دیا ہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ہندو نیشنلزم انتہا پسندی کو فروغ دے رہا ہے۔ اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ زیادہ ہندوستانی علاقائی اور عالمی دہشت گرد کارروائیوں میں  ملوث ہوں۔

بھارتی دہشت گردی صرف پاکستان تک ہی موقوف نہیں،بلکہ کشمیر میں بھی بھارت میں موجود انہی  دہشت گردعناصرنے بھیانک کردار ادا کیا۔ خود  داعش نے گزشتہ برس بھارت میں موجود اپنے دہشت گرد گروپوں کا باضابطہ اعلان بھی کیا تھا۔ایسا ہی داعش کا  ایک گروپ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے خلاف دہشت گردی میں بھی ملوث ہے۔ داعش نے کشمیر میں مرنے والے اپنے  3ساتھیوں کا ذکر اپنے جریدے  البنا  میں کیا ہے۔ اقوام متحدہ بھی کیرالہ اور کرناٹکا میں دہشت گرد گروپس کی موجودگی کا انکشاف کر چکا ہے۔

 بھارت کی انتہا پسند پالیسی ایک تباہ کن خطرہ ہے۔ اگر اس کا نوٹس نہ لیا گیا تو اس کے دور رس اثرات ہوں گے۔ بھارت کا دہشت گردی میں ملوث ہونا کوئی نئی بات نہیں۔بھارت کے پاکستان،افغانستان میں موجود نیٹ ورکس سے روابط، سر پرستی اور ملوث ہونے کے واضح ثبوت ہیں۔اس سے پہلے  بھارت صرف خطے میں ہی دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے، لیکن اب یہ تبدیل ہو رہا ہے، داعش کو استعمال کر کے مذہبی گروپس خاص کر نوجوانوں کو استعمال کر کے دوسرے ممالک اور بین الاقوامی مذہبی تحریکوں کے ذریعے انتہاپسندی اور دہشت گرد نظریات کو فروغ دیا ہے۔ 

تمام مذہبی رہنماؤں اور علماء کرام کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذہبی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد اْمت کو فروغ دینے کے لئے تمام کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی تاکہ دشمن کو اس محاذ پر بھی عبرتناک شکست ہو۔ حکومت کو ایسی راہ نکالنی ہو گی کہ اس مسئلہ کے حل کے لئے مل جل کے بیٹھیں اور جو گروہ کشیدہ صورتحال پیدا کرنے پر تلے ہوئے ہیں انہیں یہ بات باور کرائی جائے کہ پاکستان ایسے حالات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

مزید :

رائے -کالم -