اور اب نعیم بخاری کے نوے دن

اور اب نعیم بخاری کے نوے دن
اور اب نعیم بخاری کے نوے دن

  

تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ وطن ِ عزیز میں جب بھی کوئی صاحب ِ اقتدار خاص مدت میں حالات بدلنے کا دعویٰ کرتا ہے، وہ جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ خاص طور پر جس نے بھی نوے یا سو دِنوں میں پانسہ پلٹنے کا مژدہ سنایا، وہ ناکام ہی ثابت ہوا۔خود اس حکومت نے پہلے سو دِنوں میں نجانے کیا کیا بدل جانے کے دعوے کئے تھے،مگر سب نے دیکھا کہ آج اڑھائی سال گزر جانے کے باوجود حالات کا پرنالہ وہیں کا وہیں ہے۔ایک نوے دِن ضیاء الحق نے بھی دیئے تھے اور الیکشن کرا کے جمہوریت بحال کرنے کا اعلان کیا تھا،لیکن یہ نوے دن گیارہ برسوں پر محیط ہو گئے تھے۔ آج اس قسم کا دعویٰ ایک لطیفہ لگتا ہے، تاہم نعیم بخاری نے پی ٹی وی کا چیئرمین بنتے ہی یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ پی ٹی وی کو نوے دِنوں میں تبدیل کر دیں گے،اُس کی ساکھ بحال کریں گے اور پروگراموں کا معیار بہتر بنائیں گے۔یہ تو معلوم نہیں کہ پی ٹی وی کی جس ساکھ کی بحالی کا وہ دعویٰ کر رہے ہیں،کیا ہے،لیکن ساکھ بگاڑنے والی بات تو انہوں نے خود کر دی کہ پی ٹی وی ریاستی ادارہ ہے، اِس لئے حکومت کی پروجیکشن کرنا اُس کا بنیادی کام ہے۔دوسرے لفظوں میں انہوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ اپوزیشن اُن سے زیادہ توقعات نہ رکھے۔ کیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی ہے کہ پی ٹی وی کی سب سے زیادہ ساکھ اسی پالیسی نے تباہ کی ہے کہ وہ حکومت ِ وقت کا لاؤڈ سپیکر بن جاتا ہے۔ حال ہی میں پی ڈی ایم کے پشاور میں جلسے کو شبلی فراز نے ناکام قرار دیا تو کسی نے کیا خوب کہا کہ شبلی فراز آج بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ملک میں صرف پی ٹی وی موجود ہے، جو ہر دور میں حقائق کو مسخ کرتا رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان جب حکومت میں آئے تھے تو انہوں نے پی ٹی وی کی آزادی کا اعلان بھی کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ اُس پر اپوزیشن کا بھی اتنا ہی حق ہے، جتنا کہ حکومت کا۔اُس وقت اُن کی اس بات پر خاصی واہ واہ ہوئی تھی،لیکن پی ٹی وی نے آزاد ہونا تھا نہ ہوا۔ اب تو نعیم بخاری نے چیئرمین بن کر واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ریاستی چینل کا کام حکومت کے کاموں کی تشہیر کرنا ہے۔اُن کے اس بیان پر خاصی لے دے ہو رہی ہے۔پی ٹی وی قومی چینل ہے اور اس پر سب کی نمائندگی ہونی چاہئے۔ بجلی کے بلوں میں جو پی ٹی وی کی فیس لگ کر آتی ہے، وہ صرف پی ٹی آئی والے ہی ادا نہیں کرتے، بلکہ ہر سیاسی جماعت کے حامی ادا کرتے ہیں، اُن کی نمائندگی یا اُن کے پسندیدہ رہنماؤں کو پی ٹی وی پر وقت کیوں نہیں ملنا چاہئے۔ نعیم بخاری جیسے پروفیشنل آدمی سے یہ توقعات نہیں رکھی جا سکتیں کہ وہ ایک قومی ادارے کو اس طرح ایک پارٹی کا ترجمان بنانے کی بات کریں گے۔پی ٹی وی کی بربادی کا سبب ہی یہ ہے کہ اُسے دوسرے آزاد چینلوں کی طرح نہیں چلایا گیا،نہ صرف اُس کے خبرنامے اور ٹاک شوز کا معیار گرا،بلکہ ڈرامے اور دیگر تفریحی پروگرام بھی ناظرین کے لئے اپنا مقام کھو بیٹھے۔ نعیم بخاری اگر نوے دن میں پی ٹی وی کی بحالی کا دعویٰ کر رہے ہیں تو اپنی سوچ بدلیں،پی ٹی آئی کے حامی بن کر نہ سوچیں،بلکہ قومی ادارے کے سربراہ بن کر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

کچھ عرصہ پہلے تک یہ خبریں آئی تھیں کہ نعیم بخاری پارٹی سے اتنے مخلص ہیں کہ جن کیسوں میں وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوتے ہیں، اُن کی فیس تک نہیں لیتے۔کئی بار جب یہ خبریں آئیں کہ نعیم بخاری کو مشیر قانون یا اٹارنی جنرل بنایا جا رہا ہے تو وہ سختی سے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہتے تھے کہ میری عمران خان سے دوستی ہے اور یہ دوستی کسی مفاد یا عہدے کی محتاج نہیں،اس لئے مَیں کوئی عہدہ قبول نہیں کروں گا۔ اب  نجانے انہوں نے یہ عہدہ کیوں قبول کر لیا ہے؟وزیراعظم عمران خان ایک زمانے میں نواز شریف پر جہاں اور معاملات پر تنقید کرتے تھے،وہیں ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ انہوں نے اپنے ایک دوست عطاء الحق قاسمی کو پی ٹی وی کا چیئرمین بنا دیا۔عطاء الحق قاسمی کا تعلق تو پھر بھی فنونِ لطیفہ کے ساتھ گہرا ہے، نعیم بخاری کی شہرت تو ایک قانون دان کی ہے،انہیں ایک نشریاتی ادارے کا سربراہ کیونکر بنا دیا گیا ہے؟ظاہر ہے وہ ”پیا من بھائے“ ہوئے ہیں،عمران خان انہیں کوئی نہ کوئی صلہ دینا چاہتے تھے،سو قرعہ   فعال پی ٹی وی کی چیئرمینی کے حق میں نکلا۔

کسی نے کیا سچ کہا ہے کہ وزیراعظم ہر وہ کام کر رہے ہیں، جس پر وہ نواز شریف کو ہدفِ تنقید بناتے تھے۔اُس وقت تو وہ بڑے جوشیلے انداز میں کہتے تھے کہ نواز شریف مغل بادشاہ بنا ہوا ہے، اپنے درباریوں میں عہدے بانٹتا ہے، آج نعیم بخاری جیسے قریبی دوستوں کو نواز کر وہ خود بھی یہ مغلیہ دریا دلی دکھا رہے ہیں۔مجھے تو لگتا ہے خود نعیم بخاری نے بھی ایک بہت بڑا جواء کھیلا ہے۔اُن کی بہرحال ایک ساکھ رہی ہے کہ صحیح بات جہاں موقع ملے کہہ جاتے ہیں، لیکن پی ٹی وی کا چیئرمین بن کر تو وہ دن رات یہی کوشش کریں گے اور صرف اس سچ کو سامنے لائیں گے،جو حکومت کے حق میں ہو۔اُن کی یہ کوشش بھی ہو گی کہ آزاد میڈیا کا حکومت مخالف توڑ کرنے کے لئے پی ٹی وی کو استعمال کیا جائے۔ ظاہر ہے اسی پالیسی کی وجہ سے پی ٹی وی ناظرین میں غیر مقبول ہو چکا ہے اور اُسے دیکھنے والے اب صرف انہی علاقوں میں رہ گئے ہیں، جہاں کیبل نہیں پہنچی۔

پی ٹی وی کی ساکھ صرف اسی لئے خراب نہیں ہوئی کہ اُس پر حکومت کو زیادہ وقت ملتا ہے یا اُس کی تعریفوں کے پُل باندھے جاتے ہیں،بلکہ اس لئے تباہ ہوئی کہ اُسے سیاسی مخالفین کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے استعمال کیا گیا۔جب بیسیوں چینل لائیو مناظر کے ساتھ سچ دکھا رہے ہوں تو اکیلا پی ٹی وی چینل دوسری تصویر پیش کرے گا تو عوام اُس پر کیونکر یقین کریں گے؟اس لئے نعیم بخاری کے لئے پہلا مشورہ تو یہ ہے کہ وہ وفاداری نبھاتے ہوئے حکومت کے کاموں کاڈھنڈوراضرور پٹوائیں، تاہم اس ریاستی چینل کو اپوزیشن کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں یا پھر اپوزیشن کو بھی وضاحت کے لئے اتنا ہی وقت دیں، جتنا حکومت کو دیا گیا ہو۔دوسرا کام وہ یہ کریں کہ پی ٹی وی ڈرامے کو واپس لائیں۔ ایک زمانے میں پی ٹی وی ڈرامہ نہ صرف ناظرین میں انتہائی مقبول تھا،بلکہ اُس میں اصلاح کا پہلو بھی ہمیشہ سامنے رکھا جاتا تھا۔اُس ڈرامے کا احیاء ضروری ہے۔

مزید :

رائے -کالم -