ہم اب تک کیوں خاموش ہیں ؟ 

ہم اب تک کیوں خاموش ہیں ؟ 
ہم اب تک کیوں خاموش ہیں ؟ 

  

ہم سب میڈم شکیلہ سے بہت ڈرتے تھے  ۔ ایک تو وہ پڑھائی کے معاملے میں سختی    کا  مظاہرہ کرتی تھیں اور دوسرا وہ کلاس میں شور کرنے پر بہت خفا ہوتی تھیں ۔ مجھے یاد ہے کہ وہ  شور شرابہ کرنے پر  سو سو  مرتبہ  ’’ میں  آئیندہ خاموش رہوں گا  یا گی ‘‘ کا جملہ لکھنے کے لئے کہہ دیتی تھیں اور اسکے بعد کی سز ا یہ ہوتی تھی کہ لبوں پر انگلی رکھ کر  دیر تک  دم سادھے بیٹھنا پڑتا تھا ۔ 

سبھی بچے بچیاں پریشان رہا کرتے تھے  کہ میڈم شکیلہ  ہونٹوں پر انگلی رکھنے پر اتنا زور کیوں دیتی ہیں  لیکن کوئی ان سے اسکی وجہ پوچھنے کی جرات نہیں رکھتا تھا ۔ پھر جیسے جیسے وقت گذرتا گیا  ہم سب پر خاموشی کی اہمیت واضح ہوتی چلی گئی ۔ اس لئے اب کوئی سڑک پر حادثے کا شکار ہو جائے  تو ہم خاموش رہتے ہیں ۔ کسی خاتون یا معصوم بچے ،بچی کے ساتھ زیادتی ہو جائے ہم زبان کے ساتھ آنکھیں اور کان بھی بند کر لیتے ہیں ۔ 

کسی کے گھر چوری ہو جائے ، کوئی قتل ہو جائے  تب بھی ہم چپ کی چادر اوڑھ لیتے ہیں کیونکہ یہاں بولنا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا تو  مصیبت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ ظلم کے خلاف بولنے والا خاموش  گولی کا نشانہ بن جاتا ہے ۔ لیکن جب محلوں میں چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں  تو ہم خاموش نہیں بیٹھتے ۔  ہمیں یہ اعلان کرنے میں بہت مزا آتا ہے کہ فلاں کا بیٹا نشے کا عادی ہے  اوریہ کہ  فلاں کی لڑکی گھر سے بھاگ گئی ہے ۔ یا ہمیں یہ بات بہت اچھی لگتی ہے کہ فلاں میاں بیوی کے درمیاں ناچاقی ہو گئی ہے یا کسی کی اب تک اولاد نہیں ہے ۔ 

 ہم ذرا سی بات کا بتنگڑ بنانے میں ایک سکینڈ نہیں لگاتے ۔ یہاں ہم اپنے کام سے کام نہیں رکھتے ۔ ہم ان چیزوں کے بارے میں کیوں نہیں بولتے جن باتوں  پر زبان کھولنی چاہیے ۔ بچوں کی تعلیم  ، معاشی اور معاشرتی ناہمواری ، خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی ، ملازمت میں ناانصافی اور غیر مساوی وسائل  ،  بے روزگاری  اور نوجوانوں کے مسائل ،  ان ایشو ز پر ہم بات کیوں نہیں کرتے ؟  حالانکہ ہمیں بولنا تو ان مسائل کے بارے میں چاہیے ۔ 

ہمیں تو صرف ڈسپلن کے معاملات  پر جو قواعد و ضوابط بنائے ہیں ان پر خاموش رہنا چاہیے  یہ نہیں کہ جن باتوں پر ہونٹوں پر انگلی نہیں رکھنی چاہیے وہاں پر بھی چپ سادھ لی جائے ۔ خاموشی  ضروری ضرور ہےلیکن اتنی بھی نہیں کہ  ہم اصلاح معاشرہ کے لئے بھی آواز نہ اٹھائیں ۔  

۔

   نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -