نمل یونیورسٹی کی طالبہ  کائنات طارق کا مبینہ قتل، سینیٹر رحمان ملک نے بڑا قدم اٹھا لیا 

 نمل یونیورسٹی کی طالبہ  کائنات طارق کا مبینہ قتل، سینیٹر رحمان ملک نے بڑا ...
 نمل یونیورسٹی کی طالبہ  کائنات طارق کا مبینہ قتل، سینیٹر رحمان ملک نے بڑا قدم اٹھا لیا 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ سینیٹر رحمان ملک کا نمل یونیورسٹی کی طالبہ  کائنات طارق کے مبینہ قتل کا نوٹس لیتے ہوئےسیکریٹری داخلہ اور آئی جی پولیس اسلام آباد سے مبینہ قتل پر رپورٹ طلب کر لی۔

تفصیلات کےمطابق سینیٹررحمان ملک نے سیکریٹری داخلہ اور آئی جی پولیس اسلام آباد سے کائنات طارق کے مبینہ قتل پر رپورٹ اور بریفنگ طلب کرتے ہوئے کہا ہےکہ واقعے کی ہر پہلوسےمنصفانہ تحقیقات کی جائے تاکہ ملوث مجرموں  کو قرار واقعی سزا ملے۔کائنات طارق کیلئے انصاف کے متلاشی طلبا کے ایک گروپ نے سینیٹر رحمان ملک سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اسلام آباد کے ہلال احمر کے دفتر میں کائنات طارق کو بے دردی سے قتل کیا گیا،ان کا کہنا تھا کہ وہ نمل سے ایم ایس سی اکنامکس کررہی تھی اور ریڈ کریسنٹ پاکستان کی ملازمہ بھی تھی،انہوں نے  ایک سینئر عہدیدار پر شبہ ظاہر کیاہے جس نے پہلے کئی بار کائنات کو دھمکیاں دی تھیں،مشتبہ عہدیدار نے کائنات کو بہت دیر سے ہسپتال لایا جبکہ مشتبہ فرد نےکائنات کا موبائل بھی اپنے پاس ہی رکھا اور ابتدائی طور پر حوالہ دینے سے انکار کردیا۔

یاد رہے کہ ہلال احمر اسلام آباد میں ملازمت کرنے والی نمل یونیورسٹی کی ایم ایس سی کی طالبہ کائنات طارق کے والد نے ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا ہے کہ اس کی بیٹی ہلال احمر میں ملازمت کرتی تھی جہاں اسی ادارے کے جنرل سیکرٹری اور چار بچوں کے باپ خالد بن مجید نے اس کی بیٹی کے ساتھ چھپ کر شادی کی تھی،کائنات طارق نکاح کو اوپن اور اپنے جمع شدہ پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہی تھی جس پر خالد بن مجید نے ہلال احمر کے دفتر میں ہی کائنات طارق کو زہر آلود چیز کھلا کر بے دردی سے قتل کر دیا تھا ۔ دوسری طرف ہلال احمر کے سیکرٹری جنرل خالد بن مجید کوقانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے کر چھان بین شروع کردی ہے تاہم حتمی معلومات پوسٹ مارٹم رپورٹ کے آنےکےبعد ہی معلوم ہوسکیں گی۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -