اللہ تعالیٰ کی خوشنودی…… اولین خدمت خلق 

اللہ تعالیٰ کی خوشنودی…… اولین خدمت خلق 

  

 مولانازبیر حسن

”حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے،نہ دوسرے پر ظلم کرتا ہے نہ اسے (دشمن کے) سپرد کرتا ہے جو مسلمان بھائی کی ضرورت میں کام آئے گا اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت میں کام آئے گا اور جو کسی مسلمان کے رنج اور غم کو دور کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مصیبت کو دور کر دے گا اور جو کسی مسلمان کے عیب چھپائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب کو چھپائے گا۔(بخاری و مسلم)

 خدمت خلق سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا کے لیے اس کی مخلوق کی کے حقوق کی ادائیگی کرنا، اس میں صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانور بھی شامل ہیں۔ خدمت خلق میں بنیادی بات یہ ہے کہ خدمت محض خدمت کے جذبہ سے ہو کوئی ذاتی غرض نہ ہو۔ شہرت، دکھلاوا اور نام و نمود شامل نہ ہو داد تحسین، لوگوں کی واہ واہ مقصود نہ ہو۔ اگر کوئی شخص خدمت خلق سے متعلق کام کا ملازم ہو اسے اس کام کی تنخواہ ملتی ہو تب بھی وہ اپنا کام دیانتداری سے کرے اور عام شہریوں کو زیادہ سے اچھے سلوک سے پیش آئے اورشہریوں سے زیادہ فائدہ پہنچانے کی فکر میں رہے تو یہ بھی خدمت خلق کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔

 خدمت خلق بنیادی طور پر تین انداز سے کی جا سکتی ہے ایک تو مالی خدمت، یعنی اپنا مال دوسرے ضرورت مند انسانوں پر خرچ کرنا اور دوسرا انداز بدنی خدمت کا ہے یعنی اپنے جسم سے ایسے کام انجام دینا جس سے مخلوق خدا کو فائدہ پہنچتا ہو جیسے کمزور اور بیمار لوگوں کے ایسے کام کرنا جو وہ خود نہیں کر سکتے۔ خدمت خلق کا تیسرا انداز اخلاقی اور روحانی خدمت یعنی دوسروں کو برائی سے بچانا اور نیک راستے پر چلانا جہالت کی تاریکی دور کر کے علم کی روشنی سے منور کرنا۔

 اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

(لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ)

”یعنی تمارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ زندگی موجود ہے۔“

 چنانچہ خدمت خلق کی تعلیم اور اس پر عمل کا نمونہ بھی حیات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مکمل موجود ہے۔ مالی انداز سے بھی بدنی انداز سے بھی اور روحانی انداز سے بھی۔ گویا کہ خدمت کے ہر انداز سے خلق خدا کی خدمت کی۔

 مالی انداز سے خدمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حد تک فرمائی کہ اگر ایک درہم بھی گھر میں رات کو رہ جاتا تو نیند نہ آتی کہ یہ محتاج کو پہنچ جائے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک دفعہ ایک مہمان آیا، رات کے وقت گھر میں صرف بکری کا دودھ تھا۔ وہ مہمان کو دے دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے گھر والوں نے وہ رات فاقہ میں گزاری روایت میں لکھا ہے کہ اس سے پہلی رات بھی فاقہ سے گزری تھی۔ آپ فرماتے تھے ساری مخلوق اللہ کی عیال ہے، مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہے جو اللہ کی عیال کے ساتھ بھلائی کے ساتھ پیش آئے۔ آپ نے فرمایا جس کو دوسرے کے دکھ درد کا احساس نہیں اور جس کا دل دوسرے کی تکلیف دیکھ کر نہیں پسیجتا وہ اللہ کی رحمت کا ہرگز مستحق نہیں تم اس خدا کی مخلوق پر مہربانی کرو تاکہ تم پر خدا مہربان ہو جائے۔

 اس لیے ضرورت مند انسانوں کی ہر قسم کی ضروریات پوری کرنا خدمت خلق کی اہم ترین صورت ہے خدمت خلق کا ایک شعبہ یتیموں کی خدمت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یتیموں کی خاص طور پر خبر گیری فرماتے اور یہاں تک فرمایا کہ جو یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتا ہے تو جتنے بالوں پر اس کا ہاتھ گزرتا ہے اتنی نیکیوں میں اضافہ اور اتنے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوہ کی خبر گیری کو جہاد کے برابر قرار دیا کہ یہ بھی خدمت کی مستحق ہیں۔

 حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے گھر بکریوں کا دودھ دوہنے کے لیے کوئی نہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ ان کے گھر بکریوں کا دودھ دوہنے کے لیے تشریف لے جاتے رہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں مصروف رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد کرتا رہتا ہے۔ ایک مرتبہ تو یہاں تک فرمایا کہ مجھے رمضان بھر کے روزے رکھنے اور اس مبارک مہینہ میں مسجد حرام میں بیٹھ کر اعتکاف کرنے سے زیادہ عزیز یہ ہے کہ میں کسی مسلمان کی بوقت ضرورت مدد کروں۔ اس کا یہ  مطلب نہیں کہ فرض روزے اور فرض حج ادا نہ کرے اور بس اس کے بجائے دوسروں کی مد د کر دی جائے بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ فرض عبادات اپنی جگہ ادا کرے اور خلق خدا کی خدمت بھی کرتا رہے۔

 خدمت خلق کی فضیلت تو واضح ہوئی لیکن یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ پھر انسان خلق خدا کی خدمت میں اتنے شوق کا اظہار کیوں نہیں کرتا جتنا کرنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدمت خلق انسان کے لیے جب آسان ہوتی ہے جب انسان کے اندر قناعت ہو حرص ولالچ نہ ہو‘ دوسرے انسانوں سے ہمدردی ہو نفسانفسی اور بے حسی نہ ہو‘ دوسرے انسانوں سے محبت ہو نفرت نہ ہو۔

 اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ اور اسوہئ حسنہ میں قناعت، ہمدردی اور خلق خدا سے محبت کرنے کی خوب تاکید فرمائی۔ جب انسان کے اندر یہ خوبیاں پید اہو جائیں تو پھر وہ خدمت خلق کی مختلف صورتیں خود بخود انجام دینے لگتا ہے۔ جیسے رفاہ عامہ کے کام مثلاً مسجد کی تعمیر، سکول اور مدرسے قائم کرنا‘ ڈسپنسریاں قائم کرنا، ادویات مہیا کرنا، صاف پانی کا بندوبست کرنا، یتیموں کی کفالت اور بیواؤں کی خبر گیری کرنا، بیمار کی عیادت کرنا اس کی ضروریات کا خیال کرنا، سماجی بہبود کے کام انجام دینا‘ ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک اور ان کے کام آنا، مسافروں اور رشتہ داروں کے ساتھ تعاون کے طریقے اپنانا۔ یہ خدمت خلق کی مختلف صورتیں ہیں۔

 رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔ دور جدید میں یہ بھی خدمت خلق کی اہم ترین صورت ہے دوسری طرف وہ انسان جو کوڑا کرکٹ اور پلاسٹک کے لفافے ادھر ادھر پھینک دے اور سیوریج کے نظام کو درہم برہم کر دے گلیوں میں پانی کھڑا ہو گیا بدبو اور تعفن سے سب کو تکلیف ہوئی کارخانہ لگایا اس کا فاضل مادہ پانی میں بہا دیا۔ بیماریوں کے پھیلنے کا سبب بنا یہ دوسرے انسانوں کو تکلیف پہنچانے کی صورتیں ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ مسلمان وہ شخص ہوتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

 خدمت خلق میں رکاوٹ ایک یہ بات بھی ہوتی ہے کہ ”دوسرے لوگ تو یہ نہیں کرتے ہم کیوں کریں۔“ یا یہ خیال آتا ہے کہ دوسرا ہم سے اچھا سلوک نہیں کرتا ہم کیسے کریں۔ یہی سوال ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کر دیا‘ عرض کیا یا رسول اللہ بعض لوگ ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے ہم ان سے اچھا سلوک کیسے کریں؟ آپ نے فرمایا اگر تمہارے ساتھ وہ اچھا سلوک کریں اور تم بھی مقابلے میں ان سے اچھا سلوک کرو یہ تم نے نے ان کا بدلہ اتارا‘ احسان تو یہ ہے کہ تمہارے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہ کرے تب بھی تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ چنانچہ اسی جذبہ سے اسوہ حسنہ کی روشنی میں خدمت خلق کو بطور عبادت ادا کیا جائے تو جہاں خدمت خلق سے اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہو گی وہاں معاشرہ میں ایک دوسرے انسان کے دل میں باہمی احترام اور محبت پیدا ہو گی انسان کو خود اپنی ضرورت پورا کرنے میں جتنا سکون ملتا ہے اس سے کہیں زیادہ خدمت خلق کرنے والے انسان کو روحانی تسکین نصیب ہوتی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -