حمد

حمد

  

حفیظ تائبؒ

موجود بہ ہر سمت ہے اک ذاتِ الٰہی

دیتی ہیں گواہی یہی آیاتِ الٰہی

اجرامِ فلک ہوں کہ نباتات و جمادات

ہر چیز سمجھتی ہے ارشارات الٰہی

جتنے بھی کرشمے نظر آتے ہیں نمو کے

ہر آن کئے دیتے ہیں اثبات الٰہی

انساں کے حواس اس کے ہی ارشاد سے قائم

گھیرے ہیں خلائق کو عنایات الٰہی

آفاق در آفاق ہیں انوار اُسی کے

امکان در امکان نشانات الٰہی

پابند عناصر ہیں اسی ذات کے تائب

فطرت میں بھی جاری ہیں ہدایات الٰہی

حمدِ الٰہی

حفیظ تائبؒ

اللہ تعالیٰ ہے جہانوں کا اجالا

ہر آن ہے روپ اسی کا نیا اور نرالہ

ہرموج نفس اس کی عنایات پہ شاہد

ہر رنگ سحر اس کی صداقت کا حوالہ

سیاروں پہ آثار نمو اس کے کرشمے

 صحرا میں جھلک اس کی دکھائیں گل و لالہ

جنگل مں ی شجر اس کی توجہ سے ہرے ہیں 

ہر نوع خلائق کا وہی پالنے والا

کرتا ہے مداوا وہ پریشانی دل کا

دیتا ہے وہی عاجز و بے کس کو سنبھالا

حق اس کے محامد کے بیاں کیسے ہوں تائب

وہ فہم سے برتر ہے، وہ ادراک سے بالا

حمد باری تعالیٰ

حفیظ تائبؒ

دیں سکون تیرے نام یا عزیز یا سلام

دل کشا ترا کلام یا عزیز یا سلام

اپنے قرب خاص کا راستہ بتا دیا

دے کے سجدے کا پیام یا عزیز یا سلام

یا لطیف یا خبیر، سو بہ سو ہیں تیرے رنگ

تیرے عکس صبح و شام یا عزیز یا سلام

شب کے بعد دن چڑھے، دن کے بعد رات ہو

خوب ہے ترا نظام یا عزیز یا سلام

کائنات کو محیط تیری جلوہ ریزیاں 

تیری رحمتیں ہیں عام یا عزیز یا سلام

اس کرم کا کر سکوں شکر کس طرح ادا

دل میں ہے ترا قیام یا عزیز یا سلام

نعتِ کریمؐ

حفیظ تائبؒ

روح کی تسکیں ہے ذکر احمدؐ مختار میں 

شانِ رحمت جلوہ گر ہے آپؐ کے انوار میں 

اس مہ کامل کے جلووں سے منور عرش و فرش

اس گل رعنا کی خوشبو قریہ و بازار میں 

آپؐ کے دَر سے ملا انساں کو ذوقِ آگہی

ہر غم دل کا ہے درماں آپؐ کی سرکار میں 

ان کا ثانی کوئی پیدا ہو نہیں سکتا کبھی

صدق میں، اخلاص میں، گفتار میں، کردار میں 

تائب انداز کرم پر جان و دل سے ہو نثار

باریابی ہو جو دربار شہؐ ابرار میں 

نعتِ کریمؐ

حفیظ تائبؒ

اعتبار نطق ہے گفتار خیرؐ الانبیا

نو بہار خلق ہے کردر خیرؐ الانبیا

حسن بن کر زیست کے آفاق پر لہرا گئے

صورت قوس قزح افکار خیرؐ الانبیا

مشعل راہ ہدایت آپؐ کی شرع متیں 

ہیں وہ عالم کو محیط انوار خیرؐ الانبیا

رنگ و بوے دہر پامال خزاں ہو جائے گا

کم نہ ہو گی نزہتِ گلزارِ خیرؐ الانبیا

سر جھکاتے ہیں فقیر و تاجدار آ کر یہاں 

اللہ اللہ شوکتِ دربارِ خیرؐ الانبیا

کیوں نہ تائب آبروے مصطفیؐ پر جان دیں 

موت پر ٹھہرا ہے جب دیدار خیرؐ الانبیا

حمدِ باری تعالیٰ

حفیظ تائبؒ

لائقِ حمد حقیقت میں ہے خلاق جہاں 

منتظر جس کے اشارے کے ہیں سارے امکاں 

اس کے ارشاد سے ذروں میں توانائی ہے

اس کے الطاف سے ہے زیست کراں تابہ کراں 

اس کی قدرت کے مظاہر مہ و مہر و مریخ

بحر و بر، دشت و جبل اس کی جلالت کے نشاں 

بھیجتا رہتا ہے وہ ابر وہ ہوا کے قاصد

سبزہ و گل سے وہ بھرتا ہے زمیں کا داماں 

نہ کوئی اس کے سوا حشر کے دن کا مالک

نہ کوئی اس کے سوا دہر میں مختار اماں 

وہ کسی سے بھی نہیں اور نہ کوئی اس سے

اس پہ بھی رکھتا ہے ہر شخص سے وہ رشتہ جاں 

اس نے آدم کو دیا اپنی نیابت کا شرف

اس کے احسان بھلا سکتا ہے کیسے انساں 

منکروں کا بھی وہی رزق رساں ہے تائب

بے نیازی ہے حقیقت میں اسی کو شایاں 

مزید :

ایڈیشن 1 -