صحابہ کرامؓ کی محبت اور اسوہ صحابہؓ کی اہمیت

 صحابہ کرامؓ کی محبت اور اسوہ صحابہؓ کی اہمیت

  

  مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی

مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور

 ”حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو میرے صحابہ ؓکے بارے میں (پھر تاکیداً فرمایا) اللہ سے ڈرو میرے صحابہ ؓکے بارے میں۔میرے بعد ان کو نشانہ (اور ہدف ملامت) نہ بنانا۔  جو ان سے محبت رکھے گا وہ میری وجہ سے محبت رکھے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ میری وجہ سے بغض رکھے گا۔ جو انہیں تکلیف دے گا اس نے گویا مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی تو اس نے اللہ کو تکلیف دی اور جس نے اللہ کو تکلیف دی تو قریب ہے کہ اللہ اس پرگرفت کر لے۔

(رواہ الترمذی، مشکوٰۃ ص554)

 میرے استاذ مکرم علامۃ الزمان حضرت مولانا شمس الحق افغانی نور اللہ مرقدہ نے کتاب ”صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اور ان پر تنقید“ کی تقریظ تحریر فرماتے ہوئے آغاز میں یہ لکھا کہ دین خداوندی اور اہل دین کے درمیان بسلسلہ ابلاغ دین بنیادی واسطے دو ہیں۔ ایک ذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوم آپ کے شاگردان مقبول عنداللہ جن پر رضی اللہ عنہم و رضواعنہ کا حکم الٰہی قرآنی شاہد ہے۔ ان دو واسطوں میں سے ایک واسطے سے بھی عقیدت اور اعتماد میں فرق آگیا تو استحکام دین کا خاتمہ ہو جائے گا۔(تحریر علامہ افغانی ؒ 11 شوال 1378 ھ)

 اسلام میں مرکز محبت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔ اہل عرب سے محبت اسی لیے ہے کہ وہ خدا کے برگزیدہ پیغمبر کا محبوب وطن اور قوم ہے۔

 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تم عرب سے تین باتوں کی وجہ سے محبت رکھو اس لیے کہ میں عربی ہوں، قرآن عربی ہے، اور اہل جنت کا کلام عربی ہے۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)

 مہاجرین صحابہؓ  تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قبیلہ اور خاندان سے ملے۔ انصار صحابہؓ نے غیر ہونے کے باوجود آپ ﷺ کی مدد کی۔ اس میں خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے سوا اور کیا جذبہ ہو سکتا تھا۔ اس لیے بہت سے مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصار صحابہؓ سے محبت آمیز کلمات فرماتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چند بچوں اور عورتوں کو ایک شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا۔ سب لوگوں میں سے تم مجھے بہت ہی محبوب ہو (دو مرتبہ فرمایا) راوی کہتے ہیں کہ آپﷺ کا یہ خطاب انصار کے بچوں اور عورتوں سے تھا (متفق علیہ) اہل بیت عظامؓ سے محبت کی اہمیت کا اندازہ اس روایت سے ہوتا ہے جو حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ آپﷺ  کے کندھے پر ہیں اور آپ ﷺ یہ دعا فرما رہے ہیں۔ اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما (متفق علیہ) اور شیخین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی نقل فرمایا کہ اے اللہ میں ان سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما اور جو ان سے محبت کرے ان سے بھی محبت فرما۔ اور پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اتنا اعلیٰ معیار قائم فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے ساتھ آپ ﷺ کی ہر چیز سے محبت، ہر ادا سے محبت۔

 عبید بن جریج نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا میں دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ النعال السبتیہ (بے بال چمڑے کے جوتے) پہنتے ہیں‘ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی جوتے پہنے دیکھا تھا اس لیے مجھے بھی ایسے جوتے پہننا پسند ہیں۔(رواہ الترمذی)

 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک درزی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ کھانا تیار کیا اور دعوت کی، میں بھی ساتھ تھا آپ کے سامنے جو کی روٹی اور شوربا پیش کیا۔ جس میں گوشت اور کدو کے ٹکڑے تھے۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کدو کے ٹکڑے پیالے میں تلاش فرما رہے تھے (آپ کو پسند ہونے کی وجہ سے) بس اس دن سے مجھے کدو بھی محبوب ہو گئے۔(رواہ الشیخان)

 اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کسی سبزی سے ثابت ہو جائے اس سے محبت کا کتنا خیال ہے تو پھر ان صحابہ کرامؓ                          سے محبت کرنا جن سے محبت کر نے کا حکم ہے کس قدر اہمیت اختیار کر جائے گا۔

 یہی وجہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نجات پانے والوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:ماانا علیہ واصحابی وہی راستہ حق ہے جس پر میں اور میرے صحابہ ؓ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب و سنت کی عملی تصویر اپنے صحابہؓ کے سامنے بطریق اسوہ پیش فرمائی۔ صحابہ کرام ؓنے اس کے ایک ایک خدوخال کو دیکھا اور بالکل اسی طرح نقل کر دی اگر اسوہ صحابہ کرامؓ پر اعتماد نہ رہے تو پھر نقوش سیر ت کہاں سے معلوم ہوں گے حضرت مولانا بدر عالم صاحبؒ لکھتے ہیں:

 اللہ تعالیٰ اپنے اور رسول کے درمیان تفریق کی اجازت نہیں دیتا اس طرح رسول اپنے اور اپنے صحابہ ؓکے درمیان تفریق کی اجازت نہیں دیتا۔ درحقیقت یہ انتہائی نادانی اور کجروی ہے کہ جو جماعت، امت اور اس کے رسل کے درمیان واسطہ ہے، اس کے اقوال و افعال کو ہم تک پہنچانے والی جو چیز ہے اس پر اعتماد نہ کیا جائے۔ اگر خدا کا رسول اپنی حیات میں ان پر اعتماد کر چکا ہے بادشاہوں سے قبائل کفار سے گفت و شنید ان ہی کی معرفت کی ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ امت ان پر اعتماد نہ کرے۔(ترجمان السنۃ جلد اول ص85)

 حضرت مولانا بدر عالم صاحب اسوہ صحابہؓ  کی اہمیت کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں۔ اسی اہمیت کے پیش نظر صحابہؓ  کی سنت کو ایک مستقل حیثیت دے دی گئی ورنہ جس طرح رسول کا طریقہ خدائے تعالیٰ کے طریقہ سے علیحدہ نہیں۔ ٹھیک اسی طرح صحابہؓ  کی سنت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے علیحدہ نہیں۔ اس لیے فرقہ ناجیہ کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ وہ ان دونوں طریق کی جو درحقیقت ایک ہی ہیں اپنے اپنے مرتبہ میں بزرگی و احترام کی قائل ہو بلکہ اس پر گامزن بھی ہو.(ترجمان السنۃ جلد اول ص85)

اسلام میں مرکز محبت اللہ اور اس کے رسول ؐ کی ذات ہے

مزید :

ایڈیشن 1 -