تحقیقات، تحقیقات اور تحقیقات

 تحقیقات، تحقیقات اور تحقیقات

  

مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک بار پھر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے ان کی مبینہ آڈیو پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس کے گناہوں کا بوجھ عدلیہ نہ اٹھائے، عدلیہ اپنے وقار پر لگے داغ خود دھوئے۔مریم نواز کا الزام تھا کہ ثاقب نثار صاحب نے انصاف کا قتل کیا،ان کی آڈیو گناہوں کا اعتراف ہے۔ انہوں نے معزز جج حضرات سے اپیل کی کہ وہ اس بات کا نوٹس لیں،کیونکہ انگلیاں ان پر بھی اُٹھ رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سابق جج ارشد ملک کو سچ بولنے کی پاداش میں عدلیہ سے نکال دیا گیا،لیکن ان کا فیصلہ اب بھی موجود ہے،اسی طرح گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس کا بیانِ حلفی بھی سامنے آیا، آڈیو ویڈیو پر تو شک کیا جا سکتا ہے، لیکن بیانِ حلفی پر نہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی جو کچھ کہہ چکے ہیں،وہ بھی ریکاڈ کا حصہ ہے۔مریم نواز نے مطالبہ کیا کہ شوکت عزیز صدیقی،اور رانا شمیم کو بلایا جائے، اور ان سے تصدیق کی جائے۔دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد احمد چودھری نے ایک پریس کانفرنس میں مریم نواز کی آڈیو کے حوالے سے گفتگو کی۔ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے آڈیو میں خود اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے مختلف میڈیا ہاؤسز کے اشتہارات کی بندش کا کہا تھا۔وفاقی وزیر حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سابق دور میں مریم نواز کی سرپرستی میں قائم کئے گئے میڈیا سیل کے ذریعے 15سے18 ارب روپے میڈیا ہاؤسز میں تقسیم کئے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مریم نواز کی سرپرستی میں میڈیا سیل نے ایک منظم طریقے سے صحافیوں کو خریدا، جبکہ مخالف صحافیوں کو سزائیں دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اشتہارات کی بندر بانٹ اور صحافیوں کو نوازنے کے معاملے کی تحقیقات کرائیں گے۔

پاکستان بار کونسل نے بھی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو ٹیپ کے حوالے سے سچ جاننے کے لیے ایک بڑا ٹروتھ کمشن قائم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے،سیکرٹری بار کونسل کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے کسی غیر متنازعہ سابق چیف جسٹس یا جج کی قیادت میں ٹروتھ کمشن بنایا جائے،اس میں وکلاء، سیاست دانوں اور صحافی برادری کی اہم شخصیات کو بھی نمائندگی دی جائے۔ یہ کمشن آڈیو ٹیپ کے حوالے سے مکمل چھان بین کرے،اور نتائج اخذ کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی بھی سفارش کرے۔یہ تجویز بھی توجہ طلب ہے۔

پاکستان کی فضا اِس وقت ویڈیوز آڈیوز اور ان سے متعلقہ بیانات سے آلودہ نظر آتی ہے۔رانا شمیم کے بیانِ حلفی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو سے یوں لگتا ہے، پاکستان کے سیاسی ماحول میں بھونچال سا آ گیا ہے۔ محترمہ مریم نواز کی آڈیو اس بھونچال میں مزید تیزی لے آئی ہے، اور دونوں جانب سے خواتین و حضرات آمنے سامنے ہیں، کیپٹن(ر) صفدر نے ایک بیان میں پیشگی وارننگ دی ہے کہ آنے والے دِنوں میں مزید ویڈیوز آ سکتی ہیں،لگتا ہے قومی سیاست اور قیادت ویڈیوز آڈیوز کے گرد جمع ہو گئی ہیں۔ غربت و افلاس اور مہنگائی کا شکار عام پاکستانی جو اپنی زندگی سے پہلے ہی بے زار ہے اس کھیل تماشے کو خاموشی سے دیکھ رہا ہے،اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کس بات پر یقین کرے،کس پر نہ کرے۔فواد چودھری نے مریم نواز کی آڈیو کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے،جس میں وہ بعض ٹی وی چینلز کو اشتہار نہ دینے کی ہدایت دے رہی ہیں،جس کا مطلب ہے کہ جناب چودھری نے آڈیو سیاست کی اہمیت کو تسلیم کر لیا ہے۔یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر آپ مریم نواز کی آڈیو کی تحقیقات کرا سکتے ہیں تو سابق چیف جسٹس کی آڈیو کی تحقیقات کیوں نہیں ہو سکتیں، گو مریم نواز نے خود اس آڈیو کا اعتراف کیا تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ آڈیو میں جو احکامات جاری ہوئے وہ سرکاری نہیں پارٹی اشتہارات کے حوالے سے تھے، بہتر تو یہی ہے کہ جناب چیف جسٹس خود اس صورتِ حال کا نوٹس لیں۔یہ آڈیوز ویڈیوز درست ہیں ان میں ایڈیٹنگ ہوئی ہے، انہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے یا یہ سرا سر من گھڑت ہیں۔اگر ایک بار دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو حکومت کو چاہیے کہ وہ خود اس سارے معاملے کی جانچ پڑتال کا اہتمام کرے۔سوال تو یہ بھی ہے کہ خود محترمہ مریم نواز اور ان کی جماعت عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹا رہی؟،اسی طرح جسٹس ثاقب نثار یا حکومت کی طرف سے ان الزامات کو غلط ثابت کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیوں نہیں کیا جاتا۔اگرالزامات درست ہیں تو پھر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، اور اگر ان الزامات کی صحت کی تصدیق نہیں ہوتی تب بھی پراپیگنڈہ کرنے والوں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔ لگتا یوں ہے کہ فریقین صرف میڈیا میں جنگ لڑیں گے جیسا کہ وہ لڑ بھی رہے ہیں،اگر ایسا ہے اور کوئی بھی بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے پر تیار نہیں تو بہتر ہو گا کہ اس بحث و تمحیص کو بند کر دیا جائے،ہم سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت اور اپوزیشن دونوں دعوؤں کی سچائی کے لئے عدالت نہیں جاتے، عدلیہ بھی اس معاملے کا نوٹس نہیں لیتی تو اس بحث سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔میڈیا میں الزامات کی چاند ماری فقط وقت کا ضیاع ٹھہرے گی۔اپوزیشن اور حکومت دونوں حقیقی ملکی مسائل پر فوکس کریں۔آئی ایم ایف معاہدے کے بعد حکومت ایک سپلیمنٹری بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔اپوزیشن اور حکومت اس پر اپنی توجہ مرکوز کریں، مہنگائی بے روز گاری آسمانوں کو چھو رہی ہے۔حکومت بڑے پن کا مظاہرہ کرے اور اپوزیشن کو اپنے ساتھ لے کر چلے۔

مزید :

رائے -اداریہ -