پٹرول پمپوں کی بند ش

پٹرول پمپوں کی بند ش

  

پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ڈیلر مارجن چھ فیصد نہ کرنے پر ملک بھر میں ہڑتال کر دی ہے، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے طول و عرض میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی بند ہونے سے عوام کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے بدھ کے روز نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ ہم نے کئی ہفتے قبل حکومت سے مارجن میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا،لیکن حکومت نے اسے درخوراعتنا ہی نہیں سمجھا،پٹرولیم ڈیلرز سے معاملات طے کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ شدید مشکلات کے باعث اب ہمارے لئے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اس نے پوری ملکی معیشت کو ہلا کر کر دیا ہے، قیمتیں بڑھنے سے ڈیلرز کی سرمایہ کاری ڈیڑھ سے دو گنا بڑھ چکی ہے لیکن ان کے مارجن میں اضافہ نہیں کیا جا رہا۔جمعرات کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا۔وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے شہریوں کو پریشان نہ ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ہم پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں،مارجن میں اضافے سے متعلق سمری ای سی سی میں پیش کر چکے ہیں، جس کا فیصلہ آئندہ اجلاس میں ہو جائے گا۔واضح رہے کہ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے قبل ازیں 5نومبر کو ہڑتال کا اعلان کیا تھا،لیکن وزارت پٹرولیم کی اس یقین دہانی پر کہ چند روز میں معاملہ حل ہو جائے گا،ہڑتال موخر کر دی گئی،اس دوران ایسوسی ایشن سے مذاکرات کیوں نہیں کئے گئے یہ اہم سوال ہے۔حکومت اگر بروقت ڈیلرز ایسوسی ایشن سے مذاکرات کر لیتی اور معاملہ افہام و تفہیم سے طے کر لیا جاتا تو آج ملک بھر میں پٹرول پمپوں کی ہڑتال کی نوبت نہ آتی۔

مزید :

رائے -اداریہ -