ابھی مزید دس سال کی ضرورت ہے؟

ابھی مزید دس سال کی ضرورت ہے؟
ابھی مزید دس سال کی ضرورت ہے؟

  

جتنا بھی پہلو بچانے کی کوشش کی جائے ممکن نہیں کہ آپ حالات حاضرہ سے صرف نظر کر سکیں۔حالات اب اس نہج پر پہنچ گئے کہ ہر شعبہ زندگی اپنے اپنے مسائل کیلئے احتجاج پر مجبور ہے اور حکومت جو ماہرین کی حامل ہونے والی جماعت کے طور پر برسراقتدار آئی‘ اب تک گڈگورننس (اچھی حکومت) کا مسئلہ ہی حل نہیں کر سکی اور ایک سودن میں سب ٹھیک کرنے کے دعویدار تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اب یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ نظام ہی پورا کرپٹ(بدعنوان یا رشوت خور) ہے۔اسے ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا اسی تقریب سے خطاب کے دوران وہ کہتے ہیں کہ آڈیوٹیپس ڈرامہ ہے اور میرے خلاف الزام لگائے جاتے ہیں۔

وزیراعظم کا یہ خطاب معنی خیز اس لئے ہے کہ اب حکمرانی کو چارسال ہونے والے ہیں۔اب تک کوئی ایک اہم مسئلہ بھی حل نہیں ہوا۔الٹا عوام کو روٹی کی   فکر تو تھی۔اب سواری کی پریشانی بھی لاحق ہو گئی ہے۔میرے خیال میں شاید پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی حکومت تھی۔جسے ابتدائی تین سال کسی بھی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔لیکن ہوا کیا‘ سابقہ ادوار کو کوستے ہوئے مشیروں‘ترجمانوں اور وزیروں کی فوج ظفر موج اور بقول شیخ رشیداور فواد چودھری تاریخ کی ”ماٹھی ترین“ اپوزیشن ہوتے ہوئے بھی یہاں مسائل تو کیا دکھ بڑھتے چلے گئے اور چلے جا رہے ہیں۔مہنگائی کے بارے میں تو اب بات کرنا ہی بے کار ہے کہ حکمرانوں کے نزدیک یہ عالمگیر مسئلہ ہے اور فواد چودھری نے نصیحت کر دی ہے کہ آمدنی بڑھاؤ۔یہ ہدایت شاید میرے اور آپ کے لئے نہیں کہ ہماری آمدنی ہی کم نہیں ہوئی۔مجموعی طور پر ایسا ہوا اور بے روزگاری بھی بڑھی۔البتہ آسامیاں ڈھونڈھ کر اپنے ساتھ آنے والے خوشامدی حضرات کو ”فٹ“ کیا جا رہا ہے۔ایسے میں حالات کو کون سدھارتا‘ البتہ وزرا اور ترجمان (ہمہ قسم) بیانات‘ الزامات اور جواب دینے کی مہارت ضرورت استعمال کر رہے ہیں۔جبکہ خود ہمارے محترم وزیراعظم کرپشن ختم کرنے کے عزم پر قائم ہیں۔حالانکہ ان کے علم میں بہت سے حضرات یہ لاتے رہے ہیں کہ بڑے پیمانے کی کرپشن سے ملکی خزانے کو نقصان ہوا اور ان سے اس بیانیے کو عوام میں پذیرائی بھی ملی ہے لیکن جو کرپشن نچلی سطح پر روزمرہ ہو رہی ہے۔جس کا تعلق براہ راست چھابڑی فروش سے ضلع کچہری جانے اور سڑکوں پر گاڑیاں چلانے والوں تک سے ہے۔حتیٰ کہ روزمرہ کی صفائی‘ اور سڑکوں گلیوں کی مرمت کے علاوہ سٹریٹ لائٹ جیسی سہولت بھی ناپید ہے۔

جہاں تک وزیراعظم کے تازہ ترین بیان یا خطاب کا تعلق ہے تو انہوں نے واضح کر دیا کہ ان کے لئے یہ عرصہ انتہائی ناکافی ثابت ہوا ہے اور ان کو مزید کم از کم دس سال کی ضرورت ہے اور ان کے ایسے ہی ارشادات کے باعث اپوزیشن الزام بھی لگاتی ہے اور اب تو ای۔وی۔ایم اور تارکین وطن کے ووٹوں کے حوالے سے تو وزیراطلاعات نے فرما دیا۔آئندہ انتخابات میں کامیابی ان 90لاکھ (یہ تعداد ضرور ہے تصدیق شدہ نہیں) تارکین وطن ہی کے باعث ہوگی۔ اس صورت حال کو ذرا دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ محترم کپتان پہلی اننگ میں اتنے سکور کر چکے کہ اب اپوزیشن کو فالوآن کرانا چاہتے ہیں لیکن جو حالت عوام کی ہو رہی ہے(جن کے نام پرسب کچھکیا جاتا ہے) اس سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک‘ والی بات ہے۔کہ نہ ہو گا بانس نہ بجے کی بانسری‘ جب عوام ہی نہ چاہے تو حکومت کس اور کس کے کام کی۔جو حالت ہوئی اور ہو رہی ہے اس سے تو یہی نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ کسی کو بھی عوام کی پرواہ نہیں کہ ابھی تک اپوزیشن الزام لگانے کے سواکچھ نہیں کر پائی اور خود اپنی حرکتوں سے عوام کا اعتماد حاصل نہیں کر پا رہی۔یہ درست ہے کہ جہاں تک سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے تو درجہ بدرجہ ان کے پاس کارکنوں کی تعداد ہے اور یہ کارکن اپنی جماعتوں کے احتجاج کی رونق بھی بڑھاتے ہیں۔

لیکن یہ یاد رہے کہ تحریک انصاف خصوصاً کپتان کے مخصوص پروپیگنڈہ نے متاثر بھی کیاہے اور عام آدمی کا ذہن ابھی تک تسلیم نہیں کر پا رہا کہ یہ حضرات بھی ان کے مسائل حل کر سکیں۔اس کے علاوہ جب آپ نے لوگوں کو دال روٹی کے چکر میں ڈال دیا ہے تو پھر وہ پولیس کی مار کھانے اور جیل جانے کو تیار نہیں ہیں۔اس کے لئے خود اپوزیشن کو اپنے کردار پر غور کرنا ہو گا کہ یہ جماعتیں ایک دوسرے سے بھی مخلص نہیں ہیں جبکہ ان کا ”مکو ٹھپنے“ کے انتظامات کے لیے ای وی ایم  اور تارکین وطن ہی نہیں۔ملک کے اندر بھی پریشر گروپ بنا دیئے گئے ہیں اور بعض ایسے افراد حکومت نے چن لیے ہیں جن کے ساتھ افرادی قوت تو شاید نہ ہو لیکن وہ کپتان کے مزاج کے مطابق بولتے بہت ہیں اس لئے ہماری اپوزیشن جماعتوں کو آنکھیں کھول کر حقائق کا اندازہ لگانا ہو گا اور اپنی اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے تحفظات کا ازالہ کرنا اور پھر مجموعی اتفاق رائے سے مل کر چلنا ہو گا۔کسی بھی تحریک کے لئے حالات تو سازگار ہیں لیکن یہ اپوزیشن کی اپنی کمزوری ہے کہ وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھا پارہی۔

جہاں تک وزیراعظم محترم کی مزید سالوں کے لئے نئے بیانے کا سوال ہے تو اپنے تجربے کی بناء پر عرض کروں کہ سدا بادشاہی اللہ کی ہوتی ہے ہم نے اپنی عمر میں حکمران آتے اور جاتے دیکھے ہیں۔مستحکم ترین حکومتوں کو لمحوں میں بگڑتے اور گرتے دیکھا ہے اس لئے یہ سوچ لینا کہ اب ہم نے انتظام کر لیا ہے اب کھل کھیلو‘ تو یہ بھی غور کر لیں کہ ان دنوں ہر شعبہ زندگی احتجاج پر آمادہ ہے اور سڑکوں کو الگ الگ رونق بخشی جارہی ہے حکومت اب اپنے کئے فیصلے واپس لینے پر مجبور ہو رہی ہے اور اگر یہ مذاکراتی سلسلہ ابتدا میں روا رکھا جاتا تو ایک کلچر بن جاتا اور تعریف ہوتی کہ حکومت بات چیت سے مسائل حل کرتی ہے لیکن اب یہ احساس جاگ گیا ہے کہ بچہ نہ روئے تو ماں بھی دودھ نہیں دیتی۔اب یہ احتجاجی سلسلہ جاری رہے گا اگرچہ اپوزیشن ماضی کی طرح ان سب سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر پا رہی۔لیکن تابکہ‘اس لئے اب بھی وقت ہے کہ وسیع تر قومی افہام و تفہیم کے ساتھ عوامی اور ملکی مسائل کومل کر حل کرنے کا سوچیں نہ تو کسی بڑے انقلاب کے بغیر نظام بدلتے ہیں اور نہ آئی ایم ایف سے امداد لے کر ترقی کی جا سکتی ہے۔البتہ عوام کی روٹی ضرور چھینی جاسکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -