انصاف، جنسِ نایاب کیوں؟ 

انصاف، جنسِ نایاب کیوں؟ 
انصاف، جنسِ نایاب کیوں؟ 

  

مشہور زمانہ فلسفی کنفیوشس کا ایک قول ہے۔

”گوشت کے بغیر سبزی کھانی پڑے، پینے کے لئے صرف پانی ملے اور سونے کے لئے تکیہ نہ ہو بلکہ بازو ہی کو تکیہ بنانا پڑے تو بھی یہ حال اس معاشرے سے بہتر ہے جس میں انصاف نہ ہو۔“

آج کل ملک میں انصاف کا ذکر بہت ہو رہا ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے پاکستانی معاشرہ انصاف کی محرومی کا شکار ہے۔ عدالتوں میں زیر التواء لاکھوں مقدمات کا حوالہ دیا جاتا ہے، صرف یہی اس بات کی شہادت نہیں کہ انصاف کچھوے کی رفتار سے ہو رہا ہے بلکہ دیگر ایسے بہت سے عوامل بھی ہیں جنہوں نے انصاف کے راستے میں سپیڈ بریکر کھڑے کر رکھے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے انصاف کے معاملے کو بھی پہلے وہ کرے پھر ہم کریں گے، کی نذر کر دیا گیا ہے۔ عدلیہ معاملہ حکومت پر ڈالتی ہے کہ وہ وسائل فراہم نہیں کر رہی اور حکومت یہ کہہ کر جان چھڑا لیتی ہے کہ انصاف دینا عدالتوں کا کام ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ادارے کا بھرپور دفاع کیا۔

انہوں نے اعلیٰ اور زیریں عدلیہ کی طرف سے انصاف فراہم کرنے میں کسی تساہل کو تسلیم نہیں کیا۔ انہیں ایسا کرنا بھی چاہئے تھا، اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ملک میں عدلیہ ایک مؤثر ادارے کے طور پر موجود ہے۔ اس میں اگر لاکھوں کیسز زیر التواء ہیں تو یہ بھی اس امر کا ثبوت ہے کہ عوام اب بھی انصاف کے لئے عدالتوں کا دروازہ ہی کھٹکھٹاتے ہیں۔ تاہم اس بات کو بھی تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ ہمارے ہاں نظامِ انصاف سست روی کا شکار ہے۔ یہ تاثر بھی عام ہے کہ جو وسائل رکھتا ہے، اچھا وکیل کر سکتا ہے، فائل کو تیز چلا سکتا ہے، وہ جلد انصاف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اسے کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ کوئی وکیل رکاوٹ ڈالتا ہے اور نہ عدالتیں اسے تاریخ پر تاریخ دیتی ہیں، مگر جو عام پاکستانی ہے، مہنگا وکیل نہیں کر سکتا، قدم قدم پر درکار وسائل سے محروم ہے وہ اس ملک میں انصاف کا صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔

ہمارے ہاں ہمہ قسم کی عدالتیں وافر تعداد میں موجود ہیں، کچہریاں کام کر رہی ہیں، ہر روز لاکھوں سائلوں کی عدالتوں کے باہر فہرستیں بھی آویزاں ہوتی ہیں مگر اس کے باوجود تاثر یہی ہے کہ ملک میں انصاف نہیں ملتا، اگر ملتا بھی ہے تو اس کے لئے برس ہا برس کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کئی ایک تو انصاف کی راہ تکتے تکتے دنیا سے گزر جاتے ہیں، یہاں تو ایسے واقعات بھی ہو چکے ہیں کہ کسی کی اپیل پر جب سپریم کورٹ نے اس کی رہائی کا حکم دیا تو یہ عقدہ کھلا اسے تو دو سال پہلے پھانسی دی جا چکی ہے۔ آج تک ایسی کوئی ٹھوس وجہ تلاش نہیں کی جا سکی کہ آخر پاکستان میں انصاف اتنا مشکل اور ناپید کیوں ہے کہ عالمی سطح پر ہماری عدالتوں کا نمبر 130 ممالک میں سے 126 ویں پر کھڑا ہے۔ کہنے کو ہمارے ہاں نظام انصاف کو بہتر بنانے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا گیا، عام عدالتوں کے ساتھ ساتھ خصوصی عدالتیں بھی بنائی گئیں مگر انصاف عنقا ہی رہا۔ ویسے تو انصاف کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تاہم عدلیہ اور پولیس اس میں بڑے اسٹیک ہولڈرز ہیں یہ دونوں ایک دوسرے کے متحارب نظر آتے ہیں ججوں سے ملو تو وہ پولیس اور انتظامہ کی نا اہلی، کرپشن اور سست روی کو انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں پولیس اور انتظامیہ کے افسروں سے ملیں تو وہ ماتحت عدلیہ کے ججوں کے بارے میں شکایات کے دفتر کھول دیتے ہیں

اس ساری کشمکش سے ایک طرف وکیل حضرات فائدہ اٹھاتے ہیں اور دوسری طرف بے چارہ سائل پس کر رہ جاتا ہے ایک جج صاحب نے کچھ عرصہ پہلے مجھے یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ پاکستان میں ملک کے وزیر اعظم کے خلاف تو مقدمہ درج ہو سکتا ہے، کسی ایس ایچ او کے خلاف نہیں ہو سکتا کسی دباؤ یا عدالت کے حکم سے ہو بھی جائے تو کارروائی نہیں ہوتی، اکثر اوقات تو مقدمہ درج ہونے کے باوجود ایس ایچ او کو معطل نہیں کیا جاتا اور وہ با وردی بیٹھا، انصاف کے سینے پر مونگ دل رہا ہوتا ہے۔ فوجداری مقدمات میں پولیس کو اتنے زیادہ اختیارات حاصل ہیں کہ بڑے سے بڑا جج بھی زچ ہو کر رہ جاتا ہے کیونکہ جو حکم بھی دیا جائے وہ گھوم کر پولیس کی دسترس کا محتاج ہو جاتا ہے، یہ بات عام ہے کہ پولیس والے صرف سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ میں طلبی سے ڈرتے ہیں، ضلعی عدالتوں کو تو وہ گھر کی مولی سمجھ لیتے ہیں اکثر یہ خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ بار بار طلب کرنے پر بھی پیش نہ  ہونے والے ایس ایچ او کی تنخواہ قرق کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بھلا ایس ایچ او تنخواہ کا محتاج ہوتا ہے؟ کہ اس کی قرقی پر پیش ہو جائے گا۔ پولیس میں اصلاح کی کبھی کوشش ہی نہیں کی گئی آج بھی اسے انگریزوں کے بنائے ایکٹ سے چلایا جا رہا ہے۔ یہ ایکٹ انگریزوں نے برصغیر کے لوگوں کو غلام رکھنے کے لئے بنایا تھا ہم انگریزوں سے آزاد تو ہو گئے ان کا طوقِ غلامی گلے سے نہیں اتار سکے۔

پولیس کے ساتھ ساتھ ہمارا عدالتی نظام بھی خامیوں سے مبرا نہیں عدالتوں میں دو طرح کے مقدمات چلتے ہیں۔ دیوانی اور فوجداری، ان دونوں قسموں کے مقدمات میں رکاوٹ بننے والے عوامل بہت ہیں جو سارے صرف انصاف کو روکنے کے لئے اپنا پورا زور لگا رہے ہوتے ہیں دیوانی نوعیت کے مقدمات میں محکمہ مال بھی شامل ہو جاتا ہے، کیونکہ زمین کے جھگڑے اکثر اس کے پیدا کردہ ہوتے ہیں۔ اگر اس میں بیٹھے ہوئے پٹواری، تحصیلدار اور قانون گو غلط کام نہ کریں تو کوئی جائیداد پر قبضہ کر سکے اور نہ ہی لوگوں کو عدالتوں میں دھکے کھانے پڑیں عدالت کا کام اس وقت شروع ہوتا ہے جب مقدمہ دائر کر دیا جاتا ہے۔ یہاں سے ایک اور فریق بھی اس سارے عمل میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے کیل کانٹوں سے لیس ہو کر شامل ہو جاتا ہے، اس فریق کا نام ہے وکیل، وکلاء کو جو علم پڑھایا جاتا ہے اس میں درس تو یہ ہوتا ہے کہ انصاف کی فراہمی میں سرگرم کردار ادا کرنا ہے اور اس مقصد کے لئے قانون کے دائرے میں رہ کر کسی رکاوٹ کو آڑے نہیں آنے دینا مگر کسے معلوم نہیں کہ وکیل ہی مقدمے کے بروقت فیصلے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ پچھلے چند برسوں سے تو حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کوئی جج اگر تاریخ نہ دے تو اس پر حملہ کر دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں اب ایسے میں جج صاحبان کے پاس کیا اختیار رہ جاتا ہے کہ وہ مقدمات کے بروقت فیصلے کریں انہیں تو وکلاء کے اشاروں پر چلنا پڑتا ہے۔ ذرا سا اشارہ توڑا، عدالت کی میز ٹوٹ جائے گی یا کرسی اور انصاف بے چارہ دور کھڑا ہانپتا رہ جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -