انسداد دہشتگردی عدالت کے پراسکیوشن کیخلاف متنازع ریمارکس حذف کرنے کا حکم 

  انسداد دہشتگردی عدالت کے پراسکیوشن کیخلاف متنازع ریمارکس حذف کرنے کا حکم 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس سہیل ناصر اور مسٹرجسٹس احمد ندیم ارشد نے انسداددہشت گردی کی عدالت کے پراسکیوشن کے خلاف متنازع ریمارکس حذف کرنے کا حکم دے دیا فاضل بنچ نے قراردیاکہ عدالتی تحمل کا نظریہ اے ٹی سی جج کیلئے ایک نصیحت ہے عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کو ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت کرنے سے باز رہنا چاہئے، عدالتیں قانون کی تشریح کر سکتی ہیں مگر قانون کو تبدیل یا ضمنی شق تشکیل نہیں دے سکتیں،  اے ٹی سی جج نے پراسکیوشن کے خلاف پر تعصب اور جانبدارانہ آبزرویشن دی، عدالت نے 9صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں مزید کہاہے کہ اے ٹی سی کے جج نے بھتہ خوری کے مقدمہ میں ملزم کے جسمانی کے فیصلے میں پراسکیوٹر کے خلاف بلاجواز آبزرویشن دی،پراسکیوٹر کا کردار محض ایک ڈاکخانے کا نہیں بلکہ تفتیشی افسر کی تحقیقات کو چیک کرنا بھی ہے، اے ٹی سی جج نے بغیر ثبوت پراسکیوشن کے خلاف تضحیک آمیز ریمارکس تحریر کئے، انسداددہشت گردی کی عدالت کے جج کو پراسکیوٹرز کے دائرہ اختیار میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں، پراسکیوٹر کی رائے سے متفق ہونا یا نہ ہونا بلا شبہ اے ٹی سی جج کا اختیار ہے، اے ٹی سی جج نے آنکھیں بند کر کے اور عدالتی ذہن استعمال کئے بغیر پراسکیوٹر کو تفتیش کے حوالے سے اختیاراستعمال کرنے سے روکا، اے ٹی سی جج نے اس قانون کو نظر انداز کیا جو پراسکیوٹر کیخلاف قانونی کارروائی سے روکتا ہے، عدالتی نظر ثانی کے وقت عدالتی تحمل کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے،عدالتی تحمل ججوں کو تفویض اختیارات کے اندر رہ کر ہی کیسز کے فیصلے کرنے کا متقاضی ہے، ججوں سے توقع ہے کہ وہ قانون میں دیئے گئے اختیارات کے تحت ہی قانون کی تشریح کریں، حکومت اور پراسکیوٹر شگفتہ سرور نے انسداددہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائردرخواست میں موقف اختیارکررکھا تھاکہ اے ٹی سی کے جج نے بھتہ خوری کے مقدمہ میں ملزم محمد اجمل کے جسمانی ریمانڈکی درخواست پر متنازع ریمارکس دیئے۔

 اے ٹی سی جج نے سیکرٹری پراسکیوشن کو اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسکیوٹر کے خلاف بلاجواز محکمانہ کارروائی کا حکم دیا، اے ٹی سی جج نے پراسکیوٹر پر تعزیرات کی دفعہ 387 کے حقیقی معنی سے لاعلم ہونے کا الزام لگایا، انسداددہشت گردی عدالت کے جج نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 387 کو دہشتگردی ایکٹ کا حصہ قرار دینے کی سفارش سے اتفاق نہیں کیا، اے ٹی سی جج نے قانونی جواز کے بغیر کیسز میں جرائم ختم کرنے کے معاملات کا عدالت میں لانا خطرناک قرار دیا، عدالت سے استدعاہے کہ انسداددہشت گردی کی عدالت کے جج کے متنازع ریمارکس کو حذف کیا جائے۔

مزید :

علاقائی -