پہلی کمشنرٹووردی وزیرستان سائیکل ریس 28 نومبرکو منعقد ہوگی

  پہلی کمشنرٹووردی وزیرستان سائیکل ریس 28 نومبرکو منعقد ہوگی

  

پشاور(سٹی رپورٹر) پہلی کمشنر ٹوودی وزیرستان سائیکل ریس 28 نومبر کو شروع ہو گی جو کہ تین مراحل میں ہوتی ہوئی 30 نومبر کو وانہ جنوبی وزیرستان میں اختتام پذیر ہو گی۔ریس میں ملک بھر سے 50 سے زائد سائیکلسٹ شرکت کرینگے۔ ان خیالات کا اظہار پراجیکٹ ڈائریکٹر ضم اضلاع خیبرپختونخوا کلچر اینڈٹورازم اتھارٹی اشتیاق خان اور خیبرپختونخوا سائیکلنگ ایسوسی ایشن کے صدر نثاراحمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔پراجیکٹ ڈائریکٹراشتیاق خان نے کہاکہ خیبرپختونخوا کلچر اینڈٹورازم اتھارٹی، ضم اضلاع، پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن، خیبرپختونخوا سائیکلنگ ایسوسی ایشن، ایف سی جنوبی وزیرستان، ضلعی انتظامیہ، کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈائریکٹریٹ آف سپورٹس خیبرپختونخوا کے تعاون سے صوبے کے ضم اضلاع میں ریس منعقد کروا رہے ہیں جس کا مقصد وہاں سیاحت کو فروغ دینا اور نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے۔ صدر نثاراحمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ریس میں ملک کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، اسلام آباد، پاکستان آرڈیننس فیکٹری اور، بلتستان سائیکلنگ اکیڈمی سے سائیکلسٹ شریک ہونگے۔ ریس کا پہلا مرحلہ 28 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان سے شروع ہوگا اور 69 کلومیٹر کے راستہ طے کرتے ہوئے ٹانک کے مقام پر مکمل ہوگا جبکہ دوسرے مرحلے میں 68 کلومیٹر میں سائیکلسٹ ٹانک سے گومل زام ڈیم تک جائینگے۔ ریس کا تیسرا اور آخری مرحلہ 30 اکتوبر کو گومل زام ڈیس سے شروع ہوگا اور وانہ جنوبی وزیرستان کے مقام پر اختتام پذیر ہوگاجو کہ 52 کلومیٹر کا ٹریک شامل ہے۔ ریس میں شریک سائیکلسٹ تین مراحل میں کل 189 کلومیٹر کا سفر طے کرینگے۔ ریس میں 3 لاکھ کی انعامی رقم رکھی گئی ہے۔ پی ڈی اشتیاق خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے وژن کے تحت صوبے کے ضم اضلاع میں سیاحت اور کھیل کے فروغ کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ اس سے قبل اورکزئی میں بھی کامیاب سائیکل ریس کا انعقاد کیا گیا۔ خیبرپختونخوا میں کیمپنگ پاڈز کے کامیاب پراجیکٹ کے بعد اب یہ پراجیکٹ ضم اضلاع کی جانب بھی منتقل کرینگے۔ ضم اضلاع میں سیاحوں کیلئے آرام گاہیں، سیاحتی مقامات اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کیلئے مختلف مقامات کا سروے مکمل کرلیا گیا ہے۔ ان اضلاع میں ان سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ دیگر صحت مند سرگرمیوں کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -